Uncategorized
Leave a Comment

مسلم خواتین اورجائیداد کے حقوق


 یہ مضمون تحقیقی مقالہ ’مسلم خواتین  اورجائیداد کے حقوق، ،پر مبنی ہے ،جو ،انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک افیئرزلندن ،برطانیہ ، نے اکنامک افیئرز جرنل کے جون 2009کے شمارے میں شائع کیا۔

اظہر اسلم اورشائستہ کاظمی

اسلامی دنیا میں مسلم خواتین کی حیثیت ایک متنازع موضوع ہے۔عورت کو جو حیثیت قرآن اورسنت نبوی میں دی گئی ہے وہ ان روایات سے  بہت مختلف ہے جو اسلامی معاشروں میں اورانکے درمیان رائج ہیں۔

صدیوں سے ،اسلام سے پہلے اوربعد کی ثقافتی اقدار ہمارے مذہبی حلقوں میں گھس آئی ہیں اورانہوں نے خدائی قانون کی حیثیت اختیار کرلی ہے ۔نہایت واضح اور اچھی طرح نافذ کیے جانے والے جائیداد کےوہ قوانین جو بنیادہیں خوشحالی کے،ان کاعملی مظاہرہ خواتین کے معاملے سے بہتر نہیں کیا جاسکتا۔خواتین کے معاشی تحفظ اوراورمعاشرے کی خوشحالی کےلیےخواتین کے پراپرٹی حقوق بنیادی  اہمیت کے حامل ہیں۔ہمارے چھ مختلف اسلامی ملکوں کے تجزیئے میں  یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوحقوق اسلام نے دیئے ہیں انکا  درست نفاذ خواتین کو بااختیار اورملکی خوشحالی کےلیے  عظیم  ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔خواتین کے حقوق کی موجودہ قلت زبردست مثال ہے ادارہ جاتی رابطوں کےفقدان کی جو مسلم ملکوں کے اندر نظریئے اورعمل میں پایا جاتا ہے۔بیشتر مغربی اور اسلامی دنیا میں کئی لوگ  اسلامی قانون میں خواتین کو عطا کیے گئے حقوق سے بے خبر ہیں۔یہ حقوق جائیداد کی افرادی ملکیت ،کاروبار کا حق  اورخریدو فروخت پر مشتمل ہیں۔ اسلام نے خواتین کو بااختیار بنانے ،   ان کی حیثیت مستحکم  کرنے اورمعاشرے کی سماجی اور معاشی  خوش حالی کےلیے واضح  رہ نمااصول دیئے  ہیں ۔خواتین کے ملکیتی حقوق کے مکمل اورمناسب نفاذ اوراسکے نتیجے میں  معاشی آزادی خواتین  کی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیگی۔  معاشرتی حلقوں یا ملک میں خواتین کی حیثیت نمایاں ہوجاتی ہے جب  و ہ قرضوں   اوربچتوں کا انتظام کرنے کی ذمہ دار ہوں۔وہ  چھوٹے قرضوں کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں جو ذاتی آمدن پیدا  اور اس پر کنٹرول کا اختیار دیتی  ہیں۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے  کہ خواتین کو دیا گیا قرضہ ان کے خاندان   اور   خاص طورپر بچوں کے معیار زندگی پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے، ملکیتی حقوق کے نفاذ سے  زبردست سماجی فوائد اورتبدیلیاں رونما ہوتی ہیں،محروم لوگوں کوتقویت  کی صورت میں ،جواسلام کا بنیادی اصول ہے۔اثاثوں پر کنٹرول خواتین کو زیادہ بااعتماد بناتا ہے  اورگھریلو معاملات میں فیصلہ  سازی کا اختیار دیتا ہے اورگھریلو تشدد کے خدشے سے بچاؤ میں مدد گار ہوتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ  اگراسلامی ممالک اپنے قوانین ، اوراس سے بھی اہم اپنی روایات کو،قرآن اورنبی اکرم محمدﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال لیں ،توخواتین کی جائیداد کے حقوق کا تحفظ  یقینی  ہوجائے گا۔اسکے بدلے میں یہ  حقوق مائیکرو اور میکرو سطح پر معاشی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کریں گے۔

مسلم ملکوں اورمعاشروں پر لازم ہے کہ وہ امتیازی روایات کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنے پر توجہ دیں،ان میں پچیدہ یا فرسودہ قانونی نظام ،مقامی رسم ورواج شامل ہیں جو اکثر اسلام کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ان پر لازم ہے کہ ایسی پالیسیاں تیار اورنافذ کریں جن سے  خواتین میں ایسی مہارت پیداہو  کہ وہ نہ صرف ملکیت سے باخبر ہوں بلکہ  مالک بن جائیں اور اس کا انتظام وانصرام بھی کرسکیں۔

اسلام نے 1400سال قبل ان اقدامات کا پلیٹ فارم مہیا کردیا تھا ۔اب وقت ہے  کہ مسلمان یہ پلیٹ فارم استعمال کریں۔

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s