Uncategorized
Leave a Comment

ایک نفسیاتی مریض یا پاگل۔


تحریر: سید انور محمود

محترم مبشر علی زیدی صاحب، آج آپکی سو لفظوں کی کہانی “غلط فہمی” پڑھی تو سوچا کہ میرئے ساتھ جو مسئلہ ہے وہ آپکو لکھ کر دیکھ لوں شاید آپ کوئی مدد کرسکیں۔ میرئے ایک دوست آجکل جیل میں ہیں، رشک آتا ہے اُنکی زندگی دیکھ کر، اکثر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہیں، صبح کو حلوہ پوری، دوپہر میں سیخ کباب اور رات کو کبھی نہاری، تو کبھی بروسٹ یا پیزہ کھاتے ہیں۔ اپنا پورا کاروبار جیل میں رہتے ہوئےموبائل سے کرتے ہیں اور اپنے بھتہ خور گینگ کو بھی جیل سے ہی کنٹرول کرتے ہیں،بڑی جلدی بڑی ترقی کی ہے، اُنکی بیگم زیورات سے لدی رہتی ہیں اور ہربچے کے پاس نئی ماڈل کی کارہے۔جیل میں رہنے کی وجہ سےمیرئے دوست کو نہ ٹارگیٹ کلنگ کی فکر ہے، نہ ہی روڈ پر لٹ جانےکا ڈر، بم دھماکے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر جیل میں دھماکے کرنے والوں کے بھائی بھی مہمان ہیں۔

دوسری طرف میں ہوں، پرسوں رات ہی اپنی بلڈنگ کے سامنے لٹاہوں، آٹھ سو روپے لے گے مگر موبائل پرانا دیکھ کر چھوڑ گے، کسی طرف سے گولی نہ آجائےاسکی بھی فکر ہے، رات کو اٹھ اٹھ کر گھر کے دروازئے اور تالے چیک کرتا ہوں، بچے کہیں جاتے ہیں تو اُنکو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ پہنچتے ہی اطلاع کرنا اور ہاں کسی ایسےعلاقے میں مت جانا جہاں دوسری زبان بولنے والے رہتے ہوں، نہ خود بتاتا ہوں اور بچوں کو بھی منع کررکھا کہ اپنے عقیدئے کا کسی کے سامنے ذکر مت کرنا، میری ان ساری حرکتوں کو میرئےبچے نوٹ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں ابو آپ نفسیاتی مریض ہوگے ہیں، وہ بہت ہی اخلاقی انداز میں مجھ کو سمجھارہے ہیں کہ ابو آپ پاگل ہوگئے ہیں۔ اب اگر میں پاگل ہوں تو پھرجیل سے باہر کی یہ دنیا تو پاگل خانہ ہے، لہذاجیل سے باہر آنے والوں کو صیح بتایا گیاہے کہ جو بھی جیل سے باہر جایگا اُسکی منزل پاگل خانہ ہوگی۔

اب تو صورتحال یہ ہے کہ اپنے ملک کی یوم آزادی سے لیکر آجتک “اب کیا ہوگا”، “اب کیا ہوگا” نے پریشان کیا ہوا ہے، لہذا اب میں سوچ رہا ہوں کہ کچھ دن کسی جیل میں رہ کر سکون سے گذار لوں، مگر ابھی تک کوئی تگڑی سفارش نہیں مل پائی ہے، اگر آپ کا کوئی جاننے والا میرا یہ کام کرادئے تومیں آپکا اور اُسکا بہت شکرگذار ہونگا، کم از کم کچھ دن تو پاگل خانے سے دور رہ سکونگا۔

پیشگی شکریہ، ایک نفسیاتی مریض یا پاگل۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s