Uncategorized
Leave a Comment

تحفظِ نسواں-عدم تحفظ مرداں؟


پاکستان میں آج کل یہ خبر آگ کی طرح  پھیلی ہوئی ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے بل پاس کیا گیا ہے۔اس بل کی وجہ سے کہیں خواتین میں تسلی اور اطمینان دیکھنے میں آیا ہے تو کہیں مرد حضرات جن میں سرِ فہرست  مولانا حضرات ہیں کی طرف سے بہت زیادہ طنزو تنقید کے جذبات بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔یہاں تک کہ  سوشل میڈیا ویب سائٹس پہ مرد حضرات کو بہت فنی انداز میں  آہستہ آواز میں گفتگو کرنے کے طعنے  اور ہدایات دی جارہی ہیں۔

اور اگر قانون کی بات کی جائے تو اس میں واضح طور پر گھریلو  خواتین کے لیے پاس کیا گیا ہے تاکہ ان کے شوہر انھیں  تنگ نہ کریں۔مگر ان خواتین کا  کیا  جو گھروں سے باہر دوسرے مردوں کے ساتھ لوکل گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں ،ان کے ساتھ ایک ہی دفتر کی چھت تلے کام کرتی ہیں،کبھی کسی  مجبوری کے تحت یا اپنے شوق کی خاطر خود کو بہادر  سمجھ کر گھر کے معاشی حالات بہتر کرنے کی غرض سے گھر سے نکلتی ہیں یا بعض دفعہ  غربت کی وجہ سے  بڑے بڑے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

عورتوں کے چہروں پر  تیزاب پھینک کر اور جن کی عزتیں پامال کرکے انھیں جینے کے قابل نہ چھوڑنے والے مرد ان  عورتوں کے باپ بھائی اور بیٹے تو نہیں ہوتے بلکہ ہمارے معاشرے کے بہت غیرت مند اور باعزت مرد حضرات ہوتے ہیں۔

اور اگر پاکستان کی بہت سی عورتوں میں سے شرمین عبید چنائے جیسی ایک عورت جو معاشر ،معاشرتی اور جزباتی طور پر مضبوط ہو کر عورتوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی نیک کام کرنے کی کوشش  کرتی ہے تو اور اسے بین الاقوامی طور پر پذیرائی  مل جاتی ہے تو ہمارے معاشرے کے کئی لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی بلکہ وہ تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ عورتوں کو تو اسلام نےایسے کوئی حقوق دیے ہی نہیں۔تو کیا اسلام نے عورتوں پر تشدد کرنے،ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے،ان کے چہروں پر تیزاب پھینکنےاور ان کے حقوق غضب کرنے کا حکم دیا ہے؟اسلام ہی تو وہ پہلا مذہب ہے جو عورتوں کے حقوق اور تحفظ کا علمبردار ہے۔یہاں تک کہ دینا کے سب سے پڑے قانون میثاقِ مدینہ میں عوررتوں کے حقوق واضح طور پر بیان کر دیے گئے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا تویہ المیہ ہے کہ گھر کے اندر یا گھر سے باہر نکلنے والی کوئی بھی عورت معاشرتی طور پر محفوظ نہیں ہوتی نہ صرف شوہر بلکہ کبھی باپ،بھائی اور کبھی بیٹے کی غیرت کے نام پر قربانیاں دیتی رہتی ہے۔اور یہاں عورت کا تصور اایک حقیر چیز ہے جو کسی نہ کسی طرح مردوں کی ہوس و لالچ کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔

اور رہی اس قانون کی بات   تواس میں ایک شق ایسی رکھنی چاہیے جس میں واضح طور پر یہ بتایا جائے کہ یہ قانون صرف اور صرف شوہر کے لیے بنایا گیا ہے بلکہ ہر اس مرد کے لیے ہے جو عورت کی عزت پامال کرے گا یا اس کے جائز حقوق مانگنے پر اس پر تشدد کرنے کی کوشش کرے گا۔باپ بھائی یا شوہر ہوتے ہوئے عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرے گا یا پھر تعلیم کے نام پر اس کو نظر بند کرنے کی کوشش کرے گا۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s