Uncategorized
Leave a Comment

اسلام یورپ اور عورت۔۔۔


 

اُٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا،سونا،بچھونا، حتی کہ ہر طرح کا رہن سہن ملک میں رونما ہونے والےواقعات ہوں یا   پاکستانیوں کے ساتھ  کوئی   اُونچ نیچ ہو ۔یہاں تک کہ اگر پاکستان میں کوئی دھماکہ  بھی ہو جائے کسی گھر میں ڈکیتی ہو جائے سندھ میں بھوک سے مرنے والے بچوں کا ہو  کراچی میں بے گناہ مارے جانے والے معصوم لوگوں کا ہو ہم سب یہی کہتے ہیں (یہاں ہم سے مراد ہمارے سمیت ہمارے احکام اعلی) یہ کہہ  کر  معاملے کو رفع دفع کر دیتے ہیں  کہ یہ کسی دوسرے دشمن  ملک کا فعل  ہے جو ہمارے  ملک کو  مکمل طور پر تباہ و بر باد کرنا چاہتا ہے۔چلو ایک منٹ کے لیے یہ مان لیتے ہیں یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ  سب کچھ  کسی دوسرے ملک کی سازش ہے ۔لیکن  کچھ ہی  مہینے پہلے  پاکستان میں پسپا ہونے والی خواتین  جو  پیدا ہوتے ہی  سب سے پہلے یہ سننے کو ملتا ہے او  لڑکی پیدا  ہوئی ہے۔تھوڑا سا بڑا ہوتی ہے تو  تحفظ  کے علمبد دار باپ بھائی اور  شوہر  معاشرے  کے ڈر سے  کبھی کبھی   اُسے  طعنے دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔اس دفعہ ہمیشہ  کی جب پاکستان میں پہلی دفعہ خواتین کے لیے تحفظ کا قانون بنا تو  ہمارے احکام اعلی سمیت بہت سارے مرد حضرات نے اور خصوصا پارلیمنٹ میں وزرٰاء نے اس قانون کو یورپ  کا قانون قرار  دیا ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یورپ میں  خواتین کو کتنی آزادی حاصل ہے اور اسلام نے عورت کو کیا آزادی دی ہے؟

جس طرح دیگر معاشروں نے عورت کو کانٹے کی طرح زندگی کی رہ گزر سے مٹانے کی کوشش کی تو اس کے برعکس اسلامی معاشرہ نے بعض حالتوں میں اسے مردوں سے زیادہ فوقیت اور عزت واحترام عطا کیا ہے۔ وہ ہستی جو عالمِ دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائی( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس نے اس مظلوم طبقہ کے لیے فرمایا

حُبِّبَ الَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ والطِّیُبُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِيْ فِی الصَّلوٰةِ(۸)

مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت سے بیزاری اور نفرت کوئی زہد وتقویٰ کی دلیل نہیں ہے، انسان خدا کا محبوب اس وقت ہوسکتاہے جب وہ اللہ کی تمام نعمتوں کی قدر کرے جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے، اس کی نظامت اور جمال کا متمنی ہو اور عورتوں سے صحیح ومناسب طریقے سے پیش آنے والا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے نکاح کو لازم قرار دیا گیا ہے اسلام نے عورت کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرایا اور ظلم و استحصال سے نجات دلائی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں اور اسے بے شمار حقوق عطا کئے جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے عورت کا وہی رتبہ ہے جو مرد کو حاصل ہے، ارشاد ربانی ہے :

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً.

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس نےجوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیاہے

مرد اور عورت دونوں میں سے جو کوئی عمل کرے گا اسے پوری اور برابر جزا ملے گی عورت کی تذلیل کرنے والے زمانہ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل کرکے عورت کو عزت بخشی۔

۔ اسلام نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی حقِ ملکیت عطا کیا ہے۔ وہ نہ صرف خود کما سکتی ہے بلکہ وراثت کے تحت حاصل ہونے والی املاک کی مالک بھی بن سکتی ہے

۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا

’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہے

۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ، عرض کیا پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ فرمایا تمہارا والد۔ آج  مغرب میں ہمارے ہاں سے زیادہ عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ یورپ میں عورت جتنی غیر محفوظ ہے، دنیا کے کسی معاشرے میں اتنی غیر محفوظ نہیں ہوگی۔ اپنی زندگی گزارنے کے لیے یورپ کی ساٹھ سے ستر فیصد عورتیں جسم فروشی کو اپنا ذریعہ معاش بناتی ہیں۔ امریکا میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی کوئی تنظیم ایسی نہیں جس کی رپورٹوں کے مطابق ہر سال 60 سے 70 فیصد خواتین اپنے باس یا سینئر کے ہاتھوں جنسی بلیک میلنگ اور بعض اوقات جنسی تشدد کا شکار نہیں ہوتیں۔ ہمارے معاشرے میں اگرچہ کئی حوالوں سے عورت کا استحصال کیا جاتا ہے، لیکن مغرب کے مقابلے میں یہاں کی عورت کئی درجے زیادہ محفوظ ہے۔ بحیثیت مجموعی یورپ کی عورت اور پاکستان کی عورت کے سماجی کردار میں واضح فرق پایا جاتاہے۔

پاکستانی عورت کو مغرب کی طرح کہنا سراسر ناانصافی ہے۔ عورت کو آزاد نہیں، محفوظ بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔  جو لوگ آزادی کے پردے میں عائلی زندگی کو مغرب کی طرح  کا کہتے ہیں ، وہ سراسر غلطی پر ہیں، کیونکہ جس طرح یورپی اور پاکستانی طرزِ معاشرت ، میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔

 

 

 

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s