Uncategorized
Leave a Comment

مٹھائی سے موت تک


 

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہےیہ ابلیسی نظام

پختہ تر اس سے  ہوئےخوئےغلامی میں عوام

راجہ صاحب کا گھر رنگ برنگی لائٹوں سے سجا ہوا تھا۔اس بار راجہ صاحب نے اپنے گھر کو شادی گھر بنایا ہوا تھا۔نہ صرف محلے والوں کو  راجہ صاحب نے  اپنے گھر بُلایا تھا بلکہ محلے سے باہر جن لوگوں سے تھوڑی بہت  جان پہچان تھی اُن کو بھی بُلایا  ۔دراصل راجہ صاحب کے گھر میں آج دس سال کے بعد اُن کے گھر میں پہلے پوتے کی آمد ہوئی تھی۔راجہ صاحب بڑی خوشی سے سب کو بتا رہے تھے کہ آج میں دادا بن گیا ہوں۔سب مہمانوں کے آنے کے بعد  راجہ صاحب نےفورا رانی صاحبہ کو مٹھائی لانے کا کہا  اور ساتھ ہی سب میں مٹھائی تقسیم کرنے کا کہاخوشی میں کسی نے بھی مٹھائی کم نہیں کھائی سب نے جی بھر کے کھائی مٹھائی کھانے کے بعد گھر کے تمام افراد سمیت  لوگوں کی آنکھیں بند ہو گئی  ۔

لیہ کے ایک گھر میں بچے کی آمد پر گھر والوں نے خوشی کے موقعہ کو دوبالا کرنے کے لیے محلے کی دکان سے مٹھائی  لائی اور سب گھر والوں میں تقسیم کی۔مٹھائی کھاتے ہوئے تقریبا 12 افراد اسی موقعے پر بے ہوش ہو گئے۔آہستہ آہستہ  2 دن کے اندر خاندان کے 30 افراد جان کی بازی ہار گئے۔خوشی کے موقعہ پر گھر میں صف ماتم بچھ گیا ۔ایک ہی باپ کے 8 بیٹے مٹھائی کھانے سے چل بسے باپ رو رو کر دعا کرتا رہا جب ہسپتال والوں نے اُس کے چار بچوں کے مر جانے کی اطلاع دی ۔باپ نے پھر   صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے التجا کرتا رہا خدا کے لیے میرے ایک بیٹے کو بچا لیں۔لیکن  لیہ کے گاؤں سے شہر کے ہسپتال تک ریل گاڑی میں سفر کرتے کرتے ہی اکثر مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں جنوبی پنجاب کے نام  کڑوڑوں روپے ہر سال لیے جاتے ہیں لیکن یہ پیسے کہاں جاتے ہیں؟اورنج ٹرین منصوبے پر خرچ کیے گے اربوں  روپے اور میٹرو بس میں لگائے گے پیسے اگر لیہ میں اس کا تیسرا حصہ بھی لگا دیا جاتا تو آج ایک باپ اپنے 8 جوان بیٹوں سے محروم نہ ہوتا ۔حکومت کے کسی نمائندے نے  نہ ہی کوئی کمیشن بنایا نہ ہی تحقیقات کی محلے والوں اور گھر کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جس دکان سے مٹھائی لائی گئی تھی  اُس دکان مالک نے بتایا کہ فصلوں کے لیے لائی گئی دوائی کو غلطی سے مٹھائی کے ساتھ رکھ دیا گیا تھا جس سے تقریبا ایک ہی خاندان کے 30 افراد جان کی بازی ہار گئے۔لیکن اس کی سزا کون دے گا ؟کوئی حکومت نام کی چیز ہے جو اس غریب خاندان کو سہارا دے گی ان سب سوالوں کا جواب شاید ہمیں کبھی مل سکے۔

کون کر سکتا ہے اُس کی آتش زوں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزودروں

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s