Uncategorized
Leave a Comment

دال پوری ہی کالی ہے


نظریں بدل گئی ہیں مہربانی اس قدر بڑھ گئی کہ پاکستانی عوام سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ شاید کوئی خواب ہو۔مشکل کھٹن راستے ہموار ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔زندگی کی روانگی میں تیزی آتی جا رہی ہے اور تو اور وہ عوام وہ لوگ جن کی بدولت آج وہ یہاں ہیں ۔اُن کے لیے ایک بار پھر اُن کی آنکھوں  میں دُھول  ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ڈرامے کا نام کیا ہے ؟کس نے یہ ڈرامہ تحریر کیا ہے ؟ڈرامے کی قسط نمبر کیا ہے؟۔جو بھی ہے جس طرح  ہے سب جانتے ہیں لیکن شاید وہ نہیں جانتے کہ ہم اتنے بھی معصوم نہیں ہیں حکومت میں رہ کر اگر غلطی سے کئی ایک بار پہاڑی علاقوں میں جہاز کے ذریعے جا کر چند روپیوں کے چیک تقسیم کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم سب کچھ بُھول گئے ہیں۔ہر کام پر لبیک کہا جا رہا ہے ۔وہ دوست جن کو صاحب بھول گئے تھے اُن پر اتنی مہربانی اس قدر کہ آئے دن وزیراعظم ہاؤس میں آمد آمد ہوتی ہے

پانامالیکس کی کہانی جس جس ملک میں کھلی اُس ملک کے کچھ حکمران گھر چلے گئے اور کچھ نے اپنی صفائی پیش کی۔پوری دُنیا میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر ادارہ اور اُس ادارے کے اندر کام کرنے والے افراد پارلیمنٹ کے آگے جواب دہ ہوتے ہیں۔پانامالیکس کی کہانی جب کھلی تو آئزلینڈ کے وزیراعظم کو فورا گھر جانا پڑا۔برطانیہ کے وزیراعظم نہ صرف پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوئے بلکہ اُنھوں نے ایک ایک ثبوت اپنی عوام کے سامنے پیش کیا۔نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں باقاعدہ بے عزتی کر کے  فورا پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا۔حتی کہ ارجیٹینا کے وزیراعظم نے قانونی اداروں کے سامنے اپنی بے گنائی ثابت کی۔جناب نواز شریف نے بیانات کی حد تک تو اپنا دفع ضرور کیا لیکن صرف باتوں کی حد تک وہ بھی اپنے انداز میں اپنے  پسندیدہ سوالوں کا جواب دیا ۔سوال بھی خود کیے اور جواب بھی خود دیے۔سوال گندم جواب چنا  کہتے ہیں اُس وقت سے ہم ٹیکس دے رہے ہیں جب اس لفظ کے ہجے بھی کسی کو نہیں آرہے تھے۔

پانامالیکس کا پنڈورا کھلا تو تقریبا سب ممالک کے حکمرانوں نے اپنی عوام کو  اعتماد میں لیکر فوراپارلیمنٹ اور عوام کے بییچ میں جا کر اپنے آپ کو پیش کیا۔اور فورا جان چھڑائی  لیکن جب پاکستانی وزیراعظم کی باری آئی تو وزیر اعظم صاحب نے صاف اور واضح الفاظ میں کہا نہ ہی میں پارلیمنٹ میں آؤں گا اور نہ ہی اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دوں گا۔صاف صاف الفاظ میں جواب نہ دینے کی نوید سُنا دی۔تو کیا عوام اتنی سوئی ہوئی ہے کہ وزیراعظم کے اس بیان سے وہ یہ نہیں سمجھ سکتی کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔وزیراعظم صاحب غلط سمجھ بیٹھے کہ شاید اس دفعہ صاحب کی چند مہربانیوں کی وجہ سے پاناما لیکس کی کہانی ہم بھول جائیں گے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s