disaster management, Economy, food insecurity, Human Development, Uncategorized
Leave a Comment

اندر کی گندگی


 

ساحرہ ظفر

آپا ساتھ والے گھر کے سامنے ابھی گاڑی رکی ہے ماموں اور ماموں اور اُن کے بچے اور ماموں کے دوست بھی ساتھ تھے سب ہمارے گھر آرہے ہیں آپا اماں سے  اماں چھوٹی کیا کہہ رہی ہے؟چھوٹے ماموں اپنے دوستوں اورخاندان کے ساتھ  ہمارے گھر کی طرف آرہے ہیں۔ اُف اماں!  ہمارے گھر کا تو حیلہ بگڑا ہوا ہے   کل سے اماں  آپ کے سامنے چھوٹی کو کہہ رہی ہو  ں کہ مہربانی کر کے اپنے کمرے میں لٹکے ہوئے جالے  جو ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں  ان کو اتار دو  لیکن اماں اس کے سر پر جو  تک نہیں رینگتی  اماں آپ نے اس کو سر پر چڑھا یا ہوا ہے  گھر کی صفائی تو دور  کی بات ہے یہ اپنی  صفائی نہیں کر سکتی گندے کپڑے، اٹے ہوئے بال  اس کی تصویر ایسے پیش کر رہے ہیں  جیسے زمانہ قدیم کا کوئی ڈ ھانچہ ہو۔

اچھا آپا اب بس بھی کردو  ۔ اماں  اماں ! ماموں گھر کی دہلیز پر پہنچنے والے ہیں  اچھا چھوٹی  جلدی جلدی سارے برتن  جو گندے ہیں کچن کی الماری  میں چھپا دو اور الماری کو اچھی طرح بند کر دو  اور  اماں مہربانی کر کے  باہر والے کمرے کی چادریں تبدیل کر دیں جب تک میں آگے آگے  سے جھاڑو لگا دیتی ہوں اور جلدی جلدی  میں گھر کا سارا حلیہ ایسے دکھائی دینے لگا جیسے کوئی آئینہ خوبصورت تصویر پیش کر رہا ہو۔آپا میں نے کپڑے پہن لیے آپ بھی جلدی جلدی تھوڑی بہت پرفیوم وغیرہ لگا لو تاکہ تمھارے بدبودار ہواہیں خوشبو میں بدل جایئں اتنے میں ماموں کی زور دار آواز کانوں میں گونجی السلام علیکم ابھی اماں سوال کاجواب ہی دینے والی تھی کہ ممانی جھٹ سے بولی ارے واہ رشیدہ بیگم آج تو گھر کو خوب چمکایا ہوا ہے اماں بس جمیلہ بیچاریاں میری بیٹیاں صبح شام انہی کاموں میں لگی رہتی ہیں.

تھر میں روزانہ 10 سے تقریبا 20معصوم بچے بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں وزیراعلی جو اپنی بیٹے کو 20 کروڑ کی گاڑی تو لے کر دے سکتے ہیں مگر تھر کے بچوں کو ایک وقت کا کھانا نہیں دے سکتےاماں کی طرح وزیر اعلی اپنے وزراءاماں کی دونوں بییٹیوں کی طرح ظاہری طور پر عوام کے سامنے اپنے آپ کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے وہ آپا کے گھر کی طرح صاف شفاف آئینہ دار ہومگر بد قسمتی سے ہمارے لیڈران کا اندر اماں کے گھر کے کچن کی الماریوں میں چھپے گندے برتنوں کی طرح گندا اور صحن میں پڑے ہوئے  کوڑے کی مانند ہے۔جو شاید تب تک لانا مشکل ہے جب تک ہم نے ظاہرا اور باطن کی مکمل تک چھان بین نہ کی اور عوام کے سامنے اصل بھیڑیوں کا اصل چہرہ بے نقاب نہ کیا یا پھر سندھ کی عوام کی   طرح ہر کھلے گٹرپر ڈھکن کی جگہ سائیں کی تصویر آویزاں کرنی ہوگی تاکہ گند گی کی بدبو باہر تک نہ پھیل سکے۔

خون کے سمندر سے

اجڑی اجڑی  گودوں میں
لعل  کون بخشے گا

ظلمتوں  کی نہروں سے

Tagged with: ,

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s