Uncategorized
Leave a Comment

نماز اور ہم


زویا شبیر

پانچ وقت اپنے جسم کو وضو کے پانی سے پاک کرنا اور خدا کے سامنےسر بسجود ہونا ۔ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں بڑوں سے سنتے ہیں ۔نماز  ہر مسلمان مرد عورت پر فرض کی گئ ہے تاکہ ہم اپنی ذندگی کو دنیا اور آخرت میں آسان بنا سکیں ۔ اسلام کے مطابق نماز  دوزخ کی آگ سے بچاتی ہے اور برے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔لیکن کچھ لوگوں کو نماز  کی حقیقت یا تو پتہ ہی نہیں اور اگر پتہ ہے تو پتہ ہونے کے باوجود وہ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں اور عبادت کی آڑ میں کچھ ایسے شرمناک اور ناگوار کام کر جاتے ہیں جس کے بعد کم از کم ان کو خدا کے عبادت  گزار بندے کہنا تو بالکل مناسب نہیں ہے۔آیئے میں آپ کو ایک ایسے آدمی کی عبادت سے متعارف کرواتی ہوں جو جمعہ کی نماذ کے لیئے بڑی چمک دمک اور پر جوش طریقے سے مسجد کی طرف گامزن تھا وضو کا پانی ابھی خشک نہیں ہوا تھا اور شاید اس نے سنتِ نبوی کے اصولوں کو پورا کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔مطلب خوشبو صاف ستھرے کپڑے اور مسجد میں پہلی صف میں کھڑے ہونے کی خواہش اس کے چلنے کی رفتار سے صاف ظاہر ہو رہی تھی ۔میں حسرت بھری نگاہوں سے کبھی اس کو دیکھتی اور کبھی مسجد کی ظرف اور دل ہی د ل میں خود کو کوستی کہ میں نماذ ادا کرنے میں کس قدر سستی کرتی ہوں اور خدا کے سامنے ایک سجدہ دینے سے بھی کتراتی ہوں ۔اور اس آدمی کے اندر خدا کی تعریف بیان کرنے کا جزبہ اور عبادت کا جزبہ میرے اندر احساس ندامت جگا رہا تھا ۔ابھی میں نے اس کے بارے میں  خیال قائم کیا ہی تھا  کہ اس کی نگاہیں پاس ہی سبزی کی دکان پر کھڑی لڑکی کی جانب بڑھیں اس نے جن نظروں سے اس  کو دیکھا وہ قابل بیان نہیں سر سے لے کر پاوں تک نگاہوں کی وہ حرکت میری سمجھ سے تو باہر تھی ۔ اور وہ نظریں خدا کے راستے پر چلنے والی تھیں ہی نہیں ۔ان نظروں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ کیا واقعی وہ خدا کی طرف جا رہا تھا ؟

خیر میں چلتی گئی اور اس دودان اس کی نظریں جسطرح راستے میں آنے والی عورتوں کو دیکھتی تھیں وہ اندازشرمناک تھا اور میری آنکھیں شرم سے جھک گئی تھیں ۔اس آدمی کو اس بات کا اندازہ کیوں نہیں تھا کہ اس کی عبادت کی یہ کوشش پاک کپڑے اس کے چہرے پر وضو کے پانی کے قطرے اور خوشبو  اس کے ناقابل برداشت اور گھناونے اعمال کی وجہ سے ناپاکی اور بدبو میں تبدیل ہو سکتی تھی۔اب اس نے عبادت کی شرائط کو تو پورا کر لیا تھا غسل بھی کر لیا اور خوشبو بھی لگا لی پاک کپڑے بھی پہن لیئے لیکن نماز  کے ساتھ ساتھ دل دماغ اور نظروں  کو پاک کرنا  اس نے ضروری  نہیں سمجھا تھا۔اب اس عبادت کے بعد اس  کے دل کو تسکین رہی یا الجھن یہ وہ ہی جانے ۔بہرحال میرا نظریہ غلط ثابت ہو چکا تھا۔ میں اس کے باطن سے نہیں ظاہر سے متاثر ہوئی تھی۔اور اس وقت میں نے محسوس کیا  خدا کے سجدے کی حقیقت سے نا آشنائی کے باوجود ہم خود کو خدا کا پرہیز گار ترین اور عبادت گزار بندہ تصور کرتے ہیں ۔

باوجود اس کے کہ ہم  خلق ِ خد ا کو تکلیف دیتے ہیں  اور خدا کا حکم بھول جاتے ہیں جس کے مطابق خدا کو سجدہ کر نے سے زیادہ ضروری  اس کی مخلوق کو تکلیف نہ دینا ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s