Month: December 2014

Burnt human flesh, once more

DAWN Umar Riaz There were human bodies strewn like dry leaves on an autumn day. For the first time in life, I saw burnt human flesh, smelled it, touched it and collected it; pieces of small children, big boys, and women. There was a severed hand with just a pink Mickey Mouse watch wrapped around and an amputated foot with the familiar Cheetah joggers. More than 130 dead bodies and an equal number of injured.

آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو

:امن کیانی آج پھر میں  نے یاد رکھا اس ماں کو جب میں نے بیٹے کے ماتھے سے بال سنوارے بوسہ دے کر اس کو گلے ے لگایا جب میں نے ننھی انگلیوں کے بال کاٹے ذرا سی چبھن پر اس کی انگلی  کو چوما آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو دودھ کا گلاس پیتے ہوئے میں اس کے ساتھ کھڑی رہی بستہ اٹھا کر اس کے کندھوں پر ڈالا پھر سے بال سنوارے ،پھر سے ماتھا چوما پیچھے مڑکر اس نے جب “خدا حافط ماما” کہا آج پھر میں  نے یاد رکھا اس ماں کو شام کو جب جوتے اتارے اس کے ننھی انگلیوں سے جرابوں کے ریشے نکالے ما ما میں نے پھر سے میتھ  میں ایکسیلینٹ لیا ہے ماما میں نے کہا تھا نہ میں سب سے آگے ہوں کلاس میں                                                                                      آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو رات کو پھر اس نے کھانے میں وہ ہی ضد کی ماما مجھے یہ سبزی اچھی نہیں لگتی پھر سے کھانا اس کا من پسند بنایا میں نے …

سنا ہے

جنّت میں سہمے ہوے 132 پرندوں کا غول کہیں سے اڑ کر آیا اور درختوں کی شاخوں پر خاموشی سے بیٹھ ک بچھڑے ہووں کو یاد کرنے لگا سنا ہے کل ہٹلر، فرعون اور چنگیز خان دوزخ میں گلے لگ لگ کر روۓ سنا ہے کل شیطان نے اپنے بچوں کوأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الانسان پڑھنےکا سبق دیا سنا ہے کل شہروں کے قریب رہنے والے درندے رات بھر اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے پہرا دیتے رہے سنا ہے کل باغوں کی سبھی کلیوں نے کھلنے سےیکسر انکار کر دیا سنا ہے کل طاقوں میں سجے تمام چراغ جلتے بھی رہے جلاتے بھی رہے مگر اندھیرا نہ چھٹا سنا ہے کل سے پہلے زندگی موت سے ڈرتی تھی مگر اب موت زندگی سے ڈرتی ہے سنا ہے کل منبر پر بیٹھ کر شریعت کا پرچار کرنے والے ملا نے الله اکبر کا نعرہ لگایا سنا ہے کل اسرافیل نے صور پھونک دیا مگر دنیا میں رہنے والے اسے سن نہ سکے سنا ہے کل آدم کو سجدہ کرنے والے فرشتے کچھ شرمندہ، کچھ پشیمان سے …

تم مٹاو گے کیا وجود میرا ۔۔۔۔نام تک بھی مٹا نہیں سکتے

   سانحہ پشاور کے معصوم  شہداء کی یاد میں   سپیڈ لٹریسی پروگرام کے طلباء کے خیالات تم مٹاو گے کیا وجود میرا نام تک بھی مٹا نہیں سکتے ظلم کتنا بھی کر چکو ظالم مجھ کو حق سے ہٹا نہیں سکتے دفن کر دو مجھے زمین تلے کلمہ حق دبا نہیں سکتے –نور–

So on and so forth

Nadeem F. Paracha He wrote in English. Someone complained that since Urdu was the country’s national language, he should be writing in Urdu. So he wrote in Urdu, only to be told that he should be writing in the country’s four major regional languages: Punjabi, Pashto, Sindhi and Balochi. So he wrote the same things in these languages but was told that since he was a Muslim, he should be writing in Arabic.