Uncategorized
Leave a Comment

ذمےداری کا تانا بانا


A Cross post from Urdu Blog-Sab Ka Pakistan

by Dr. Khalil Ahmad

جب اختیار اور آزادی کا رشتہ ذمےداری سے ٹوٹ جائے تو اصلاح اور درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ کون ہے جو اس بات سے انکار کرے گا کہ پاکستان میں ان دونوں چیزوں کے درمیان تعلق ناپید ہونے جیسا ہی ہو گیا ہے ۔

یہ دسمبر 2007 کی بات ہے ۔ 13 تاریخ کے ’دی نیشن‘ میں جسٹس کے ایم اے صمدانی (ریٹائرڈ) کا ایک مضمون بعنوان ’بلیم گیم اینڈ رسپانسیبیلیٹی‘ شائع ہوا ۔ میں نے اس مضمون کی بنیادی فکر سے اختلاف کرتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر کو خط لکھا جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:

بصد احترام میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مضمون اس مروج نقطہ ء نظر پر ہی مبنی ہے جس کے مطابق ہر چیز کے لیے ہر ایک کو ذمےدار قرار دیا جاتا ہے ۔ ’’ہم اپنی قومی زندگی کی ہر خامی کے لیے اپنے معاشرے کے ایک مخصوص گروہ کو چن لیتے ہیں، اس کو قصوروار قرار دیتے ہیں، اور خود ذمےداری سے دامن چھڑا لیتے ہیں ۔ سو، مثال کے طور پر یا تو ہم سیاستدانوں، بیوروکریٹس، ملٹری، یا عدلیہ، وغیرہ، پر الزام دھرتے ہیں ۔ خود کو کبھی کسی بھی چیز کے لیے ذمےدار نہیں سمجھتے جو ہماری قومی زندگی میں سے عنقا ہو چکی ہے ۔‘‘

یہ چیز معاملات کی تصریح کے بجائے انھیں اور الجھا دیتی ہے جو پہلے ہی اکثر لوگوں کو گمراہ کیے ہوئے ہے ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر کوئی ذمےدار ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کوئی بھی ذمےدار نہیں ۔ بلاشبہ، معاشرے میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے لیے ہر شہری ذمےدار نہیں، بلکہ سرکاری عہدے رکھنے والے ذمےدار ہیں ۔ ذمےداری کا تعین اس طرح ممکن ہے ۔ جو افراد سرکاری عہدے رکھتے ہیں، انھیں اختیار کے ساتھ ساتھ ذمےداری کا حامل بھی بنایا جاتا ہے ۔ وہ قانونی اور آئینی دونوں اعتبار سے جواب دہ ہوتے ہیں ۔ یہی انداز ہے جس میں ذمےداری کا تعین ہو سکتا ہے ۔ مثلاً، آئین کا تحفظ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی آئینی ذمےداری ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ آئینی اعتبار سے آئین کی تحریف و ترمیم کے ذمےدار قرار پاتے ہیں ۔

یہ خط 26 دسمبر کے اخبار میں شائع ہوا ۔

لیکن میں اس سے بھی مطمئن نہیں تھا ۔ میں نے یہ خط جسٹس صمدانی صاحب کو بھی ایمیل کیا ۔ لیکن یہ پلٹ آیا ۔

معاملہ یہ ہے کہ جہاں تک اخلاقی ذمے داری کا تعلق ہے تو اس کے تعین کا انحصار ہم سب پر ہے اور ہم مختلف افراد کے بارے میں اپنی رائے دے کر ایسا کرتے بھی رہتے ہیں (جسے ہم اکثر اوقات ’غیبت‘ کا نام بھی دے دیتے ہیں) ۔ لیکن اخلاقی ذے داری کے ساتھ کوئی سزا، قید یا ہرجانے کی صورت میں جڑی نہیں ۔ ایسا صرف قانون ہی میں ممکن ہے ۔ لہٰذا، قانونی اور آئینی ذمے داری کا تعین جب قانون اور آئین تیار ہوتا ہے اسی وقت کر دیا جاتا ہے ۔ یوں اس کے تعین میں کوئی ابہام اور مشکل نہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ کسی چیز کے لیے ہم سب ذمے دار ہیں تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کوئی بھی ذمے دار نہیں ۔ کیا قانون یا آئین کے معاملے میں ہم ایسا کہ سکتے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی بھی ہوئی یا آئین سے انحراف بھی ہوا اور کوئی ذمے دار بھی نہیں ۔ تاہم اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ہم سب مسلسل یہی کہے جا رہے ہیں ۔ یعنی ہم کئی دہائیوں سے مسلسل یہی کہے جا رہے ہیں کہ پاکستان میں آئین اور قانون کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا یا ہو رہا ہے اس کی ذمے داری ہم سب پر ہے ۔ مراد یہ کہ کسی پر نہیں ۔ جبکہ صاف بات یہ ہے کہ قانون اور آئین کے حوالے سے ہونے والے جرائم اور انحرافات کی ذمے داری ان لوگوں پر آتی ہے جن کے پاس قانونی اور آئینی اختیار تھا اور ہے ۔

مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قانون اور آئین کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے ۔ اس سے رجوع لانا ہماری اشرافی شان کے خلاف ہے ۔ لیکن ہم لوگ جو اشرافیہ اور طبقہ ء خواص میں سے نہیں انھیں تو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر معاملے میں قانون اور آئین سے رجوع لانے میں ہی ہمارے مسائل کا حل موجود ہے ۔ اور جہاں تک ذمے داری کے تعین کا تعلق ہے تو یہ بڑا سیدھا سا معاملہ ہے کہ جنھیں قانونی یا / آئینی اختیار دیا گیا انھیں سے اس کی جواب دہی ہونی چاہیے اور ملک میں جو بھی قانونی اور آئینی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں اس کے ذمے داری انھیں کے سر ڈالی جانی چاہیے ۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s