Uncategorized
Leave a Comment

جیسی عوام ایسے حکمران


سائرہ ظفر

آخر کار بادشاہ نے فیصلہ کیا جو بھی اس پل سے گزرے گا وہ روزانہ 10 روپے دے کر گزرے گا اگلے دن بادشاہ کے حکم کے مطابق عوام پر لاگو کر دیا گیا جو بھی اس پل سے گزرتا 10 روپے دیتا اور آگے چلا جاتا شام  کو بادشاہ کے درباری نے بادشاہ کو بتایا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے انکار کیا ہو سب نےجلدی جلدی 10 روپے ادا کیے یئں اور اپنے سفر پر روانہ ہو گے اور پل کراس کر لیا بادشاہ نے تھوڑا سوچنے کے بعد اپنے وزیر کو کہا جاؤ جا کرکل کے لیے  اعلان کر دو کل سے جو اس پل سے گزرکر جاۓ گا وہ دس دس جوتے  کھا کر گزرے گا پھر پہلے حکم کی طرح اس پر بھی فوراعمل  شروع کر دیا ہر کوئی دس دس جوتے کھاتا اور آگے نکلنے کی کوشش کرتا ٹھیک وقت ختم ہونے کے بعد وزیر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا  اور کہنے لگا بادشاہ حضور آج تو عوام کا کل سے زیادہ رش تھا ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور ان کا کہنا تھا پہلے ہمیں دس جوتے مارے جائیں تا کہ ہم پل کراس کر لیں کیونکہ ہم لیٹ ہو رہے ہیں .

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں 52 دفعہ فرمایا سوچو سمجھو اور عقل استعمال کرو لیکن شاید ہم وہ بد نصیب قوم ہیں جو قرآن کے ان احکامات کو بھول گئے ہیں 18 دسمبر 2014 کو تقریبا 140 بچے اساتذہ سمیت شہید کر دیے جاتے ہیں دو دن احتجاج ہوا پارٹیوں کا ایک ہونے کا ڈرامہ کیا گیا ہر طرف اداسی رہی پھر کچھ دن کے بعد وہی معمول کی زندگی ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے کچھ دن کے بعد امام بارگا ہ میں حملہ ہوتا ہے پھر شکار پور میں ایک بڑا واقعہ ہوتا ہے پٹرول غائب کر دیا جاتا ہے سردیوں میں گیس نہیں اور گرمیوں میں بجلی نہیں لیکن ہم عوام ہیں کہ جیسے ہمیں سانپ سونگھ گیا ہو ہم اف تک بھی نہیں کہتے ہیں اللہ نے ہمیں بولنے کے  لیے زبان لکھنے کے لیے ہاتھ اور سوچنے کےلیے دماغ دیا لیکن پھر بھی ہم کچھ بھی نہیں کر رہے بس یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب ہم عوام سو رہے ہوں گے جب تک ایسی عوام رہے گی تب تک یہ چلتا رہے گا۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s