Uncategorized
Leave a Comment

پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان کیسے بنا؟


                   By Dr Khalil Ahmed                

تاریخ میں جانا ضروری نہیں ۔ یہاں بس کچھ اہم چیزوں کی طرف اشارہ کرنا کافی ہو گا ۔

اول تو یہ کہ کسی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کرے ۔ لیکن اسی طرح کسی میں یہ حوصلہ اور جرأت بھی نہیں ہوتی کہ وہ عام چلن کے برخلاف ان کی پابندی اور پاسداری کرے ۔

اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک معاشرے، ماحول میں پہلے سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے تو اکثریت بھی ایسا ہی کرنے لگے گی ۔ یعنی انھیں اس کا کوئی شوق نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں، لیکن چونکہ اس معاشرے کے افراد کی ایک ’’معتد بہ تعداد‘‘ ایسا ہی کر رہی تھی، لہٰذا، اکثریت نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ۔

دوسری بات یہ کہ اس اکثریت میں اتنا حوصلہ اور جرأت نہیں تھی یا نہیں ہوتی کہ وہ تندی ِ بادِ مخالف کا مقابلہ کرے، اور اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پابندی اور پاسداری کرے ۔ ہاں، چند ایک سرپھرے ہوتے ہیں، ہو سکتے ہیں، جو یہ روگ پالے رہتے ہیں ۔

مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ اکثریت ایسی نہیں ہوتی ۔ اور غالباً اس سے ایسی توقع بجا بھی نہیں ۔

مگر یہ اکثریت ایسی کیوں نہیں ہوتی، اور اس سے ایسی توقع بجا کیوں نہیں؟

بات یہ ہے کہ بالعموم یہ اکثریت ’’پیروکار‘‘ نوعیت کی ہوتی ہے ۔

انھیں ’’پیروکار‘‘ نوعیت کا نہیں ہونا چاہیے، یہ میری قوی رائے ہے ۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ اکثریت کو ’’مثالیں،‘‘ ’’نمونے،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ درکار ہوتے ہیں ۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ خود ’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ نہیں بننا چاہتے، ڈرتے ہیں ۔

’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ بننے کے لیے جو قربانی دینی پڑتی ہے، جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یہ وہ قربانی نہیں دینا چاہتے، وہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے ۔

یہ بات نہیں کہ یہ ایس نہیں کر سکتے ۔ یہ ایسا کر سکتے ہیں ۔ لیکن ڈرتے ہیں ۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس میں محنت زیادہ لگتی ہے ۔

اور غالباً اسی وجہ سے، اور اپنی اسی کمزوری کو چھپانے کے لیے، یہ خود کو یہ باور کروا لیتے ہیں کہ ہم معمولی لوگ ہیں، ہم مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل نہیں بن سکتے ۔ غیرمعمولی نہیں بن سکتے ۔

سو، یہ لوگ، یہ اکثریت، خود سے باہر مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل تلاش کرتی ہے ۔ اور ان کی پیروکار بن جاتی ہے ۔ ان کے تصور اور ایمیج کے اندر پناہ ڈھونڈ لیتی ہے ۔ ڈرے ہوئے لوگ!

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ وہ معاشرہ، ماحول کیسے بنتا ہے جس میں یہ اکثریت اسی سمت بہتی رہتی ہے جدھر یہ معاشرہ، ماحول بہ رہا ہو ۔

یہاں مجھے کچھ اسی طرح کی ایک بات یاد آتی ہے جو کافی عرصہ پہلے اسی تناظر میں لکھی تھی: معاشرہ بنانے والے لوگ اب کہاں؛ ہاں، وہ لوگ ہیں جنھیں معاشرے نے بنایا ہے ۔

اصل میں یہ مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل ہی ہوتے ہیں جو معاشرہ، ماحول بناتے ہیں ۔اور اکثریت انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں کی پیروی کرتی رہتی ہے ۔

تو، پاکستان کے معاشرے، ماحول میں کیسی مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل پائے جاتے ہیں، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم، زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں لیڈر، رہنما، ممتاز شخصیات، سرکردہ افراد موجود ہیں ۔ یہ پاکستان کے معاشرے، ماحول کے لیے مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں ۔

یہ مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل، کیا ہیں، اور کیسے ہیں، آپ بھی، میں بھی، ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔

پاکستان میں اخلاقیات کی جڑیں، انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں نے کاٹی ہیں ۔ انھوں نے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو بڑی بے دردی سے پامال کیا ہے ۔

تو، باقی اکثریت نے انھیں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی پیروی کی، اور کر رہی ہے ۔

یوں سمجھ لیں کہ پاکستان میں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی اقلیت نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا، اور جب اکثریت ان کے نقش ِ قدم پر چلنے لگی، تو پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان بن گیا ۔

ایک بات اور ۔ اور یہ بھی مذکورہ بالا نظریے کو تقویت پہنچاتی ہے ۔ یہ لائینیں، مجھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ فاطمہ جناح سے منسوب بہت عرصہ پہلے میں نے کہیں پڑھی تھیں:

Corruption is just like snow
It falls on the cliffs of the hills
And melts down below

مطلب یہ کہ کرپشن، بد عنوانی برف کی طرح ہے ۔ یہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر گرتی ہے، اور وہاں سے نیچے کی طرف بہ آتی ہے ۔

اخلاقی اصولوں اور اقدار سے انحراف اور ان کی پامالی کا عمل بھی اسی طرح ہے ۔ یہ اوپر سے شروع ہوتا ہے، اور نیچے اور اطراف کی طرف بہ آتا ہے ۔ یہ سرطان، سر سے شروع ہو کر سارے جسم میں پھیلتا ہے ۔

دوسری اہم بات ۔ یہ ’’اوپر‘‘ یا ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کیا ہے، جہاں برف گرتی ہے اور پھر نیچے اور اطراف کو بہ نکلتی ہے ۔

یہ ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ وہی مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں، اکثریت جن کی پیروی کرتی ہے ۔

درست، مگر ان مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں میں ’’سر‘‘ کون ہے ۔ یعنی اس ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ میں سے ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے ۔

مراد یہ کہ جو مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل جو اوپر گنوائے گئے ہیں، یعنی سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم ـ یعنی پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں سے ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے، وہ ’’سر‘‘ کون ہے جہاں سے سرطان نیچے کی طرف پھیلا ہے، اور پھیلے چلا جا رہا ہے ۔

یہ سوال کوئی بہت زیادہ پیچیدہ نہیں، لیکن اہم بہت ہے ۔ ہمیں اس پر متوجہ ہونا، اور متوجہ رہنا چاہیے ۔

اس سوال کا جواب کسی معاشرے، ماحول کی نوعیت پر منحصر ہے ۔ یعنی کسی معاشرے، ماحول میں زندگی کے مختلف شعبوں اور اداروں کا ترکیبی بندوبست کس طرح کا ہے ۔ کونسا شعبہ یا/اور ادارہ باقی شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے ۔ یا ہر شعبہ یا/اور ادارہ اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہے ۔

اگر کسی معاشرے، ماحول میں شعبے اور ادارے اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہیں تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین پسندانہ، جمہوری، اور قوانین و ضوابط کی عملداری پر مبنی ہو گی ۔ یہ پاکستان کی مثال قطعاً نہیں ۔

اور اگر کسی معاشرے، ماحول میں کوئی ایک شعبہ یا/اور ادارہ، دوسرے شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے، تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین دشمن، غیر جمہوری یعنی اتھاریٹیرین (حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ) ہو گی ۔ اس صورت میں یہاں اس اضافے کی ضرورت نہیں کہ اس کی نوعیت، قوانین و ضوابط کی تضحیک پر مبنی ہو گی، کیونکہ حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ کا مطلب یہی ہے ۔ یہ پاکستان کی مثال نہیں ۔ بلکہ پاکستان اس کی مثال ہے ۔

یہاں لمبی بحث میں جائے بغیر میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستانی معاشرے، ماحول کی ترکیبی نوعیت میں ’’سیاست‘‘ باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

چونکہ پاکستان کے قریب قریب سو فیصد دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، وغیرہ، اور اسی طرح خود سارے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں، اور بہت عرصے سے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ پاکستان میں ’’فوج‘‘ تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی و غالب ہے، لہٰذا، یہاں اس بات کا دفعیہ کرنا ضروری ہے ۔

اول تو یہ کہ سیاستدان اگر یہ کہتے ہیں کہ فوج تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے تو ان کی بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ یہ اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ فوج ان پر حاوی ہے ۔ مگر پاکستان کے باقی تمام دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، خواہ وہ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں یا اس سے منسلک ہیں، یا بائیں بازو سے، اگر یہ بہ اصرار ایسا سمجھے جا رہے ہیں تو یہ بات غور طلب بن جاتی ہے ۔

غور طلب اس لیے کہ وہ اصل مجرم کی نشاندہی سے قاصر کیوں ہیں ۔ یا یہ کہ سیاستدانوں نے ایک ’’لائن‘‘ دے دی، اور وہ اس لائن کی لکیر کے فقیر بن کر رہ گئے ہیں ۔

لیکن اس معاملے کو اس طرح بیان نہیں کرنا چاہیے ۔ یقیناً سیاستدانوں نے ’’لائن‘‘ دی ہو گی ۔ انھوں نے انھیں اور اپنے ووٹروں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک نظریہ، ایک شوشہ چھوڑا ہو گا ۔ یہ ان کا کام ہے ۔ جناب صدر زرداری نے شروع سے اب تک کتنے شوشے چھوڑے ہیں اور بے چارے دانشوروں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں کو کتنا مصروف رکھا ہے ۔

خیر، چلیں چند دانشوروں نے سیاستدانوں کی دی گئی لائن کو دل سے لگا لیا ہو گا ۔ لیکن ہمیں باقی دانشوروں کو اسی ایک باسکٹ میں نہیں ڈال دینا چاہیے ۔ یہ ناانصافی ہو گی ۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں، یہ دانشور، یہ سارے دانشور، بزعم ِ خود یہ سمجھتے ہیں کہ فوج وہ ادارہ ہے جو باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

یہ دانشور اپنے اس نظریے کے حق میں یہ دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں:

فوج نے مارشل لا لگائے ۔ فوج نے سیاست میں مداخلت کی ۔ فوج نے سیاستدان پیدا کیے اور مارے ۔ فوج نے ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کیا ۔ فوج نے خارجہ پالیسی پر قبضہ کیا ۔ فوج نے دفاعی پالیسی پر قبضہ کیا ۔

درست، یہ ساری باتیں حقائق پر مبنی ہیں ۔ دانشوروں کو سلام!

لیکن کیا یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ حقائق خود کوئی سمت، کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ انھیں سمت ہم دیتے ہیں، انھیں معنی ہم دیتے ہیں ۔ مگر اپنی مرضی اور پسند سے نہیں، بلکہ قوانین اور ضوابط کے ایک نظام کے تحت ۔

یہاں میں بہت زور دے کر یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ہم حقائق کو کسی ’’نظام ِ فکر‘‘ کے تحت سمت اور معنی نہیں دیتے ۔ ایسا کرنا بد نیتی اور بد دیانتی ہے ۔ اس پر بات پھر کبھی ہو گی ۔

تو، پاکستان کا قوانین اور ضوابط کا نظام کیا ہے؟ یہ اس کا آئین ہے ۔ ہمیں اسے سامنے رکھ کر حقائق کو سمت اور معنی دینے ہیں ۔

آپ کہیں گے کہ پاکستان بننے کے بعد پچیس چھبیس برس تک تو کوئی آئین تھا ہی نہیں ۔ بلکہ اس دوران آئین بنانے اور توڑنے کا ایک تماشا لگا ہوا تھا ۔ تو جب کوئی آئین تھا ہی نہیں، تو پھر حقائق کو سمت اور معنی کیسے دئیے جائیں گے ۔

تسلیم، یہ آئین بنانا کس کا کام تھا ۔ کیا یہ آئین بنانا فوج کا کام تھا ۔ آئین بنانا بھی تو سیاستدانوں کی ذمے داری تھی ۔ پاکستان انھوں نے بنایا تھا ۔ پاکستان، فوج نے تو نہیں بنایا تھا ۔ سو، آئین بھی انھی سیاستدانوں کو بنانا چاہیے تھا ۔

چلیں، 73 کے بعد سے تو جیسا تیسا آئین موجود ہے ۔ حقائق کو اس کی مدد سے سمت اور معنی دیجیے ۔

کیا 73 کے آئین کے مطابق:

ـ فوج کا کام مارشل لا لگانا ہے
ـ فوج کا کام سیاست میں مداخلت کرنا ہے
ـ فوج کا کام سیاستدان پیدا کرنا اور مارنا ہے
ـ فوج کا کام ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کرنا ہے
ـ کیا خارجہ پالیسی بنانا فوج کا کام ہے
ـ کیا دفاعی پالیسی بنانا فوج کا کام ہے

آئین کی تھوڑی سے شد بد رکھنے والا بھی ان تمام باتوں سے انکار کرے گا ۔

تو، یہ سارے دانشور یہ اصرار کیوں کرتے ہیں کہ یہ سارے کام فوج کی ’’ذمے داری‘‘ تھے ۔ مراد یہ کہ یہ سارے کام فوج نے کیے ۔

ان دانشوروں کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے، اور یہ ضروری ہے، کہ فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا کس کی ذمے داری تھی ۔

میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ 73 کے آئین کی رو سے فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا سیاستدانوں کی ذمے داری تھی، اور ہے ۔

ایک اور ’’مجرم‘‘ کا نام لیا جاتا ہے ۔ اور یہ آئینی اور قانونی اعتبار سے مجرم ہے بھی ۔ یہ ہے عدلیہ ۔ ہاں، اس نے فوج کو جواز مہیا کیے ۔ اس کا آئینی اور قانونی احتساب ہونا چاہیے، اور ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن یہ احتساب کس نے کرنا تھا، عدلیہ کو قانون کے شکنجے میں کس نے لانا تھا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ سیاستدانوں نے ۔

تو کیا سیاستدانوں نے ایسا کیا ۔ آپ کے سامنے ہے ۔ ایسا کرنا تو درکنار، انھیں تو خود ’’جیبی عدلیہ‘‘ درکار تھی جو ان کے غیرآئینی اور غیرقانونی کاموں میں رکاوٹ نہ بنے ۔ ڈوگر کورٹ کس کی پسند تھا ۔

اور اگر عدلیہ نے کچھ غیرت اور جرأت دکھا دی تو سیاستدانوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ مارچ 2007 کے بعد سے معذول ججوں کی بحالی تک سیاسی جماعتوں کا کیا کردار رہا ۔ سوائے مسلم لیگ (ن) کے، جس نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا ساتھ دیا ۔

آپ کوئی دلیل تراش لیں، کوئی شہادت کھڑی کر لیں، اصل اور حقیقی مجرم، سیاستدان ہیں ۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

پاکستان کے مجرم: http://www.hum-azad.org/blog/?p=169

ذمے داری کا تانا بانا: http://www.hum-azad.org/blog/?p=190

تو اب پھر واپس آتے ہیں اپنی اس بات کی طرف کہ پاکستان کے تمام ’’سروں‘‘ اور ’’چوٹیوں‘‘ میں سے حاوی اور غالب، شعبہ یا ادارہ کونسا ہے ۔ جیسا کہ اوپر واضح ہوا، یہ سیاست ہے ۔ یعنی وہ مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سیاستدان ہیں، پاکستان کی اکثریت نے جن کی پیروی کی ۔

سیاستدان وہ ’’سر‘‘ ہیں جہاں سے اخلاقیات کی پامالی اور قتل کا سرطان نیچے اور اطراف تک پھیلا اور پھیل رہا ہے ۔ نیچے سے مراد اکثریت ہے جس نے سیاستدانوں کو ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سمجھا اور ان کی پیروی کی ۔

اور اطراف سے مراد دوسرے شعبے اور ادارے ہیں جہاں تک اس سرطان کی جڑیں پھیلیں اور پھیل رہی ہیں ۔

یہاں ایک بات واضح کر لیجیے ۔ سیاستدانوں کو یا کسی کو بھی، ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل بنا کر، یا سمجھ کر اس کی پیروی کرنا اور اس جیسا ہونے کی کوشش کرنا، مکمل طور پر کوئی دانستہ اور سوچا سمجھا عمل نہیں ۔ یہ زیادہ تر غیر شعوری طور پر وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اور مجبوراً بھی ۔ اکثریت کے لیے یہی بات درست ہے ۔

اگر آپ کو خود کو اکثریت میں شمار نہیں کرتے تو سوچیے کہ آپ نے کیا کیا ۔

یہ تو ہوا ایک پہلو اس بات کا کہ زندگی کے ہرشعبے اور ہر ادارے پر سیاست، حاوی ہے ۔ اور یہیں سے برف نیچے کی طرف بہی ۔

اس بات کا ایک پہلو اور بھی ہے: یہ کہ سیاست، زندگی کے عوامی (پبلک) اور نجی (پرائیویٹ) شعبوں پر نہ صرف حاوی ہے، بلکہ اتنی دخیل ہے کہ اس نے ہر شعبے اور ہر ادارے کا تانا بانا بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔ اس کی آزاد اور خود مختارانہ حیثیت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔ یہی نہیں، بلکہ سیاست نے ہر شعبہ ہائے زندگی اور ہر ادارے کو سیاست کا اکھاڑہ بنا کر اس کی مٹی پلید کر دی ہے ۔

اور یہ چیز جناب صدر صاحب میں ’’روح ِ عصر‘‘ کی صورت میں تجسیم پا گئی ہے ۔

سیاست کے ہاتھوں ہر چیز کی تباہی کی مثالیں اور مظاہرے ہمارے سامنے بکھرے پڑے ہیں ۔ کیا کچھ دہرایا جائے ۔ ہاں، ایک بات بہت ’’فصیح و بلیغ‘‘ یاد آ رہی ہے ۔

ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے ۔ اس میں مضحکہ خیزی بھی ہے ۔ یہ المناک بھی ہے ۔ عبرتناک بھی ہے ۔ خوفناک بھی ہے ۔ قاتل بھی ۔ اور اس پر ہنسی بھی آتی ہے ۔

جب میں کلر سیداں (تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی) میں ایک کالج سے وابستہ تھا تو وہاں نیشنل سیونگ سینڑ کے انچارج لیاقت صاحب تھے ۔ ان سے بھی ملنا جلنا تھا ۔ ایک دن انھوں نے انتہائی استہزائیہ انداز میں بتایا کہ آج بڑی عجیب و غریب بات ہوئی ۔

ایک آدمی سینڑ میں آیا ۔ وہ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہے ۔ میں نے اپنے ایک کولیگ سے کہا اس کا فارم تیار کر دو ۔ اس نے فارم بھر کر مجھے دے دیا ۔ میں نے دستخط کے لیے فارم اس آدمی کے سامنے رکھا ۔ وہ کہنے لگا: میں دستخط نہیں کر سکتا، انگوٹھا لگوا لیں ۔

لیاقت صاحب نے اس سے پوچھا کہ وہ تو ٹیچر ہے ۔ وہ چپ کر گیا ۔ مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ پڑھا لکھا بالکل نہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ایک ایم پی اے نے بھرتی کروا دیا تھا ۔ اسے نوکری چاہیے تھی ۔

یہ بالکل ہو سکتا تھا کہ اسے کسی ایم پی اے کے بجائے، جیسے کہ کسی بیوروکریٹ نے بھرتی کروایا ہوتا ۔ لیکن، بہر صورت، اس انحطاط اور اس انحطاط کے تدارک کی ذمے داری سیاستدانوں کے علاوہ کسی اور کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔

اب، اتنی گفتگو کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ یہ سارا کیا دھرا سیاستدانوں کا ہے تو اس میں اتنی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ پاکستان کو اخلاقیات کا قبرستان ان سیاستدانوں نے بنایا ہے ۔ یہی وہ مثال، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں جنھوں نے اکثریت سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پامالی کروائی ۔

ان سے پوچھنا ہو گا ۔ انھیں جوابدہ بنانا ہو گا۔ ان سے حساب لینا ہو گا ۔ ان کا حساب لینا ہو گا ۔

انتخابات آنے والے ہیں ۔ ان کے لیے کٹہرے تیار کیجیے ۔ ان کے اعمال کا کچا چٹھا کھولیے ۔ ان پر جرح کیجیے ۔ انھیں ان کے جرائم گنوائیے ۔ ان کی جیبیں کھنگالیے ۔ ان کے ذہن اور دماغ جھنجھوڑئیے ۔ وہاں بھرا ہوا جھوٹ باہر نکالیے ۔

ان سیاستدانوں کی جوابدہی کیجیے ۔ ایسی جوابدہی جسے یہ کبھی بھول نہ پائیں ۔ اور جب یہ آپ کے ووٹ لے کر اسیمبلیوں میں جائیں، اور حکومت میں جائیں، تو یہ آپ کو بھول نہ پائیں ۔ آئین، قانون اور اخلاقیات کو بھول نہ پائیں ۔

ان کی ایسی جوابدہی کیجیے جو ایک مثال اور نمونہ بن جائے ۔ اور یہ آئین، قانون اور اخلاقیات سے ذرہ بھر انحراف نہ کر پائیں ۔

انتخابات آ رہے ہیں ۔ سیاستدانوں کے لیے کٹہرے تیار کیجیے!

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s