Uncategorized
Leave a Comment

میں اور تھر کا بچہ


تحریر:ساحرہ ظفر

انسان خطا کا پتُلا ہے۔اور انسان کو دوسرے کا احساس یا انسانیت کی پہچان اُس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ خود اُن مشکل حالات سے گزر نہ چکا ہو۔میں منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا ۔والد کی لوہے کی ایک بہت بڑی مل تھی۔جو اربوں کھربوں روپے پر مشتمل تھی۔جونہی ہوش سنبھالاوالد نے کاروبار میں اپنے ساتھ ملا لیا۔کاروبار میں والد کا ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے آہستہ آہستہ کالج کے زمانے میں سیاست کو اپنا اوڑھنا بھچونا بنا لیا۔سیاست کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا شروع کیا اور بہت جلد سیاست میں باقاعدہ  قدم رکھنا شروع کر دیے۔اردگرد کیا ہو رہا ہے؟کیوں ہو رہا ہے؟کس لیے ہو رہا ہے ؟ان پر میں کبھی غور نہیں کیا۔فاقہ لفظ کیا ہے؟کیوں ہوتا ہے؟اس لفظ کو نہ ہی میں نے کبھی غور سے پڑھا اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کی۔لوگوں کے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں ہے؟رہنے کے لیے چھت نہیں ہے اس چیز کی پرواہ میں نے کبھی نہیں کی۔اس لیے کیونکہ میرا گھر ایک عام جھونپڑی نہیں ہے اور نہ ہی ایک عام گھر ہے جہاں روزانہ ریڑھی والے کی آواز میرے کانوں میں صبح  شام گونجے اور نہ ہی میرے گھر کے پاس عام لوگوں کے گھر تھے جن کے بچوں کی آوازیں مجھے سُنائی دیں ۔اور نہ ہی میں نے کبھی سننا چاہی۔آج میں ملک کا وزیر اعظم ہوں۔میں اُس ملک کا سربراہ ہوں جس کے مولانا حضرات  کا فتوی صرف خواتین سے شروع ہوتا ہے اور انہی پر ختم ہوتا ہے۔خواتین کی بے حُرمتی عام ہو رہی ہے۔شادی سے انکار پر خواتین کو زندہ جلا دیا جاتا ہےیا تو تیزاب سے  خواتین کو  نہلا دیا جاتا ہے۔نوجوان نسل کو قتل کیا جا رہا ہے۔پولیس کے نام پر بھتہ رشوت اور ظلم کی انتہا عام ہو رہی ہے۔تھر میں بچے بھوک سے مسلسل مر رہے ہیں ۔لیکن مجھے آج بھی کچھ دکھائی سُنائی دکھائی نہیں دے رہا ہے کیونکہ آج بھی میرے گھر کی دیواریں بہت اُونچی ہیں۔دوسری طرف میں تھر کا وہ بچہ ہوں ۔جس کی ماں 9 مہینے مجھے پیٹ میں بھوک پیاس میں لیے روٹی کپڑے کی تلاش میں جگہ جگہ پھرتی رہی ہے۔لیکن اُس نے مجھے  جنم دیا اور میں دُنیا میں آیا ماں نے خود بھوکے رہ کر میری خوب دیکھ بھال کی۔میں ایک بڑا بچہ بن گیا لیکن اُونچے محل میں رہنے والے کی طرح  مضبوط گبھرو بچہ تو نہیں بن سکا لیکن ایک پتلی ٹانگوں والا ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کے ڈھانچے کے جسم کے ساتھ بڑا ہو گیا۔لیکن اب بھوک کی وجہ سے میری ماں اس دُنیا سے ہمیشہ  کے لیے جا چکی تھی اور اب مجھے بھوک کو برداشت کرتے کرتے بہت دیر ہو گئی تھی ۔میں نے اپنی ماں کی طرح ہمیشہ ہمیشہ اپنے ملک کو خدا حافظ کہا اور سو گیا ہمیشہ کے لیے۔ہم دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ میں آج بھی  میرے محل کی دیواریں اتنی اُونچی ہونے کی وجہ سے تھر کے کسی بچے کو نہیں دیکھ سکتا ہوں۔کیونکہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مٰیں بھوک جیسے لفظ سے نا آشنا ہوں۔اور شاید کبھی آشنا نہ ہوں کیونکہ میرا کوئی بچہ تھر میں نہیں رہتا۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s