Uncategorized
Leave a Comment

سسٹم


موذن نے اللہ اکبر کی آواز بلند کی تو میں نے  بھی جلدی جلدی میں اذان کے ساتھ ساتھ نماز کی تیاری شروع کر دی۔وضو کیا گو کہ نماز کے لیے مکمل تیاری کرنے کے بعد مسجد کی طرف روانہ ہوا۔امام صاحب ممبر پر بیٹھے ہوئے خطبہ دے رہے تھے کیونکہ نماز کی ادائیگی میں ابھی کچھ وقت رہتا تھا۔میں بھی مسجد میں بیٹھ گیا۔عام نمازیوں کی طرح  میرے سمیت تمام نمازی جہاں جگہ مل رہی تھی وہاں بیٹھنے کی بجائے بیٹھے ہوئے نمازیوں کو پھلانگ کر آگے امام کے سامنے  بیٹھنے کو ترجیع دے رہے تھے ۔اسی کشمکش میں امام صاحب نے نماز شروع کروا دی۔نماز کے دوران ہر نمازی کوشش کرتا کہ میں زیادہ سے زیادہ جگہ لوں اور آرام سے نماز پڑھوں۔نماز ادا کرنے کے بعد میں  باہر نکلا  تو   کچھ نمازی میرے سے پہلے نکلے اور میں اُن کے پیچھے پیچھے تھا سب ہاتھ میں تسبیح لیے اس عنوان پر محو گفتگو تھے کہ ہمارے محلے میں فلاں آدمی سویا رہتا ہے نماز پڑھنے نہیں آیا فلاں گھر میں تو جیسے کسی نے کبھی مسجد کا منہ ہی نہیں دیکھا۔

میں جتنی کوشش کرتا کہ اُن لوگوں کی آواز میرے کان نہ سُن پائیں لیکن مجبوری میں بھی سُننی پڑ رہی تھی۔جو کہ اخلاقا غلط بات تھی ۔کسی کی باتوں پر مسلسل لگانا۔لیکن نہ چاہتے ہوئے سُننی پڑھ رہی تھی۔چھٹی  کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں گھر جانے کی بجائے بازار کی طرف  سفر باندھ لیا۔کافی دیر انتطار کے بعد وین آئی اور میں بھی بیٹھ گیا۔اور  وین میں بیٹھنے کے بعد عجیب منظر تھا۔ڈرائیور آج جیسے پہلی بار گاڑی  چلا رہا ہو ۔کنڈیکٹر  خواتین حضرات سے ایسے بات  کر رہا تھا جیسےاُس نے خواتین کو پہلی بار دیکھا  ہے۔

ہچکولے کھاتی ہوئی گاڑی اپنی منزل پر پہنچی میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا لیکن ساتھ ہی کنڈیکٹر نے صدا لگائی جلدی جلدی اُتریں ہمیں پہلے ہی بہت   دیر ہو چُکی ہے۔میں نے اُس کو فورا للکارتے ہوئے کہا کیا میرے صرف اُترنے سے تمھیں دیر ہو جائے گئی۔اُس نے میری بات کو ان سُنی  کر کے فورا  ڈرائیور  کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔خیر اُترا اور بازار کی طرف چل دیا۔بازار کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گیا۔پارکنگ کی جگہ گاڑیوں موٹر سائیکلوں کی بجائے ریڑھی والوں نے لی ہوئی تھی۔چند اوباش لڑکوں کے گروہو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خوانی کر  رہے تھے۔دکانوں کے اندر بیٹھے ہوئے دکان دار شاپنگ کرنے والی خواتین کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی کُتا قصائی کی دکان میں لگی ہوئی گوشت کی بوٹی کو ہوس اور بھوک کی نظر سے دیکھ رہا ہو۔زبان  اس قدر غلیظ اور اخلاق سے گری ہوئی استعمال کی جا رہی تھی جیسے اُن کو سکون مل رہا ہو۔نوجوان گلے میں ہار پہنے ہاتھوں میں کڑے پہنے ایسے گھوم رہے جیسے سڑکوں کا طواف کر رہے ہوں۔خرید و فروخت سب بھول گیا تھا۔سائیڈ پر درخت کے نیچے بیٹھ  کر اپنے تھکے ہارے جسم  کو  سہارا دیا اور سوچ رہا تھا کہ اس ملک میں سسٹم کی بات کرتے ہیں۔لیکن سسٹم کیا ہے؟کیا یہاں سسٹم کی ضرورت نہیں ہے؟اگر ہے بھی تو کون اس سسٹم کو بنائے گا؟ایک عام ریڑھی والے سے لے کر ایک بڑے گاڑی  والے  سے لے تک  کو سسٹم سے آگاہی نہ ہونا  یا پھر  آگاہی ہونے کے باوجود سسٹم کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہے۔سسٹم ایک عام پیدل چلنے والے آدمی سے لے کر وزیراعظم  تک سب کے لیے ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہے جو دوسروں کے لیے پریشانی کے بجائے آسانی کا راستہ پیدا کرے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s