Uncategorized
Leave a Comment

صحرائے تھر کی کہانی


تحریر:ساحرہ ظفر

خبر پر خبر میڈیا کا کام کبھی بریکنگ نیوز تو کبھی  لوکل نیوز لیکن خبر تو خبر ہوتی ہے دینی تو  پڑتی ہے۔آج حسب معمول ٹی وی پر چینل تبدیل کرنے کے باوجود ہر نیوز چینل پر ایک ہی خبر تھی کہ آج پھرتھرپارکر میں مزید تین بچے دم توڑ گئے ، ، جب کہ سول ہسپتال مٹھی سمیت تمام ہسپتالوں میں دو سو سے زائد بچے زیر علاج ہیں ،جبکہ تین بچوں کو حیدرآباد ہسپتال منتقل کیا گیا ، دوسری جانب پانی نہ ملنے کی وجہ سے 70 سالہ آدمی تڑپ550x291x4655-004-CFD53A65.jpg.pagespeed.ic.BdLP6plWf5 تڑپ کر جاں بحق ہو گیا ۔اس خبر کے سُننے کے بعد  صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200000مربع کلومیٹر اور 77,000  مربع میل ہے۔ اس کا شمار دنیا کے نویں بڑے صحراکے طور پر کیا جاتا ہے، صحرائے تھر بنیادی طور پر ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں سے آباد ہے۔ پاکستانی تھر کے حصہ میں سندھی اور کولہی برادر آباد ہیں۔ ریگستان میں لوگوں کا بنیادی پیشہ زراعت اور گلہ بانی ہے ۔گزشتہ سالوں میں وہاں پر انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ کہ جانوروں کی آبادی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ریگستان میں انسانی اور مویشیوں کی آبادی کا اضافہ ماحول میں بگاڑ کی وجہ ہے ۔سندھ کے اس صحرا کی آبادی تھر جس کو تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔تھر کا بڑا حصہ صحرا پر مبنی ہے ۔یہاں کوئلہ، گیس، مٹی اور گرینائیٹ جیسی معدنیات موجود ہے۔ تھر میں سے لال اور کالے پتھر کی کانیں بھی دریافت کی گئی ہیں۔یہاں بہت سارے مندر بھی ہیں جن کا تعلق ہندو مت ، جین مت اور بدھ دھرم سے ہے۔

اس خطے کو اگر سیاحت کے قابل بنایا جائے تھر میں بہت سارے بیرونی وفود سیر و سفرکے لیے آسکتے ہیں۔جس میں سے سندھ کو بہت سی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے اور تھر کی اس پسماندگی کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہر سال بھوک ، بیروزگاری اور خوراک کی کمی کی وجہ سے یہ علاقہ پسماندہ بنتا جارہا ہے۔ سرکار اپنی نااہلی چھپانے کے لیے، اس تمام بحران کو قحط کا نام دیکر اپنی جان چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی آئی ہے۔یہاں بہت سی حکومتوں کو بدلتے دیکھا ہے نہیں تو فقط تھر کی صورتحال نہیں بدل سکی، جو آج بھی بھوک اور افلاس کے ماروں کا دیس بنا ہوا ہے۔

تھر میں سب سے بڑا بحران صحت کے حوالے سے ہے ، عام انسان کی زندگیوں کو وقت پر بچانے کے لیے اقدام کیے جائیں تو شاید انسانی زندگیاں اور نا سمجھ بچے اپنی زندگی بچاسکیں۔ پچھلے ماہ صحت کے وزیر نے بھی یہ اعتراف کیا کہ بچوں میں اموات کا سبب ان میں خوراک کی کمی ہے۔ زمینیں کاشت کرنے والی خواتین کی خوراک درست نہیں ہے، اور اس کی وجہ سے وہ مائیں کمزور بچوں کو جنم دیتی ہیں۔یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر ماں میں خوراک کی کمی ہے تو وہ قصورماں کا ہے یا ہماری صوبائی حکومت کاہے، ہر شہری کو بہتر خوراک دینا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s