Uncategorized
Leave a Comment

قربانی خدا کے لیے؟ 


Awaam

زویا شبیر

ہم لوگ لفظ قربانی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ۔کبھی یہ قربانی مال کی ،کبھی جان کی ،کبھی جزبات کی،کبھی نفس کی  اور کبھی احساسات کی ہوتی  ہے ۔لیکن ہر دفعہ اس لفظ کا استعمال موزوں جگہ پر نہیں ہوتا ۔ہم لفظ قربانی کہتے تو ہیں لیکن اس کا استعمال کرتے ہوئے حقیقت کو پسِ پردہ ڈال دیتے ہیں ۔

عیدالاضحی جس کو ہم بڑی عید اور قربانی والی عید بھی کہتے ہیں ۔مسلمان اس  عید پر سنتِ ابراہیمی کو پورا کرتے ہیں ۔اللہ کے نبی حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا جس میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا  کہ وہ اپنے پیارے بیٹے  حضرت  اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔ آپ نے یہ خواب اپنے بیٹے کو سنایا تو انہوں نے کہا مجھے اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم  نےاللہ کے حکم کی  تکمیل کی لیئے اپنے بیٹے کو قربان  کرنے کی نیت کر لی ۔آپ نے جیسے ہی حضرت اسماعیل کے گلے پر چھری رکھی اللہ تعالی کی طرف سے عجزاتی طور پر حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ آ  گیا اور آپ نے  اس دنبے کو قربان کر دیا ۔یہ
ہی وجہ ہی کہ لوگ ہر سال 10 ذالحج کو  جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ۔

قربانی کی عید آئی لوگوں نے بہت جوش و خروش سے جانور خریدے اور سنتِ ابراہیمی پر عمل کرنے لے لیئے اپنی اپنی حیثت کے مطابق قربانی میں حصہ ڈالا ۔جیسا کہ اسلام نے کہا ہے کی جو مسلمان صاحبِ استطاعت ہو قربانی دے۔جو انسان صاحبِ استطاعت

نہ ہو مطلب اس کیاتنی حیثیت نہ ہو کہ وہ قربانی کا جانور خرید سکے اس پر قربانی فرض نہیں کی گئی ،لیکن ایسا مسلمان جو صاحبِ استطاعت ہے اور قربانی دینے کی حیثیت  بھی رکھتا ہے اس کے باوجود قربانی نہیں دیتا تو ظاہر ہے وہ  بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ نہیں کرتا ۔

اب زکر کرتے ہیں ان لوگوں کا  جو قربانی کرتے اور گوشت کی تقسیم کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ ضرورت مندوں کا مناسب حصہ یا تو ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتابھی ہے تو  نہ ہونے کے  برابر ۔

اسلام کے مطابق ،قربانی کے گوشت کی تقسیم کے وقت ایک حصہ برابر رشتہ داروں کااور  پڑوسیوں کا  ایک غریبوں مسکینو ں کا اور ایک اپنے گھر کا ہونا چاہیئے ۔

لیکن ہم دیکھتےہیں کہ گوشت کی تقسیم کے وقت بھی اکثر قربانی کا اصل مقصد بھلا دیا جاتا  ہے ۔ہم سب سے بہتر حصہ اپنے لیئے  پھر رشتہ داروں کے لیئے  پھر پڑوسیوں کے لیئے اور ضرورت مندوں کے لیئیے ایسے حصے کا انتخاب کرتے ہیں جس میں گوشت  نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔ہڈیوں کا وزن بڑھ جاتا ہے  اور قربانی کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے ۔اس طرح وہ لوگ جو تقریبا پورا سال گوشت  والی عید کا انتطار کرتے ہیں ان کو وہاں بھی نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے اور ہم یہاں بھی نفس کو قربان نہیں کر پاتے ۔کیا اسطرح تقوٰ ی کی تکمیل ہو جاتی ہے ؟

 جیسا کہ اللہ  نے کہا کہ قربانی تقوی کی بنیاد پر دی جائے ۔لیکن کیا ہم اس حکم کو بجا لاتے ہیں ہونا تو یوں چاہیے کہ جو بھی ضرورت مند ہے خواہ وہ رشتہ دار ہے  یا پھر غریب مسکین ہے اس کو اس کی ضرورت کے مطابق حصہ ضرور دیا جائے ۔

جیسے روزہ یس لیئے فرض نہیں کیا گیا  کہ خدا ہمیں بھوک اور پیاس میں دیکھنا چاہتا ہے بلکہ اس لیئے کہ ہم روزہ رکھ کہ بھوکے اور پیاسوں کے احساسات  کو سمجھ سکیں  بالکل اسی طرح قربانی کا مطلب بھی یہ نہیں کہ خدا تک قربانی کہ جانوروں کا خون اور گوشت پہنچ جائے بلکہ خدا کی راہ میں قربانی سے مراد کہ خدا کہ بندوں کے  لیئے ایسی چیزوں کی فرا ہمی ہو جو اس کے لیئے باعثِ مسرت ہو ۔خدا کی  مخلوق خوش ہو اور قربانی کا اصل مقصد حاصل ہو جائے ۔

لیکن اس کی ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیئے کہ ہماری قربانی دوسرے لوگوں کے لیئے تکلیف کا باعث نہ بن جائے ۔

مطلب عید کے موقع پرجانوروں کو  قربان کرنے کے بعد  خون کھال اور اوجڑی کو جگہ جگہ چھوڑ دیا جاتا ہے  جس کی وجہ سے مکھیاں اور کیڑے  مکوڑے پیدا ہوتے ہیں ۔کچھ وقت گزر جانے کے بعد خون میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے جو کہ ناقابلِ برداشت ہوتی ہے ۔اس طرح بہت سی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں ۔اس لیئے سب کو چاہیئے کہ  قربانی کے بعد جانوروں کی کھال،خون،اوجڑی وغیرہ کو مناسب  جگہ  پر ٹھکانے لگا یا جائے۔

 حدیث شریف ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے

تو اس فرمان کی روشنی میں ایسی کی گئی قربانیاں جو دوسروں کے لئے زحمت بنتی ہیں، آپکا ایمان مکمل کر سکتی

ہیں؟

____________________________________________________________________

Zoya Shabbir is a teacher at Speed Literacy Program

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s