Uncategorized
Leave a Comment

علم کی شمع بجھانے کی ایک اور سازش


 

ارے  واہ  بہت بہت مبارک  ہو  مرزا صاحب  چلو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے آپ کو بھی اللہ تعالی نے  دس سال بعد دادا ہونے کا شرف بخشا ابھی رضیہ بیگم  مبارک باد کے بعد  کچھ فلسفانہ  باتیں کرنے ہی والی تھی بیگم صاحبہ ڈھول  کہ تھاپ اور مٹھائیوں کی  تھالیں لیے ہوئے نمودار ہوئی  آنکھوں میں نمی اور چہرے پر مسکراہٹ   بیگم  کے چہر ے پر صاف  عیاں تھی ۔ اس سے محلے والوں کے لیے خوشی کا انداز لگانا مشکل نہیں تھا  اتنےمیں محلے  کے بچے  ، جوان اور بوڑھے سب مرزا صاحب کے گھر  جمع ہو گئے کوئی خوشی سے جھوم   رہا تھا  تو کوئی مرزا صاحب کے پوتے کی خوشی میں بھنگڑے ڈال رہا تھا . اتنے میں محلے میں اعلان ہوا کہ  مرزا صاحب  کے پوتے کا نام مسجد  کے سب سے بڑے امام صاحب رکھے گےاور تھوڑی دیر میں  امام صاحب تشریف  لانے والے ہیں  اس سے پہلے  جلدی جلدی  میں محلے والوں  میں مٹھائی بانٹی جائے. اچانک  امام صاحب کی آمد ہوئی پوتے کو  فورا گھر کے آنگن میں  لایا گیا . کان میں اذان دینے کے بعد فورا نام رکھا گیا  حسب معمول  کسی نے مراز صاحب کی بہو کو   نصحیت کی  بچے کو خالص دودھ پلانا  تا کہ اس کی صحت اچھی رہے اور کسی نے ٹھنڈ سے بچنے کا مشورہ دیا  کسی نے رنگ گورا رکھنے کےلیے مشورہ دیا کسی نے رنگ برنگی  غذائیں کھانے کا مشورہ د یا تاکہ بچے کا جسم مضبوط رہے اور بچے جلدی جلدی بڑا    ہو جائے .

بیٹا پانچ سال کا ہو گیا ہے ابا ذرا دیکھو تو صیحح  اپنی عمر سے بڑا دیکھائی دے رہا ہے  ایسا لگتا ہے جیسے دس سال کا ہو. ہمیشہ کی طرح ابا کا بھی وہی مشورہ اس کی صحت کا خاص خیال رکھنا  تاکہ اس کا جسم توانا ہواور یہ  آنے والے دشمنوں اور دوستوں کا مقابلہ کر سکے گا .  آج  بیس سال کا ہو گیا پیدائش سےلے کرآج تک دادااور         ماں  نے جسم کا مکمل طور پر خیال رکھا۔.

20جنوری2016کو چارسدہ باچا خان  یونیورسٹی میں  علم کے دشمنوں نے دھند  کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے عقبی گیٹ سے گھس کر 18 طلبہ  اور دو پروفیسر  کو نشانا بنایا اور 50سےزائد طلبہ  اور ورکر کو زخمی کیا خون کی ایسی ہولی کھیلی کے  تقریبا 50 طلبہ نے کینٹین میں چھپ کر اپنی جان بچائی اور 30 سے زائد  طلبہ نے کود کر اپنی جان بچائی .خون کہ ہولی کھیلنے والے حیوانوں نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے . لیکن افسوس مرزا صاحب کے پوتے کی طرح ہم سب اپنے بچوں کی پرورش صرف جسم کی کرتے ہیں ۔ہڈیاں مظبوط ہوں قد بڑاہو دیکھنے میں شیر ہو .لیکن روح کی پرورش  شاہد ہم میں سے کوئی نہیں کرتا اس وجہ سے صرف جسم کے لوتھڑےپر ساری توجہ دیتے ہیں.باچا خان یونیورسٹی میں  حملہ کرکےعلم کی راہ میں رکاوٹ ہی بن سکتے ہیں  روشنی نہیں .دہشت گرد اور دشمن کو ختم کرنے سےپہلے ہمیں اپنے بچوں کی جسم کے ساتھ ساتھ روح کی پرورش کرنا ہوگا

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s