Uncategorized
Comment 1

گھر نھیں بیٹھتی


وسعت اللہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی جن سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں صحافت، ابلاغِ عامہ یا ملٹی میڈیا کے کورس پڑھائے جاتے ہیں ان میں لڑکیوں کی تعداد اگر لڑکوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ اخبارات، خبررساں ایجنسیوں، ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر مردوں کے مقابلے میں خواتین خال خال نظر آتی ہیں۔

کاش اے پی پی سمیت کسی سرکاری یا غیر سرکاری خبررساں ایجنسی کی سربراہ کبھی کوئی عورت نظر آئے۔ کبھی ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ہی کوئی عورت ہو۔پاکستان ٹیلی ویژن کی پینتالیس سالہ تاریخ میں صرف ایک عورت مینجنگ ڈائریکٹر اور ایک عورت ڈائریکٹر پروگرامز کے عہدے تک پہنچ پائی۔

صرف ایک خاتون ڈاکٹر ملیحہ لودھی ایک انگریزی اخبار کی ایڈیٹر بن سکی۔ آج تک ایسا کیوں ہے کہ کوئی عورت اس قابل نہ سمجھی گئی کہ کسی اردو یا علاقائی زبان کے اخبار کی ایڈیٹر بن سکے۔صرف ایک اردو ہفت روزہ اخبارِ خواتین ایسا تھا جس کی ایڈیٹر عورت تھی۔صرف دو سیاسی انگریزی ماہنامے ہیرلڈ اور نیوز لائن ایسے ہیں جن میں خواتین ایڈیٹر ہیں۔

خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خاطر میں لائے بغیر زیادہ تر کو جازبِ نظر نیوز اینکر یا محفوظ شعبوں کی رپورٹر کے طور پر موقع دیا جاتا ہے۔ان چینلوں میں ذمہ دار اعلیٰ انتظامی پوزیشنوں سمیت باقی سب مردانہ ہے۔نجی ریڈیو چینلوں پر اگر خواتین ہیں تو بیشتر ڈی جے کے طور پر گپ بازی یا نغماتی پروگراموں کے لئے موزوں سمجھی جاتی ہیں

خواتین کے حقوق کے بارے میں مختلف تحقیقی محاذوں پر کام کرنے والی سرکردہ پاکستانی تنظیم ’عکس‘ نے پاکستانی میڈیا میں خواتین کے لئے امکانات پر اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جب سے نجی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کو آزادی ملی ہے خواتین صحافیوں اور کارکنوں کے لئے بھی مواقع بڑھے ہیں۔

لیکن تناسب دیکھا جائے تو اتنے مواقع کھلنے کے باوجود نئے میڈیا میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور سپورٹس رپورٹنگ کو آج بھی مردوں کا قلعہ گردانا جاتا ہے۔مقبول ٹی وی چینلز پر جتنے بھی سیاسی مباحثے پیش کئے جاتے ہیں ان کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہر چینل پر حالاتِ حاضرہ کا اوسطاً ایک پروگرام کوئی خاتون کر رہی ہے۔

خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خاطر میں لائے بغیر زیادہ تر کو جازبِ نظر نیوز اینکر یا محفوظ شعبوں کی رپورٹر کے طور پر موقع دیا جاتا ہے۔ان چینلوں میں ذمہ دار اعلیٰ انتظامی پوزیشنوں سمیت باقی سب مردانہ ہے۔نجی ریڈیو چینلوں پر اگر خواتین ہیں تو بیشتر ڈی جے کے طور پر گپ بازی یا نغماتی پروگراموں کے لئے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔

میڈیائی خواتین کے آگے بڑھنے کی راہ میں ایک بنیادی رکاوٹ بے لچک نظام الاوقات بھی ہے۔معاشرتی پیچیدگیوں کے سبب وہ زیادہ دیر تک گھروں سے باہر نہیں رھ سکتیں اور اس مشکل کے باوجود انتظامیہ انہیں نہ تو لچک دار اوقاتِ کار کی سہولت دیتی ہے۔

انکے بچوں کے لئے کسی ڈے کئیر سنٹر کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ۔نہ ہی انکے گھر آنے جانے کے لئے ایسی ٹرانسپورٹ کی سہولت ہے جو صرف خواتین کے لئے ہو اور یوں وہ آتے جاتے شکی محلے داروں اور اہلِ خانہ کی چے مے گوئیوں سے محفوظ رہ سکیں۔حتی کہ اکثر اداروں میں خواتین کو علیحدہ ٹائلٹ کی سہولت بھی میسر نہیں ۔اور جہاں ہیں بھی وہاں بھی مرد ان ٹائلٹس پر اپنی جزوی ملکیت جتاتے رہتے ہیں۔

میڈیا نے بزعمِ خود معاشرے کو خواندہ بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔لیکن جب عورت اور مرد کے لئے پیشہ ورانہ مواقع اور حوصلہ افزائی کا سوال اٹھتا ہے تو میڈیا مشینری اکثر اپنی ہی خاتون کارکنوں کے لئے ایک ایسے ناخواندہ ، بے حس، تنگ نظر، لٹھ باز مرد میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے پاس ایک ہی طعنہ ہوتا ہے۔’اگر اتنے ہی نخرے ہیں تو گھر کیوں نہیں بیٹھتی۔‘

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

  1. because of male chauvinism and also defeatist attitude of most of women who give up.

    But this report is factually not correct. there had been women other than two he mentioned…Quatrina Hosein was Editor The News and then SAWMOnline and headed AFP Pakistan….Beena Sarwar was Editor The News on Sunday, Kamila Hayat was Editor The News Lahore, Jugnu Mohsin Editor TFT, Shirin Mazari who is editor The Nation, Seema Mushtaq

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s