Uncategorized
Leave a Comment

کیا ہمیں پھر کسی نئےبنگلہ دیش کا انتظار ہے؟


سائرہ ظفر

کیا ہمیں پھر کسی نئےبنگلہ دیش کا انتظار ہے؟

اماں تم ہمیشہ ایسا کرتی ہو کونسا کوئی پہلی دفعہ ہوا ہے۔جب دیکھو تجھے نائلہ کی فکر رہتی ہے ۔اماں آج پھر تم نے نائلہ کے لیے نئے کپڑے لائے اور مجھے یہ کہہ کر ٹال رہی ہو تم تو میرے پاس ہی ہوتی ہو پھر کسی دن تمھیں لا دوں گی۔لیکن اماں تم ہمیشہ سے یہی کہتی آئی ہو نائلہ خود گلے شکوے کیے جا رہی تھی لیکن اماں کو بس ساجدہ کی فکر کھائے جا رہی تھی اماں ساجدہ کو ڈھیر ساری دعاوں اور تحائف کے ساتھ رخصت کر رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی اپنے گھر پہنچ کر مجھے اپنی خیرت کی اطلاع دے دینا ساتھ ساتھ نائلہ کو اشاروں اشاروں میں کہہ رہی تھی اپنی بہن کو خدا حافظ کرتی جاو لیکن نائلہ کو تو صرف اماں کی ناانصافی نظر آرہی تھی نائلہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی آخر اماں ساجدہ کو مجھ پر فو قیت کیوں دیتی ہے؟ یہی سوچ نائلہ کو احساس کمتری کا شکار کر رہی تھی اور اس کو باربار یہ بات اندر اندر سے نا انصافی کا نام دینے پر مجبور کر رہی تھی نائلہ کی طرح آج میں اور میرے بہت سارے ساتھی یہ سوچ رہے کہ مریم نواز شریف جو سمپل بی-اے کیے ہوئےہے وہ کیسے اتنے بڑے عہدے پر فائز ہو سکتی ہے حالانکہ عدالت بھی فیصلہ دے چکی ہے کہ مریم نواز کسی بھی لحاظ سے اس عہدے کی اہل نہیں ایم فل گولڈ میڈلسٹ سٹوڈنٹس کسی کام کےنہیں 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوتا ہے آرمی چیف فور       اً کابل جاتے ہیں اور مزے کی بات ایک گھنٹےمیں واپس وطن آجاتے ہیں افغانستان کے صدر کو وارننگ دے کر آتے ہیں کہ اب اگر آپ کی سرحد سے دشمن آئے توانھیں معاف نہیں کیا جائے گا (یہاں ایک بات بہت غور کرنے والی ہے کہ اب اگر دہشت گرد آئے تو کیا پہلے آپ کو سب پتا تھا؟)   نہایت افسوس کے ساتھ کیا واہگہ بارڈر پر شہید ہونے والے پاکستانی نہیں تھے ؟کیا وزیرستان میں ڈرون حملے میں مرنے والے لوگ پاکستانی نہیں تھے بچے تھر میں بھوک سے گھٹ گھٹ کر مرنے والے معصوم نہیں پھر آرمی پبلک سکول پر ہی کیوں حکومت اور تمام سیاسی جماعت متحد ہوگئی(شاید فوج کاواحد ڈنڈا ہے جس سے ہمارے سیاستدان ڈرتے ہیں؟) معذرت کے ساتھ کیونکہ یہ بچے اعلی عہدوں پر فائر افسروں کے تھے یہ عام بچے نہیں تھے خیر بات اماں یا نائلہ کی ہو مریم نواز شریف کی ہو یا عام گولڈ میڈلسٹ ہو نہار سٹوڈنٹ کی ہو یا پھر آرمی پبلک سکول میں شہداعلی افسر کے بچوں کی ہوبات یہ ہے کہ جس طرح نائلہ اپنی سگی ماں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور اپنا الگ آشیانہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے یہ نہ ہو یہ پاکستان ایک دفعہ پھر بنگلہ دیش بن جائے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s