Month: November 2014

ایک نفسیاتی مریض یا پاگل۔

تحریر: سید انور محمود محترم مبشر علی زیدی صاحب، آج آپکی سو لفظوں کی کہانی “غلط فہمی” پڑھی تو سوچا کہ میرئے ساتھ جو مسئلہ ہے وہ آپکو لکھ کر دیکھ لوں شاید آپ کوئی مدد کرسکیں۔ میرئے ایک دوست آجکل جیل میں ہیں، رشک آتا ہے اُنکی زندگی دیکھ کر، اکثر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہیں، صبح کو حلوہ پوری، دوپہر میں سیخ کباب اور رات کو کبھی نہاری، تو کبھی بروسٹ یا پیزہ کھاتے ہیں۔ اپنا پورا کاروبار جیل میں رہتے ہوئےموبائل سے کرتے ہیں اور اپنے بھتہ خور گینگ کو بھی جیل سے ہی کنٹرول کرتے ہیں،بڑی جلدی بڑی ترقی کی ہے، اُنکی بیگم زیورات سے لدی رہتی ہیں اور ہربچے کے پاس نئی ماڈل کی کارہے۔جیل میں رہنے کی وجہ سےمیرئے دوست کو نہ ٹارگیٹ کلنگ کی فکر ہے، نہ ہی روڈ پر لٹ جانےکا ڈر، بم دھماکے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر جیل میں دھماکے کرنے والوں کے بھائی بھی مہمان ہیں۔ دوسری طرف میں ہوں، پرسوں رات ہی اپنی بلڈنگ کے سامنے لٹاہوں، …

غلط فہمی

سو (100)لفظوں کی کہانی :مبشر علی زیدی میں نے جیل جیسی عمارت میں داخل ہونے کے بعد مڑکے دیکھا، دروازے کے اوپر لکھا تھا، ’’پاگل خانہ‘‘ میں نے اُس شخص کو گھور کے دیکھا جو مجھے بہانے سے وہاں لایا تھا۔ اُس نے نگاہیں چرالیں اور اپنے افسر کے پاس چھوڑکے چلاگیا۔ میں نے افسر سے کہا، ’’شاید یہاں سب یہی کہتے ہوں گے لیکن میں واقعی پاگل نہیں ہوں۔‘‘ وہ بولا، ’’مجھے معلوم ہے۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’پھر مجھے پاگل خانے کیوں لایا گیا ہے؟‘‘ اُس نے کہا، ’’آپ غلط سمجھے۔ پاگل خانہ اندر آنے والے راستے پر نہیں، باہر جانے والے دروازے پر لکھا ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Misrule of the Few How the Oligarchs Ruined Greece


 By Pavlos Eleftheriadis  Foreign Affairs NOVEMBER/DECEMBER 2014 ISSUE Just a few years ago, Greece came perilously close to defaulting on its debts and exiting the eurozone. Today, thanks to the largest sovereign bailout in history, the country’s economy is showing new signs of life. In exchange for promises that Athens would enact aggressive austerity measures, the so-called troika — the European Central Bank, the European Commission, and the International Monetary Fund — provided tens of billions of dollars in emergency loans. From the perspective of many global investors and European officials, those policies have paid off. Excluding a one-off expenditure to recapitalize its banks, Greece’s budget shortfall totaled roughly two percent last year, down from nearly 16 percent in 2009. Last year, the country ran a current account surplus for the first time in over three decades. And this past April, Greece returned to the international debt markets it had been locked out of for four years, issuing $4 billion in five-year government bonds at a relatively low yield — only 4.95 percent. (Demand exceeded …

The good war ?

What Went Wrong in Afghanistan — and How to Make It Right By Peter Tomsen In the concluding pages of his fascinating memoir, War Comes to Garmser, Carter Malkasian, a Pashto-speaking U.S. diplomat who was stationed in a volatile region of Afghanistan in 2009–11, voices a fear shared by many of the Westerners who have participated in the Afghan war during the past 13 years: “The most frustrating thing about leaving Garmser in July 2011 and now watching it from afar is that I cannot be certain that the [Afghan] government will be able to stand on its own. … The British and the Marines had put the government in a better position to survive than it had enjoyed in the past. What they had not done was create a situation in which the government was sure to win future battles against Taliban [fighters] coming out of Pakistan.”

Pakistan Ranks Sixth on Global Slavery Index (GSI)

The report reveals that approximately 10 million child workers exist in Pakistan out of which 3.8 million are five to 14 years old. Pakistan ranks sixth highest on the second edition of the 2014 Global Slavery Index (GSI), compiled by Australia-based campaign Walk Free. According to the report released worldwide on Monday, Pakistan not only ranks sixth in terms of the prevalence of modern slavery, it is host to the third highest population of enslaved people in the world.

اعتبار کس پہ کریں؟

انعم شبیر پچھلےکئی دنوں سے آزادی و انقلابی مارچ کے جلسوں نے ہمارے الیکٹرونک میڈیا کو ایک شغل میلے میں مصروف کر دیا ہے۔پانچ منٹ میں ختم ہونے والی خبر کو  گھنٹوں تک بیان کیا جاتا ہے۔اور ہماری بے وقوف عوام  دیر دیر تک ٹی وی کے سامنے بیٹھی  ایسے تبصرے اور خبریں  سنتی رہتی ہے جن کا آخر میں کوئی حل نہیں نکلتا۔ ۔میڈیا کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جسے مکمل آزادانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ کو دودھ اور پانی کی طرح سامنے کھولکے رکھ دے۔لیکن جہاں میڈیا کو اتنی آزادی حا صل ہوتی وہاں میڈیا سے جڑے لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کو سامنے لاتے ہوئے اپنی ذاتی  خواہشات و مفادات کو پس پشت ڈال دیں۔ملک بھر کی عوام بلکہ دنیا بھر کے لوگ اس وقت ٹی وی پہ بیٹے جو کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں اسی کو سچ مان رہے ہوتے ہیں۔آزادی صحافت جیسا کہ نام سے ظاہر ہے  کہ ایسی صحافت جس …