Uncategorized
Leave a Comment

ابھی ہم سورہےہیں۔


ایک صاحب کہتے ہیں کہ مردان میں تھا تو اچا نک ایک چرسی سڑک کے کنارے بھیک مانگتا ہوا نظر آیا میں نے تھوڑی دیر اُس کا بغور مشاہدہ کیا اور پھر اپنے سے آگے والی گاڑیوں کے جانے کا انتظار کرنے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں ٹریفک کھلی تو گاڑیاں چلنے لگی میں نے چرسی  کے پاس پہنچ کر گاڑی سائیڈ پر لگائی اور   رُک گیا بغیر کچھ کہے اُس کے سوال کا انتظار کرنے لگا۔لیکن فورا ًسے چرسی بولا اللہ کا نام ہے چرس کے پیسے دے جاؤ۔اُس کا یہ سوال سنتے ہی جیسے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔اور جھٹ سے خود سے مخاطب ہوا اور خود کو تسلی دینے کے لیے خود سے سوال کرنے لگا کہ آج تک بہت سارے لوگ دیکھے جو مانگ رہے ہوتے ہیں لیکن مانگنے والوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں چرس کے لیے پیسے دے دو۔خیر میں نے دل ہی دل میں اس بات کو بُرا  جانا اور فورا بھکاری کو  کہا کہ میں ہر گز تمھیں چرس کے پیسے نہیں دیتا  ہاں  کھانا کھانے کے  پیسے تمھیں دے سکتا ہوں۔اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے تم بس چرس کے لیے کوئی پیسے دے دو۔میں نے نہ چاہتے ہوئےبھی چرسی کو  چند روپے کھانا کھانے کے لیے دے دیے۔جب وہ چلا گیا تو میں اسے دیکھنے لگا کہ  یہ کہاں جائے گا۔قریب ہی ایک شادی کا  پروگرام تھا لوگ شادی میں برتن ادھر اُدھر لے کر جا رہے تھے۔اچانک ایک آدمی  کے ہاتھ سے   ایک برتن چھوٹ  گیا اورٹوٹ گیا۔اس آدمی نے اپنے ٹوٹے ہوئےبرتن کے ٹکڑے اُٹھائے اور آگے چل دیا۔وہ چرسی اسی چاول کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے لگ گیا۔جب  اُس کی نظر  مجھ پر پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا اس کے ساتھ تعلقات کچھ آج کل خراب ہیں۔ورنہ برتن میں ہی دیتا ہے۔کریم اتنا ہے کہ  ناراض بھی ہو  تو بھوکا نہیں سونے دیتا  کراچی میں بھتہ خوری دہشت گردی اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے صبح شام ہر گھر میں موت کےپیغام کے نام سے ہر گھر میں پرچی آتی ہے۔وزیراعظم صاحب  اپنی مل کے لوہے کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کبھی میٹرو بس کا ڈرامہ رچا رہے ہیں تو کبھی اورنج ٹرین کا  منصوبہ شروع کروا رہے ہیں۔اور پاکستانی  عوام کو ایک بات باور کروائی ہوئی ہے کہ اللہ بہت رحمان ہے وہ کبھی آپ کو بھوکا نہیں مارے گا۔دراصل ہم چرسی ہیں اور چرسیوں  کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ہماری آنے والی نسل کا کیا ہو گا۔بس ہمیں دن گزارنے کے لیے صرف تھوڑے سے چرس کے پیسے چاہیں ہوتے ہیں۔ اور شادی کے پروگرام کی طرح  اقتدار میں بیٹھی ہوئی کالی بھیڑوں    کے گھر  میں ہر روز کھانے کا معمول کسی شادی سے کم نہیں ہوتا ہے شاباش ہے    چند سیاسی پارٹیوں کو جنہوں نے ہمیں باور کروا دیا ۔آپ سوئیں رہیں ہم ہیں نہ ملک کو لُوٹنے کے لیے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s