Uncategorized
Leave a Comment

ڈرون یا موت کی ٹیکنالوجی


انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔سب سے اعلی بنا کر روئے زمین پر بھیجا ہے۔انسان کےلیے دُنیا میں انسان کو ہی اس کا نائب چُنا ہے۔تاکہ انسان کے اندر کی انسانیت انسان کی قدر کر سکے۔لیکن انسان نائب ہونے کے نشے میں سب کچھ بھول گیا ہے کہ اُس کو اللہ نے بطور انسان اس لیے پیدا کیا ہےکہ اپنے دوسرے انسان بھائی کی قدر کر سکے۔اس وقت امریکہ دُنیا کی سپر پاور ہے۔اور اس بات سے انکار کرنا دُنیا کی سب سے احمق ترین مثال ہو گی کہ پاکستان کے سیاستدانو ں کو عوام کے نہ ہی مسائل نظر آتے ہیں اور نہ عوام کی موت۔

ایک ریسرچ رپورٹ بتاتی ہے کہ القاعدہ کے مبینہ سربراہ ایمن کو مار ڈالنے کی جنونی مہم میں اب تک ڈرون حملوں میں 105 بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے بعض مطلوب افراد کو ٹارگٹ کرنے کی مہم کے دوران 128 پاکستانی شہری موت کی گھاٹ اتر گئے۔ تحقیقاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹارگٹ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد نشانہ بنے۔ ایسے حملے محض شک کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ ان کو امریکی سگنیچر سٹرائیک کا نام دیتے ہیں جبکہ سو فیصد یقینی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے آپریشن کو ٹارگٹ کلنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ شک کی بناءپر کئے جانے والے ڈرون حملوں کی تعداد پانچ ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہے۔ برطانوی اخبار گارجین کی ایک پرانی رپورٹ ہے کہ بعض اوقات ڈرون آپریٹر جان بوجھ کر اپنے نفسیاتی امراض کی تسکین، مذہبی یا نسلی تعصب کی بنیاد پر غیر متعلقہ افراد پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ایسے واقعات میں ہلاکتیں کسی اتفاق یا غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ دانستہ کی جاتیں ہیں۔ ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد موقع پر پہنچنے والے افراد یا پھر جنازے میں شریک لوگوں پر حملہ بھی اس مذہبی تعصب اور نفرت کے جذبےکی وجہ سے کیا جاتا ہے ۔ ایسے واقعات ریکارڈ پر ہیں کہ ڈرون حملوں میں خاص طور پر مساجد اور دینی مدارس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میزائل اس وقت برسائے جاتے ہیں جب نماز کا وقت ہو یا پھر نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہو۔ پاکستان کی سرحدی پٹی میں ایسے واقعات میں 347 بے گناہ افراد ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ایسے ہی ایک حملے میں مدرسے کے 81 طلبہ شہید ہوئے۔ ڈیلی میل کی ایک رپورٹ ہے کہ ڈرون حملوں میں نشانہ بننے والے ہر پچاس افراد میں زیادہ سے زیادہ ایک شخص جنگجو ہوتا ہے باقی سب غیر متعلقہ۔ متعدد امریکی اخبارات اور بین الاقوامی جرائد نے لکھا ہے کہ مساجد، مدارس اور نشانہ بننے والے افراد کی مدد کے لئے آئے ریسکیو ورکرز کو پالیسی کے تحت حملہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم رہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو نان نیٹو اتحادی قرار دیا گیا تھا۔ بلوچستان میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد امریکی صدر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب ملا فضل اللہ اور اس کے متعدد حواری افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں؟امریکی ڈرون حملوں کا رخ ان دہشت گردوں کی جانب کیوں نہیں ہوتا؟ کیا ان دہشت گردوں کے معاملے میں ڈرون ٹیکنالوجی فیل ہو جاتی ہے؟ کیا وہ دہشت گرد معصوم افراد کے قاتل نہیں؟ کیا ان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے؟ ان کے ساتھ مشترکہ مقاصد کا کوئی رشتہ ناطہ ہے۔ کوئی امریکی ترجمان جواب دے گا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کون کرے گ

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s