War on terror
Leave a Comment

پھر بھر پور مذمت کرتے ہیں


ساحرہ ظفر

چھوٹے بڑے بوڑھے بچے ہر کسی کو اتوار کا بے صبری سے انتطار ہوتا ہے ۔کیونکہ اتوار ایسا دن ہوتا ہے جو سب کے لیے آرام کا دن ہوتا ہے۔ہر جگہ چھٹی ہوتی ہے۔کوئی اس دن کو سو کر گزارتا ہے تو کوئی اس دن کو گھوم پھر کر گزارتا ہے۔15 مارچ 2015 کو اتوار کا وہ خوبصورت دن ہے جس کا سب کو انتطار تھا۔ لیکن اس دفعہ 15 مارچ کے اتوار کو پورے پاکستان نے ایک طرح گزارنے کا سوچا ہوا تھا۔ہر کسی کو پاکستان اور آئرلینڈکے میچ کا بڑی بے صبری سے انتطار تھا۔لو میچ شروع ہو گیا ہر کسی کی نظر ٹی وی سکرین پر جیسے جم گئی ہو کرکٹ کے منچلوں نے ساتھ ساتھ کرکٹ کو اور ساتھ ساتھ بارش کو خوب انجوائے کیا۔گو کہ اس دفعہ میچ پاکستان اور بھارت کانہیں تھا لیکن پاکستان اور بھارت کے ٹاکرے سے کم بھی نہیں تھا۔

آج کے میچ کا نتیجہ ہی یا پاکستان کو کوارٹر فائنل میں جاتا یا پھر اپنا بوریا بسترہ واپس لے کر پاکستان آجاتا۔خیر آئرلینڈ کا میچ ختم ہواآئرلینڈ نے پاکستان کو جیتنے کے لیے 237 کا ٹارگٹ دیا۔237 کے ٹارگٹ کے بعد کرکٹ شائقین میں سرگوشیاں شروع ہو گئ ۔کوئی کہتا پاکستان نے آئرلینڈ کے خلاف بہت بہتر کھیلا ہے کچھ منچلےتو اس قدر پریشان ہوئے جل کر بولے پاکستان کی بولنگ اس قدر کمزور ہے کہ 237 رنز بنا لیے آئرلینڈ نے۔خیر اسی گرما گرمی میں پاکستانی ٹیم نیٹنگ کرنے جوں ہی میدان میں اتری کرکٹ شائیقین کے دل دھک دھک کرنے لگےیا اللہ آج پاکستان جیت جائےسب کے لبوں پر ایک ہی دعا تھی۔اوپنر سرفراز جب بیٹنگ کے لیے آئے تو میڈیا نے انڈیا فلم پی کے کا ڈائیلاگ بار بار پلے کرنا شروع کر دیا(سرفراز دھوکہ نہیں دے گا) اچانک سارا میڈیا خوشی کی خبر کو ایک غم ناک خبر میں بدل گیادھڑا دھڑمیڈیا کہیں یہ کہ رہا ہے لاہور میں میں یکے دیگرے بعد تین حملے بچے مت دیکھیں دوسری طرف درجنوں افراد ہلاک ہونے اور 100 سے زادزخمی ہونے کی میڈیا تصدیق کر رہاہے۔

دھماکے کے بعد میڈیا کہیں ان لاچار مائوں کی آہیں سسکیاں سنا رہاہے اور کہیں ان بچوں کا چلانا جو رو رو کرحکومت اور ان نمائندوں کو کہہ رہے تھےجو اربوں روپے کی سیکورٹی میں رہ رہے ہیں ان کو بھی مخا طب ہو کر کہہ رہے تھے ہمارا قصور کیا ہے ہم تو عبادت کرنے آئے تھے۔لیکن کہتے ہیں نا کہ دکھ کا اندازہ اسی کو ہوتا جس کو چوٹ لگتی ہے۔ظالم حکومت کا ہمیشہ کی طرح وہی انداز وہی ڈھٹائی وہی پرانا بیان ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں . یہ واقعہ سراسرحکومت کو کمزور کرنے کا واقعہ ہےتو کیا ان والدین جن کے ننھے منھے شہزادے شہزادیاں ان سے بچھڑگے ان کو مضبوط کر رہا ہے کیا عیسائی برادری کے وہ بچے جو اپنے والدین کے ساۓ سے محروم ہو گئے ہیں ان کے لیے صرف مذمت؟؟

This entry was posted in: War on terror

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s