Uncategorized
Leave a Comment

دیر آئے درست آئے


 

 

صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اُسے بھولا نہ سمجھو ۔پرانے زمانے میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا کوئی جائداد کے ڈر سے تو کوئی لڑکی کو فتنہ قرار دے کر زندہ دفن کر دیتا ۔جب نبی اکرم کی آمد ہوئی تو آپ نے فورا اس عمل کو غلط قرار دیا اور لڑکیوں کو نہ صرف زندہ رہنے کے لیے عملی قانون بنایا بلکہ بیٹی کو اللہ کی رحمت کا درجہ دیا اور مفہوم یوں ہے کہ جب اللہ تعالی بیٹی کو پیدا کرتا ہے تو فرماتا تیرے باپ کا بازو میں ہوں اور تیرے باپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

26فروری (یواین او) نے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں دنیا بھر کی تنقید کاسامنا کرنے والے پاکستان سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پہلی بار خواتین کی حفاظت کے لئے ایک نیا قانون بنایا گیا ہے، یہ قانون کیا ہے ؟کس طرح خواتین اس قانون کو استعمال کر سکیں گی۔اور قانون کی تعریف کیا ہے؟ نئے قانون کے ذریعہ خواتین کے خلاف ہونے والے کئی طرح کے جرائم جیسے گھریلو ،,جذباتی ،ذہنی اور اور تشدد سے خواتین کی حفاظت یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے خواتین کو گھریلو تشدد، نفسیاتی اور جذباتی دباؤ، اور سائبر کرائمز سے تحفظ دینے کا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

اس بل کے ذریعے تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو تین طرح کا تحفظ دیا جارہا ہے

پروٹیکشن آرڈر

نئے قانون کی بدولت خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی۔ پروٹیکشن آرڈر کے ذریعے عدالت ان افراد کو جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں۔ س بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ عدالت کے پروٹیکشن آرڈر کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تشدد کرنے والے شخص کو جی پی ایس ٹریکنگ بریسلٹ پہنائے جائیں گے۔ تاہم اس پابندی کا اطلاق شدید خطرہ ثابت ہونے یا سنگین جرم کی صورت میں ہی ہوسکےگا۔ عدالت ثبوت کی بنیاد پر جی پی ایس بریسلیٹ پہنانے کا فیصلہ کرے گی۔ ان کو ٹیمپر نہیں کیا جاسکے گا ٹیمپرنگ کی صورت میں تشدد کے خلاف قائم کیے گئے سینٹرز پر خود بخود اطلاع ہوجائے گی اور ٹیمپرنگ یا بریسلٹ کو اتارنے کے لیے چھ ماہ سے ایک سال تک اضافی سزا دی جائے گی

ریزیڈینس آرڈر

ریزیڈینس آرڈ کے تحت خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر گھر سے بے دخل نہیں کیا جاسکے گا۔ اگر کوئی بھی خاتون جان کے خطرے کے باعث گھر چھوڑنے پر مجبور ہو یا اسے خاندان کے افراد گھر سے نکال دیں تو ایسی صورت میں عدالت خاندان کو پابند کرسکے گی کہ خاتون کی رہائش کا متبادل بندوبست کیا جائے یا اسے دوبارہ گھر میں رکھا جائے خواتین تشدد کرنے والے کے خلاف کی گئی قانونی چارہ جوئی پر ہونے والے اخراجات تشدد کرنے والے شخص سے حاصل کرسکیں گی

مانیٹری آرڈر

جبکہ مانیٹری آرڈر کے تحت خواتین تشدد کرنے والے کے خلاف کی گئی قانونی چارہ جوئی پر ہونے والے اخراجات تشدد کرنے والے شخص سے حاصل کرسکیں گی۔ وزیراعلیٰ کے امن وامان سے متعلق خصوصی مانیٹرنگ یونٹ نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین رکن اسمبلی کے ساتھ مل کر یہ بل تیار کیا ہے۔

اس قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ضلعے میں ویمن سینڑز بنائے جارہے ہیں۔ جیسے اس قانون کے تحت خواتین کے تحفظ کے لیے ضلعی کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔ جو تمام سینٹرز میں شکایات کے اندراج کی نگرانی کریں گی اور یقینی بنائیں گی کہ پولیس تمام حقیقی شکایات کے مقدمات درج کرے۔’غلط شکایت ثابت ہونے پر چھ ماہ سے ایک سال تک سزا ہوسکے گی اس سے پہلے پنجاب میں خواتین کو تشدد سے تحفظ دینے کے لیے کوئی ایسا قانون موجود نہیں تھا۔

قانون تو آج تک بہت بنے لیکن اس پر عمل درآمد بہت کم ہوا ہے اس قانون سے کس حد تک خواتین مستفید ہو سکیں گی یہ اُن خواتین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو قانون کی حقیقت کو بہتر طریقے سے جانتی ہیں کہ خواتین کو اُن کے بنائے ہوئےقانون کو بارے میں آگاہی دیں۔

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s