Uncategorized
Leave a Comment

غربت کس طرح تعلیم کا دروازہ بندکرتی ہے


آنکھیں صاف بتا رہی تھی کچھ کر کے دیکھاناہے چہرے پر مسکراہٹ کو زبردستی سجاٰٰ ۓ رکھنا مشکلات کے سمندر کو پار کرنے کا عزم دل کو اس طرح مجبور کرنا کہ آنسو آفات بھوک افلاس سب یہ بدبخت خون کا لوتھڑا اپنے اندر سمالے معمول کے مطابق آج بھی کلاس کا آغاز 8 بجے ہوا روزانہ کی طرح کلاس میں وہی آوازیں گونج رہی تھی کوئی بچہ اپنے نہ آنے کی وجہ بتا رہا تھا تو کوئی پنسل کاپی ر بڑ نہ ہونے کی داستان سنا رہا تھا اس گہما گہمی کے باوجود آج کلاس کے کونے میں پڑی کرسی اپنی اداسی کو صاف ظاہر کر رہی تھی کرسی بے جان ہونے کے باوجود باربار توجہ اپنی طرف دلا رہی تھی خیر یوں لگا کہ شاہد میرا وہم ہو یا میں سوچ ایسا رہی ہوں انھی خیالات میں گم اچانک مجھے خیال آیا آج وہ آواز وہ مودبانہ لہجہ اور وہ امید بھری آنکھیں کیوں نہں کہہ رہی ٹیچر میرا گھر کام چیک کریں میرا گھر کا ہوم ورک مجھ سے سن لیں خیر کلاس کا ٹائم ختم ہوا گھر جانے کے لیے جونہی اپنا بیگ اٹھایا پھر نظر اسی کرسی پر پڑی وہی آوازیں بار بار ذہن میں گونجنے لگی زہین میں کئی سوالات نے جنم لیا آخر آج ذین سکول کیوں نہں آیا ؟

آخر ذین نے کیسے آج کا سبق مس کر لیا انھی خیالات میں گم نہ جانے کس کس سوال کا جواب خود دیتی ہوئی کس لمحے ذین کے گھر کے گیٹ پر میں پہنچ گئی گیٹ کے بجا ئے ایک پھٹا پرانا کپڑا گیٹ کا کام سر انجام دے رہا تھا پردے کے باہر کھڑے ابھی مجھے دو ہی منٹ ہوئے تھے اچانک ذین کی وہی خوشی بھری آواز مسکراتا چہرہ امی ٹیچر ہمارے گھر آئی ہیں پردہ تھوڑا سا سرکا تو سامنے ایک ٹوٹا پھوٹا باتھ روم تھا ساتھ ہی ایک ہال نما کچا کمرہ تھا جو ایک سرنگ کی طرح تھا جوں جوں میں اس سرنگ کی طرف بڑھتی گئی بدبو ایسے ایسے آرہی تھی جیسے میرے اندر سمو رہی ہے ذین کے دوسرے بہن بھائی ایک طرف بیٹھے سوکھی روٹی کھا رہے تھے ماں اس کی بار بار چھوٹے بیٹے کو ڈانٹ رہی تھی تم کباڑی کو دو روپے زیادہ دےآئے ہو میں نے تمھیں 8 روپے کی روٹی لانے کو کہا تھا خیر گھر کا حلیہ ماں کی گفتگو صاف بتا رہی ےتھی غربت نے کس طرح ذین کے گھر کو اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے ذین تم آج سکول کیوں نہں آئے ؟ ذین کے کچھ کہنے سے پہلے ماں بولی میڈیم ذین کا والد نشے سے دھت پڑا ہوا ہے گھر میں دو دن سے فاقہ ہے اللہ کے کسی نیک بندے نے رہنے کے لیے مفت چھت دی ہے کی بات کے ہوئے زین بولا ٹیچر سوری آج بھوک اس قدر لگی تھی کہ ہمت نہیں تھی کہ اٹھ کر سکول جاوں مگر میں کل ہر حال میں سکول آئوں گا اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں الٹے پاٰئوں واپس اپنے گھر کو چل دی گھر پہنچتے ہی اپنے تھکے ہارے جسم کو صرف بوجھ سمجھ رہی تھی اور آج مجھے میرے سوالوں کے سب جواب تو مل گئے تھے مگر مجھ میں اتنی ہمت نہں تھی کہ میں ان سوالوں کے جواب کا غذ پر کیسے تحریر کر سکوں گی آج مجھے یقین ہو گیا تھا غربت تمام برائیوں کی جڑہے غربت کس طرح ذین کی تعلیم کے دروازے بندکررہی تھی مگر زین بار بار ان دروازوں کو پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے مگر دانا کہتے ہیں ناکہ جان ہے تو جہان ہے جب اس خون اور گوشت کے لوتھٹرے میں طاقت ہی نہیں ہوگی پھر کیسے کوئی بچہ پڑھ سکتا ہے ؟ وہ تمام لیڈر اور ایوان میں بیٹھے حیوانوں کو سوچنا ہو گا اگر ذین کی جگہ بلاول مریم سلمان قاسم انس اور بہت سارے نازک بچے جن کا ایک دن کا خرچہ لاکھوں کروڑں ہے اگر ذین کی جگہ یہ ہوتے تو پھر؟
اس سے پہلےکہ ذین کی طرح بہت سارے اور بچوں کی راہ کی رکاوٹ غربت بنے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s