Uncategorized
Leave a Comment

اسماعیلی برادری کابزدلانہ قتل


ساءرہ ظفر

واقعہ کے ردعمل سے صاف ظاہر ہے

کیا حقیقت ہے کیا بتایا جا رہا ہے

اس سانحہ میں داعش کو ملوث کر کے

ہمارے اصلی دشمن کو بچایا جا رہا ہے

انسان  کو اللہ تعالی نے اشرف الخلو قات پیدا کیا ہے انسان کے لیے ریڑی کی ہڈی نمایاں حیثیت رکھتی ہے ریڑھ کی ہڈی کے بغیر  انسان اس کیڑے کی  ماند  ہوتا ہے جو اپنا جسم زمین پر  گھسیٹ گھسیٹ کر چلتا ہے کراچی پاکستان کے نہ صرف  سب سے بڑے شہر کے طور پر مشہور ہے بلکہ اسے روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ کراچی تجارت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ رکھتا ہے اگر یہ کہا جائے  کہ کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے تو ہر گز غلط نہیں ہوگا ۔جب سے پاکستا ن  معرض وجود میں آیا ہمیشہ سے پاکستان مخالف لوگوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ کراچی کبھی بھی نہ پھیلے پھولے کراچی میں بھتہ خوری  دہشت  گردی ٹارگٹ کلنگ ہمیشہ سے رہے

اسی وجہ سے  13 مئی 2015 پھر اپنی نہ ختم ہونے والی کہانی کے ساتھ اور ہمیشہ کی طر ح یہ سال اور دن ایک دکھ کی طرح  نیا زخم تازہ کرتا رہے گا13 مئی کو اسماعیلی جماعت کے تقریبا 50 افراد بس میں بیٹھےاپنے سفر کی طرف رواں دواں تھے عام ٹرانسپوٹ کی طرح ان کی بھی بس سڑک پر لین کی پابندی کرتے ہوئے چلے جا رہی تھی نہ ہی کوئی بس چلانے والے ڈائیور کا قصور تھا اور نہ ہی بس میں سوار اسمائیلی گروپ کے ان 50 افراد کا اور نہ ہی وہ   ہنگامہ کر رہے تھے اور نہ ہی وہ حکمرانوں کی طرح کر پشن کر رہے تھے  – لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں ان بے گناہوں اور معصوم لوگو ں کو تین موٹر سائیکل پر سوار بے حس  اس لوگوں کا جن کا نہ جانے کون سا مذہب تھا ؟کون سا فرقہ تھا ؟ان کا مقصد کیا تھا ؟کیا وہ ثا بت   کرنا چاہتے تھے ؟انھوں نے یکا یک اسماعیلی گروپ کے اس 50 لوگوں کی بس کو اور ان معصوم لوگوں کو   فائرنگ سے چھلنی چھلنی کر دیا ظالموں  نے ظلم کی اتنی  انتہا کر دی کہ بس میں بیٹھے تقریبا 47 افراد کو موت کی نیند ہمیشہ کے لیے سلا دیا  کئی معصوم گھروں کو جیتے جی ان نامراد دہشت گردوں  نے اجاڑ دیا یہاں تک کہ کئی نوجوانوں کےخواب مٹی سے ملا دیے۔آ ج ایک دفعہ پھر حکومت کو سوچنا ہو گا آخر کار کب تٓک حکمران  ہر لاش کا معاوضہ مقرر کرتے رہیں گے ۔اور ہر افسوناک  واقعہ کے بعد  خاندان کے دکھ درد کو پیسوں میں تولتے رہیں گے۔

بقول شاعر

جسکی کی جوتی ہوسر بھی اسی کا ہو

یہ پرانا سبق ہم کو پڑھایا جا رہا ہے

ہماری پرانی نفسیات سمجھ کر  ہم کو

اپنے ہاتھوں گزند پہنچایا جا رہا ہے

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s