Uncategorized
Leave a Comment

عوام کو ریلیف کی فراہمی ہمارا نصب العین ہے


پاکستان ایک بارپھر  دہشت گردی کی زد میں ۔ خیر یہ کوی نئی اور حیرت انگیز بات نہیں ہے ۔

 پشاور کے دردناک  واقعے کے بعد اب لاہور کے گرجا گھرکو  بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے  ۔ 15 مارچ  2015 ایک اور واقعہ  دہشت گردوں   نے خون کی ایسی ہولی کھیلی ۔ پورا  لاہور جاگ اٹھا اور کہیں معصوم بچوں  کی لاشیں ، کہیں  زخموں سے نڈھال بزرگ  زخموں سے چور  چور  آہیں اور سسکیاں  لے رہے تھے ۔   میڈیا  دھڑا دھڑ  خبروں پہ خبریں دے رہا تھا ۔  پورا یوحنا آباد  ایمبولینس  کی آوازوں سے گونج رہا تھا ۔   ایسے میں حکومت نے پھر  سے تسلی دی  ۔

 آج پھر    چاروں طرف سے ایک ہی صدا آ رہی ہے آخر حکومت ان دہشت گردوں کا سدِ باب کب کرے گی ؟

مجھے تو اب اس جملے سے بے زاری ہوتی ہے ۔   انتہائی  پرانا اور بے جان جملہ  ۔

کہیں  بچوں کو سکول میں نشانہ بنایا  جاتا ہے   ۔، کہیں امام بارگاہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ  جاتی ہیں  اور  کہیں گرجا گھروں کو نشانہ  بنایا جاتا ہے  ۔  حیرت کی بات  یہ ہے کہ  دہشت گرد دھماکے کی زمہ داری بھی بہت دیدا دلیری سے قبول کرتے ہیں  ۔ اس بات کا اندازہ یہاں سے ہی ہو جاتا ہے کہ  آخر ایسی کون سی قوت ہے جس نے ان  جانوروں کو اتنا بہادر بنا دیا ہے  جو کبھی تو  شکار کی تمیز بھول جاتے ہیں  اور بچوں کو چیر پھاڑ دیتے ہیں  کبھی  عبادتوں میں مصروف لوگوں کو   بھی تنگ کرنے سے باز نہیں ہوتے ۔

 حکومت کا مزید کردار یہ ہے کہ  وہ بہت تسلی سے متاثرین کو تسلی دیتے ہوئے  کہتے ہیں  ہمیں احساس ہے اور  ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ بے شک وہ ہمارے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ ان کو اس    تکلیف کا اندازہ ہے کیونکہ ان کے بچے ،بوڑھے اور جوان بھی ایسے ہی ظلم کا نشانہ بنتے ہیں ۔ ان کو گھروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ان کے لوا حقین بھی یوں ہے تڑپ تڑپ  کر کہتے ہیں کہ  آپ تو  بر سرِ اقتدار ہیں پھر اور طاقتور بھی ہیں  ان لوگوں   کو  انجام تک کیوں نہیں  پہنچاتے ؟

لوگ  دکھ کا اظہا ر زیادہ زیادہ حکومت کو لعن طعن   کر کےکرتے  ہیں  ۔ روتے ہیں   ، چلاتے ہیں  اور آہ و زاری کرتے ہیں ۔  15 لوگوں کی ہلاکت  اور 75 لوگوں  کے زخمی ہونے کی خبر   کتنے  دن میڈیا کی  خبر رہے گی  پھر ہر سانحے کے بعد اب کی بار بھی خاموشی چھا جائے گی  ۔  اور ہم پھر سے  بے حسی اور بے خبری کے عالم میں دھند ہو جائیں گے  ۔ میں تو  یہ سوچ رہی ہوں کہ ہم اس دہشت گردی کا سدِ باب کیوں نہیں کرتے ہم چاہتے نہیں یا خود اس گھناونے عمل میں ملوث ہیں ۔

 وہاں ڈی آئی جیز بھی تصدیق کر دیتے ہیں کی  دھماکہ خود کش تھا ۔ میں اس بات پہ حیران ہوں کی ان کی تصدیق صحیح ثابت ہو جاتی ہے اتنی ہی تنقیدی نگاہیں رکھتے ہیں  تو پھر  کیا یہ لوگ  حادثے اور سانحے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔  کہ آیا ہماری تصدیق کہاں تک سچ ثابت ہوتی ہے ۔

 وزیر اعلی  پنجاب   اور ان کی کابینہ  بار   بار  کہتے ہیں  کہ وہ  دہشت گردوں کا پیچھا ضرور کریں گے۔

خیر  وہ اتنی مہربانی تو کر ہی دیتے ہیں کہ  جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا  نہ صرف اظہار کرتے ہیں ۔ بلکہ    شہید ہونے والوں کو فی کس 5 لاکھ  روپے اور  75 ہزار کا اعلان کر دیتے ہیں   جو   دکھ کم کرنے کے لیئے  بہت زیادہ ہے  ۔ جو کہ  مختص رقم ہے کہ جہاں بھی کوئی حادثہ ہو گا  وہ اپنا کردار  ضرور ادا کریں گے  ۔ شاید یہ طریقہ  لوگوں  میں دوبارہ  خوشی کی لہر  دوڑانے کا  سبب بنتا  ہے ۔  کیونکہ وہ کہتے ہیں ۔

 عوام کو ریلیف کی فراہمی ہمارا نصب العین ہے ۔ اور یاد رہے  کہ یہ ریلیف مرنے والوں کے لیے  5 لاکھ  ،75 ہزار   کا اعلان کرنے  کی صورت میں یا پھر  گیس ،بجلی ،پٹرول   اور پانی نہ ہونے کی صورت میں ہو گا ۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s