Uncategorized
Comments 2

ایک سادہ سوال


Awaam

جہاں کل کا  روز نبی کریمؑ کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کے طور پر منایا گیا وہاں ھم مسلمانوں کو ایک دِن اور منانا چاہیے جسمیںیہ سوچا جائے کہ ہم رسولؑ کی سنت اور دینِ رسولؑ کے پیروکار کے طور پر ہر روز صبح سے شام تک شانِ رسول میں کتنی گستاخیاں کرتے ہیں، ان میں سے چند ایک تو ایسی ہیں جسکا سامنا ہم سبھی کرتے ھیں

بات بے بات جہوٹ بولتے ہیں حالانکہ نبیؑ نے جھوٹ کو اُم الخبائث فرمایا ہے

چھوٹے سے چھوٹے لین دین میں چھوٹے سے چھوٹے منافعے کی خاطر دھوکہ اور غلط بیانی کرتے ہیں حالانکہ نبیؑ نے اس عمل کو سخت ناپسند فرمایا ہے

کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتے ہیں حالانکہ نبیؑ نے اسے  بے ایمانی قرار دیا ہے

ناجائز کام کروانے کی خاطر دولت، طاقت اور اختیار کا غلظ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ نبیؑ نے اسے ظلم قرار دیا ہے

اپنی گلیوں میں کوڑا پھینک کر انتظار کرتے ہیں کہ حکومت اسے صاف کرئے، حالانکہ ایسی کوئی مثال نبیؑ کی سیرت میں نہیں ملتی

نا اہل حکمرانوں کو ووٹ دے کر اُنکے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں

ظلم ہوتا دیکھ کر ۔کچھ نہییں دیکھا ۔کچھ نہییں سُنا کی ایکٹنگ کرتے ہیں

انسانوں اور خصوصا عورتوں کو اشیا کے طور پر استعمال کرتےہیں

غریب کو یہ کہ کر کہ یہ لوگ اسی قابل ہوتے ہین اُسی حال پہ چھقڑ دیتے ہیں تا کہ غلام اور آقا کا تصور زندہ رہے

فرقہ در فرقہ تقسیم ہو کر خود کو اعلی اور دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں

۔ حق کی آواز اُتٹھانے کے مقام پر خاموش رہتے ہیں اور آذادی اظہار کے نام پر ایک دوسرے کی کرداد کشی اور نفرت کا پرچار کرتے ہیں فساد پھیلانے میں پیش پیش ہوتے ہیں

ڈاکٹر مکینک اور ٹیکنیشن منافع کمانے کی خاطر مرض اور مسئلے کو مکمل حل کرنے کے بجائے گزارا چلانے کا کام کرتے ہیں

ہم ہر روز اپنی عمل اور فعل سے اسلام اور اپنے نبیؑ کی تعلیمات کا کیا خاکہ پیش کرتے ہیں؟

This entry was posted in: Uncategorized
Tagged with: ,

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

2 Comments

  1. Only if people would think like that but i guess it is easier and more fun to get out and play havoc on public property

  2. Qamar H. Jafarey says

    There is a clear divide between theoretical (real) Islam and lives of self professed muslims.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s