Uncategorized
Leave a Comment

ایک اور یتیم ہواکی بیٹی جان کی بازی ہار گئی


جیسے قلم رُک گئی ہو ہوا تھم گئی ہو اور دنیا ایک دن کے لیے غائب ہو گئی ہے ۔اور میڈیا والے تو جیسے آج سب چھٹی پر ہوں۔نہ کوئی شور مچا نہ کوئی بریکنگ نیوز چلی اور نہ ہی مریم نواز شریف کے ابو نے نوٹس لیا  ابو کا نام اس لیے لیا ابو ہوا کی بیٹی کے  ابو ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بیٹیوں کے غلطی سے تحفظ کے علمبدار ہیں۔کیسا تحفظ؟ کیوں حفاظت ؟کس طرح کا تحفظ؟یہ تو آج تک  نہ کسی پاکستانی بیٹی کو ملا اور نہ ہی ابا جی کی حکومت میں کسی کو ملے گا۔سوائے ابا جی کی بیٹیوں اور ابا جی کے ہواریوں کی بیٹیوں کے علاوہ اس ملک میں کوئی بیٹی ہے ہی نہیں اور تو سب لونڈیاں ہیں جب چاہا بیچ دیا جب چاہا ان کا خرید لیا اس زمانے کی لونڈیوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اگر ہوس کے مارے ہوئے درندوں کے آگے اُف بھی کی تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گیااور نبی کے دور کی لونڈی مکمل آزاد تھی وہ اپنی آزادی کے لیے بول سکتی تھی۔کچھ دن پہلے 16 سالہ سمیرا نامی لڑکی کو بھائی نے چھریوںسے  وار کر کے ہمیشہ کے لیے دُنیا سے روپوش کر دیا سمیرا 10 منٹ تک خون میں لہلولہان تڑپتی رہی بے بسی کا عالم یہ کہ بھائی پاس کھڑا اُس کی سانسیس ہمیشہ کے لیے بند ہونے کے لیے انتظار کرتا رہا۔معصوم بہن جو بھائیوں کے کپٹرے اُن کی فرمائش کے مطابق دھوتی ہوگی۔کبھی اُن کو بھوکا نہ رہنے دیتی ہوگی ۔جہاں وہ اپنی ننھی منھی کلایئوںمیں رنگ برنگی چوڑیاں پہنا کرتی تھی آج وہ کلائیاں خون سے رنگی ہوئی تھی جہاں ماں بوسہ دیتی تھی وہاں چھریوں کے نشانات تھے۔آج بھائی بولنے والے لب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے ۔سسکتی تڑپتی سمیرااپنی جان کی بازی ہار چکی تھی جب محلے والوں کو سمیرا کی موت کا علم ہوا تو محلے میں جیسے کہرام مچ گیا ہو۔جب محلے والوں کی آہوں سسکیوں کا شور   ہوا کے ساتھ مل گیا تو اُس علاقے کے ایس ایچ او نے فورا باپ بیٹے کو حراست میں لیا جب بیٹے سے قتل کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو بھائی نے بتایا کہ اگر وہ بہن کو نہ مارتا تو وہ بہت گندگی پھیلاتی کس طرح کی گندگی اس سوال کا کوئی جواب اُس کے پاس نہیں تھا۔بھائی تو دُور کی بات باپ نے تو بے حسی کی ساری حدیں پار کر دی باپ نے کہا اب تو وہ مر گئی ہے میرے بیٹے کو جیل میں مت ڈالو کیونکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔یہ بے قصور ہے۔غلطی سب اُس کی تھی۔آج ابا جی پھر خاموش ہیں کیونکہ ابا جی کی بیٹیاں محفوظ ہیں ۔کیونکہ پاکستان کے ابا جان  مر گئے ہیں زندہ ہوتے ہوئے اُن کا دل مُردہ ہو گیا ہےاور یتیم بیٹی کا کوئی سہارا نہیں تھا۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s