Uncategorized
Leave a Comment

انصاف


سائرہ ظفر

لفظ انصاف بولنے اور لکھنے میں جتنا آسان  ہے اُتنا اس لفظ کا عام زندگی میں استعمال  نہ صرف مشکل ہے بلکہ شاید ناممکن ہے۔آج پاکستان کا اٹھانوے فیصد میڈیا  صبح شام صرف انصاف انصاف کی رٹ لگائے ہوئےہےاقتدار میں بیٹھے ہوئے حکمران کہاں پیچھے اُن کی باتوں سے یہ لگتا ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے کا مقصد صرف اور صرف انصاف کا لفظ کہنے کے لیے تھا۔جب بھی دیکھو سنو پڑھو تو ہر صاحب اقتدار کا صرف ایک ہی جملہ ہوتا ہے ہم چاہتے ہیں عوام کو انصاف ملے کیسے کب کس طرح کیوں  یہ سوال جب بھی اُن سے پوچھا جائے تو جواب میں سر نفی میں ہلا دیتے ہیں یا کہتے ہیں افسوس آپ سے  فضول سوال کی اُمید ہر گز نہیں تھی

ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر

گناہ کرتا ہے خود،لعنت بھیجتا ہے شیطان پر

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس لفظ کا واضح اور بروقت استعمال کیسے ممکن ہو سکتاہے؟ یا  اس لفط کا استعمال صرف کاغذ قلم اور بولنے تک محدود رہ جائے  گا۔

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انصاف کی تعریف  بڑی گاڑی والے  اور بڑے گھر والے کے لیے الگ ہے اور جھونپڑی میں رہنے والے اُس غریب انسان کے لے الگ ہے جو دو وقت کی روٹی بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو دیتا ہے اگر کوئی غلطی کسی عام رکشہ چلانے والے سے ہو جائے تو ہماری پولیس اُس کو قانون کے حوالے کرنے سے پہلے ہی مار مار کر ادھ موا کر دیتی ہے ابھی ہماری داستان بے حسی کی کہانی کا خاتمہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا ہے کچھ ہفتے ہو گئے جب عدالت عظمی  میں کچی آبادیوں کو گرانے کا منصوبہ ایک موٹی فائل میں  بند کر کے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت کو جواز پیش کیا مہربانی فرما کر آپ ہمیں اجازت دے دیں تاکہ ہم  اُن غریب لوگوں کو جھونپڑیوں کو گرا دیں جو حکومت کی اجازت کے بغیر  اپنے آشیانے بنائے ہوئے ہیں لیکن  عدالت عظمی نے صاف  اور واضح الفاظ میں حکومت کو للکارا  اور حکومت سے کہا جناب حکومت تھانے آپ لو گوں نے خرید رکھے ہیں ایس ایچ اوز کو کڑوڑوں اربوں روپے میں خرید رکھا ہے تو یہ غریب آدمی زمین کے اُس ٹکرے پر ہی اپنا  گھر بنائیں گے جوجناب حکومت کو پسند نہ ہوہمیں ہر سطح پر انصاف کا ساتھ دنیا ہو گا ۔ وہ چاہے گھر ہو ،ادارہ ہو ملک ہو یا معاشرہ اور چاہے ہمارے سامنے کوئی اپنا ہو یاغیر، سب کے ساتھ انصاف کرنا اور ہر حال میں انصاف کی قدر کو تھام کے رکھنا، اسی طرح ظالم قوموں کو انصاف کی دعوت دنیا اور اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو نمایاں کرکے بجائے بدلہ لینے، خود کش حملے اور بم دھماکے کرنے کے سب کو انصاف کی حمایت میں کھڑے کرنے کی کوشش کرتے رہنا ہی ہمارے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا اصل حل ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s