Uncategorized
Leave a Comment

قانون نسواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا ڈرامہ؟


 

گھر کے بننے سے پہلے ہی صاف اور واضح الفاظ میں امی کو بتا دیا تھا کہ امی گھر کا نقشہ جیسا مرضی ہو مگر آپ نے گھر کے ایک حصے میں میرے پودوں کے لیے کیاری ضرور بنوانی ہےتاکہ میں خوبصورت پھولوں سے نہ صرف  کیاری کو بھر سکوں بلکہ گھر کو بھی چار چاند لگ جائیں گے۔گھر بن گیا ماں نے میری مرضی کے مطابق کیاری بھی رکھ لی۔نئے گھر جاتے ہی کیاری میں نے خوب مہنگے مہنگے پھول لگا دیے۔اور  اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئی۔کیاری کا شوق بھول گیا تھا۔ماں صبح شام صرف  ایک ہی بات دہراتی تھی بس دو دن کا شوق تھا کیاری بنوانے کا اور پھول لگانے کا یہ نہیں پتا ہوتا پودوں کو زندہ رہنے کے لیے پانی  کی خوراک کی اور روزانہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر میں بس ماں کی باتوں کو ایک کان سے سنتی اور دوسرے  کان سے نکال دیتی تھی ماں کیا ایک بات کے   پیچھے ہی پڑ جاتی ہے۔  26  فروری 2016 کو پاکستان کے سب بڑے صوبہ پنجاب میں بہت سارے احکام اعلی کی مرضی کے بغیر خواتین کے تحفظ کے لیے بل پیش کیا گیا۔جس میں  واضح اور صاف الفاظ میں  کہا گیا ہے کہ اگر مرد حضرات نے کسی بھی خاتون کو ظاہری اور جبری  طور میں نشانہ بنایا اُسے نہ صرف  جیل کی ہوا کھانی پڑے گی بلکہ اگلی دفعہ کے  لیے اُسے کڑا پہنا دیا جائے گا  تاکہ اُس کی حرکات وسکنات پر مکمل نظر رکھی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی وہ احکام اعلی  اور دین اسلام کے نام پر بد نما دھبہ  جن کو قوم  علماء کے نام سے جانتی ہےجو صرف اپنے گھر کی عورت کو عورت سمجھتے ہیں باقی اُن کے لیے کوئی عورت  نہیں ہوتی ہےبس گوشت کی دکان ہوتی ہے۔اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے  ان بھوکے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جس کی ہوس زدہ  نظر مسلسل گوشت پر ٹکی رہتی ہے۔ اُن لوگوں کو یہ بات ہر گز  ہضم نہیں ہوئی کہ اُن کو کڑے پہنائے جائے ۔بڑا خدشہ یہ ہے اندرونی  طور پر اُنھوں نے حکومت کو  26 اپریل تک آخری مہلت دی کہ وہ عورت کے تحفظ کے قانون کو ختم کر دیں ورنہ  حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک خلافت چلائی جائے گی۔ ٹھیک بیٹی کی  فرمائش پر جس طرح ماں نے کیاری بنوا دی  اسی طرح  حکومت نے بھی قانون بنا دیامگر  اس قانون کو کیسے  خواتین کے لیے فائدہ مند بنایا جائے اور کس طرح اس قانون کو برقرار رکھا جائے گایہ شاید حکومت نے نہ پہلے واضح کیا تھا اور نہ اب کرے گی۔کیونکہ جس طرح پودوں کو زند ہ رہنے کے لیے ہوا پانی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قانون بنانے کے ساتھ ساتھ اُس کی نگرانی کی جاتی ہے۔

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s