The story of 20th April


شاذمہ مرزا

 اپریل کی خو بصورت شام ،ہر طرف بادل اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہیں تھیں، پچھلے کئی دنوں سے گرمی کا زور ملک               بھر میں زیادہ ہو گیا تھا اور اس میں اک دم موسم کی تبدیلی بہت خوشگوار ثابت ہوئی۔شام کی ساتھ ساتھ بادل سیاہ اور گہرے ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف عجیب سا اندھیرا پھیلنےلگا ، مجھے خوف سا محسو س ہوا مگر میں بہت جلدی ٹھیک ہو گئی اور اپنے کام میں لگ گئی،مجھے ابھی بیٹھے، پانچ ہی منٹ ہوئے تھے کہ میرے دوست کا میسج آیا کی ٹی۔وی میں کسی ائیر لائن کے کریش کی نیوز چل رہی تھی اور لائٹ چلی گئی پلیز ذرا دیکھ کی بتاو کیا ہوا ہے؟میں نے جلدی سے جیو نیوز لگایا تو معلوم ہوا کہ راولپنڈی ،چکلا لہ کی قریب پانچ بجے شام کراچی سے پرواز کرنے والا بوجا ائر لائن کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا ہے اور جہاز کسی آبادی والے علاقے میں گرا ہے۔اس خبر کے ساتھ ساتھ بارش بھی تیز ہو گئی اور دل میں بار بار جہاز میں سوار مسافروں کا خیال آنے لگا ، اور پھرکسی کے بھی زندہ نہ بچنے کی خبر بھی آگئی ، ۱۲۷ مسافر لقمہ اجل بن گے،کراچی کے حالات اور ٹارگٹ کلینگ کس سے چھپی ہو ئی ہے؟ مگر ،موت نے ان کا پیچھا یہاں بھی نہ چھوڑا۔وہاں لوگ کیوں مارے جاتے ہیں؟ اور یہاں کون ذمہ دار ہے یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب کوئی بھی نہیں دے گا،موسم کی خرابی یا اس طرح کی حالات میں کیا جہاز نہیں چلا کرتے یا پاکستان کا موسم دنیا بھر کے موسموں سے زیا دہ خطرناک ہے؟ یا وہ جہاز جن کو رن وے پر بھی نہیں چلنا چاہیے وہ اتنی بلندی پر ڈیرھ سو کے قریب انسانوں کو بیٹھ کرکیا تجربہ کے لیے اُڑایا گیا کہ کام بن گیا تو ٹھیک ورنہ چند انسان ہی مارے جائیں گے ۔کراچی میں نہ سہی ،فضا میں ہی سہی۔فرق حالات کا ہو گا پر حشر ایک سا ہی ۔رات کا آدھا پہر گزر جانے کے باوجود وہا ں پر لائٹ اور روشنی کا انتظام نہ ہو سکا ،آگ بھی نہ بھج سکتی اگر بارش نہ ہو تی اُس لمحے مجھے ایسا محسو س ہو رہا تھا جیسے مو سم کی خرابی اور بارش کی وجہ ہی یہی تھی جہا ں روشنی کا بندوبست نہ ہو سکا ،وہا ں آگ بجھانے کا عملہ کیسے پہنچ سکتا تھا ؟ ساری رات نیوز چینلز پر اپ ڈیٹس چلتی رہی ۔جہاز پر سوار لوگوں کے عزیز و اقارب ،ماں باپ ،روتا پیٹتا دیکھایا جاتا رہا۔

 اگلی صبح میں اپنے آفس گئی مگر میں دماغی طور پر وہا ں حاضر نہیں تھی جب مجھے پتا چلا کہ امدادی کام مکمل ہو چکا ہے تو میں آخر کار ۲بجے کے قریب اپنے چند دوستوں کے ساتھ حادثہ والی جگہ پر پہنچ گئی ۔پنڈی سے اُس گاوں تک پہنچتے بہت دیر ہو گئی جب گا وں کی پا س پہنچے تو اندازہ ہو گیا کہ رات یہا ں کیا حا ل ہو گا۔اور ایک بار پھر میں نے سوچا کہ کو ئی توایسا لمحہ ہو گا جب ہم ان نا گہانی آفتوں سے نپٹ سکیں گے۔ مشکلیں اور مصیبتیں آتی ہیں مگر اُن کو مزید مُشکل کیوں بنا دیا جاتا ہے؟ گاوں میں عجیب سا عالم تھا،گاڑیوں کی آمد و رفت سے کیچڑ بن چکا تھا گاوں کے لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے آنے والے لوگو ں کو بارش سے بچانے کے لیے کھول دیے تھے ،گاوں کی عورتیں سب کو رات کا حال سُنا رہی تھی کہ کیا ہوا تھا ۔مجھے بھی ایک عورت نے ساری صورت ِحال سنائی کہ جہاز پر ایک دم آسما نی بجلی پڑی اور وہ نیچے کی طرف تیزی سے آیا اور زمین پر لگتے ہی وہ ایک زور دار آواز کے ساتھ اُوپراُٹھا اور فضا میں پھٹ گیا اور بارش کی ساتھ ساتھ انسانی گوشت کے ٹکڑے ،ڈیڈ باڈیز اور سامان ، ا یسے نیچے گرنے لگا جیسے کبھی بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گا ۔اُس وقت بھی جیسے فضا اور زمین خود بول رہی تھی کہ میں نے لوگو ں کو جلتے ،کٹتے اور بکھرتے دیکھا ہےمتا ثرہ گھروں کی دیواریں اور چھتیں خون آلود تھیں اور ہر طرف جہاز کے جلے ہو ئے ٹکرے پڑے ہو ئے تھے ،جگہ جگہ مسافروں کا سامان بکھرا پڑا تھا ، جلے ہوئے کپڑے ،بیگ ،ٹوٹے ہوئے برتن ،بچوں کی کتابیں ،میک اپ کا سامان ، میری نظر ایک جگہ رُک نہیں رہی تھی ، میں خود کو مُسافروں کی جگہ رکھ کر سوچتی رہی کہ کیا سوچ رہیں ہوں گے؟کیا کیا پلان بنا کر اسلام آباد آئے تھے؟

 میں ہمیشہ سُنتی آئی ہوں کہ کسی کی قربانی رائیگاں نہیں جاتی تو ان جانوں کی قربانیوں سے ہم کیا سبق لیں گے؟ یا ہمیں ٹی۔وی کے لیے بریکینگ نیوز ، تبصرے کے لیے ٹاپک یا لکھنے کے لیے عنوان مل جاتا ہے۔یا صرف میڈیا اپنے حصہ کی ذمہ داری با خوبی انجام دیتا ہے اور بہت سی خبروں کی طرح ان کی جگہ بھی اوربہت سی بریکینگ نیوز آ جائیں گی۔اپنوں سے بچھڑنے کی تکلیف اور اذیت ناک صورتِ حال کہیں بھی اور کسی پر بھی آسکتی ہے۔دنیا کا نظام رُکتا نہیں مگر احساسِ جرم میں جینے کے لیے بے حِس ہونا ضروری ہے۔ روز بہت کچھ ایسا ہو تا دیکھ کر اب بڑی سے بڑی بات اور خبر دل کو خوف ذہ نہیں کرتی اور شاید اسی لیے اس کا حل نہیں نکلتا کہ ہم نے ان سب چیزوں کو مان لیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s