Uncategorized
Leave a Comment

ڈرون کہانی


کوئی بھی حالات اور واقعات کئی بھی ہو رہے ہوں ان سے ایک کہانی بنتی ہے اور اُس کہانی کو کئی دیکھنے والی آنکھ کئی انسانی قلم محفوظ کر لیتی ہے۔اور محفوظ رہنے والے واقعات تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔مورخہ کبھی اپنے اندر محفوظ مواد میں یہ نہیں کہتی کہ میں صرف اچھی اچھی تاریخ اپنے پاس رکھو ں گی بلکہ ہر واقعات پر  گہری نظر رکھے ہوتی ہے۔اسی طرح کی ایک کہانی جو بہت ہی بے حس کہانی انسانی آنکھ نے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لی۔

بلوچستان کے ڈرون اٹیک سے پہلے امریکہ پاکستان میں ساڑھے تین سو زائد ڈرون حملے کر چکا۔ پائلٹ کے بغیر۔ سٹیلائٹ ٹیکنالوجی اور سپر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے اڑنے والے ڈرون طیارے۔ ان طیاروں سے فائر کئے گئے ویپن سیاہ فام امریکی صدر اوباما کا فیورٹ ویپن ہے۔ ہزاروں میل کسی دور دراز فضائی کیبن میں بیٹھا۔ تربیت یافتہ آپریٹر چند ضروری کمانڈ دیکر اپنی ایک انگلی کی مدد سے جب یہ میزائل فائر کرتا ہے تو بے خبر ٹارگٹ کو آخری لمحہ تک بھی پتہ نہیں چلتا کہ یقینی موت اس کے سر پر منڈلا رہی ہے۔ کسی کمپاﺅنڈ میں محو ہو یاکسی محفوظ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے۔ اچانک اپنا وار کر جاتی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ڈرون کے ذریعے میزائل حملہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ٹارگٹ کے پاس سٹیلائٹ فون یا موبائل سم نہ ہو۔ بعض اوقات مائیکرو چپ بھی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بلوچستان کے علاقے احمد وال میں۔ امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی کراچی نمبر کی گاڑی میں ایسی کسی چپ کی موجودگی کا پتہ لگایا گیا ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ملا منصور یا ولی محمد کے سامان میں ایسی چپ خاص طور پر لگائی گئی ہوگی۔ اگر وہ گاڑی میں نصب نہیں تو اس بات کو یقینی بنایا گیا ہوگا کہ یہ اس گاڑی میں ہی بیٹھے گا۔ لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ ٹارگٹ کی سب کاروائی ہمسایہ ملک سے ہوئی۔ جیسے ہی وہ پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔ پہلے سے تیار گاڑی میں بیٹھا۔ کچھ ہی دیر بعد مہلک میزائل کا نشانہ بن گیا۔ فی الحال اس بات پر پردے پڑے ہوئے ہیں کہ جاں بحق ہونے والے شخص کی اصلیت کیا ہے؟ اگر مذکورہ شخص ملا اختر منصور ہی ہے تو اس کے پس پردہ کہانی کیا ہے؟ اس حملے کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ کیا مقاصد افغان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے؟ پاکستان کو مزید انڈر پریشر رکھنا ہے؟ کلبھوش یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت کو تھوڑا ریلیف دینا ہے؟ ایران، بھارت، افغانستان کی نئی راہ میں رکاوٹ طالبان سے مل ملاپ؟ کچھ سوال ایسے بھی ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔۔ بس چند روز کی بات ہے پائلٹ کے بغیر چلنے والے طیارے تقریباً تمام جدید ٹیکنالوجی کے حامل ممالک کے پاس موجود تھے اور ہیں۔ عام طور پر ان طیاروں کو موسمیاتی اور ارضیاتی نگرانی، فصلوں پر چھڑکاﺅ اور سرحدی نگرانی کے لئے تصویری ڈیٹا حاصل کرنے کی غرض سے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن دنیا کے ہر خطے میں جنگیں لڑ کر اپنی معیشت کا پہیہ چلانے والے امریکیوں نے اس بے ضرر، خاموشی سے پرواز کرتے ہوئے طیارے کو ہلاکت خیز ہتھیار میں بدل دیا۔ امریکیوں نے اس کو سٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے جوڑکر کے سو فیصد نتائج دینے والی مشینری میں بدل دیا۔ امریکیوں نے اس ہتھیار کو صومالیہ، افغانستان، پاکستان، یمن، لیبیا اور عراق میں استعمال کیا۔ لیکن اس ہتھیار کو وسیع پیمانے پر امن پسند، امریکی صدر بارک اوبامہ کے دور میں استعمال کیا گیا۔ امریکی تاریخ کے پہلے صدر جس کا اپنا تعلق کچلے ہوئے سیاہ فام طبقے سے تھا۔ مختلف خطوں میں جاری جنگوں کے خاتمے کو ختم کر کے دنیا کو امن کا تحفہ دینے کے وعدے پر الیکشن لڑ کر جیتا تھا۔ اس کو عراق، اقتدار میں آتے ہی اس نے جنگیں بند کرنے کی بجائے خفیہ اور ریموٹ کنٹرولڈ جنگوں کی پالیسی اپنائی۔ لہٰذا طے یہ پایا کہ امریکی فوجیوں کا کم سے کم جانی نقصان کرانے کے لئے اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے۔ جو سو فیصد مطلوبہ نتائج دیتا ہے ۔ آج باری باری شفٹوں میں ڈیوٹی دینے والے چند اہلکار اپنے محفوظ کیبن میں بیٹھے انگلیوں کی مددسے دور دراز شہروں میں بیٹھے حقیقی اور فرضی دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ مقتول تو سب کو معلوم لیکن قاتل کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے بتاتے ہیں کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والے 90 فیصد افراد بے گناہ ہوتے ہیں۔ ان کو یا تو شک کی بنیاد پر ہلاک کیا جاتا ہے یا پھر وہ اصل ٹارگٹ کے ساتھ موقع پر موجودگی کے سبب حملے کی زد میں آتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں کہ غلط اطلاع کی بنیاد پر میزائل فائر ہوا۔ نشانہ بنائے گئے گھر میں بے گناہ بچے، خواتین اور مذکورہ فیملی کے مال مویشی تھے۔ اس طرح کے کئی واقعات میں ایک ہی ٹارگٹ میں پندرہ یا بیس افراد ہلاک ہوئے۔حکومت پاکستان ایک دفعہ پھر اس بات پر سوچنا ہو گا کہ آخر کب تک بے گناہ لوگوں کا خون امداد کے بدلے قربان کرتی رہے گی۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s