Uncategorized
Leave a Comment

سنا ہے


جنّت میں سہمے ہوے 132 پرندوں کا غول کہیں سے اڑ کر آیا اور درختوں کی شاخوں پر خاموشی سے بیٹھ ک بچھڑے ہووں کو یاد کرنے لگا

سنا ہے کل
ہٹلر، فرعون اور چنگیز خان دوزخ میں گلے لگ لگ کر روۓ
سنا ہے کل
شیطان نے اپنے بچوں کوأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الانسان پڑھنےکا سبق دیا
سنا ہے کل
شہروں کے قریب رہنے والے درندے رات بھر اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے پہرا دیتے رہے
سنا ہے کل
باغوں کی سبھی کلیوں نے کھلنے سےیکسر انکار کر دیا
سنا ہے کل
طاقوں میں سجے تمام چراغ جلتے بھی رہے جلاتے بھی رہے مگر اندھیرا نہ چھٹا
سنا ہے کل
سے پہلے زندگی موت سے ڈرتی تھی مگر اب موت زندگی سے ڈرتی ہے
سنا ہے کل
منبر پر بیٹھ کر شریعت کا پرچار کرنے والے ملا نے الله اکبر کا نعرہ لگایا
سنا ہے کل
اسرافیل نے صور پھونک دیا مگر دنیا میں رہنے والے اسے سن نہ سکے
سنا ہے کل
آدم کو سجدہ کرنے والے فرشتے کچھ شرمندہ، کچھ پشیمان سے تھے
سنا ہے کل
فرشتوں نے اللہ رب العزت سے پھر پوچھا” تو اسکو خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو دنیا میں فساد کرے گا اور خون بہاے گا ”
سنا ہے کل

اللہ رب العزت نے پھر کہا ” میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے —-

—ایک پاکستانی ا نسان—

  قارئین سے گزارش ہے کہ اگر آپ اس نظم کے شاعر کا نام جانتے ہیں تو براہ میربانی ہمیں بھی بتائیں تاکہ شاعر کا نام لکھا جا سکے-

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s