Uncategorized
Leave a Comment

قندیل غیرت کے نام پر قتل


عورت کو کیوں مارا جا رہا ہے؟کس لیے مارا جا رہا ہے؟کس نے مارا ہے؟ان سب سوالوں کا جواب عورت کے ٹھیکیدار بھائی،خاوند  اور باپ  یا عالم دین جو دین کے نام پر ایک بہت بڑا دھبہ ہے۔وہ سب اس سوال کا ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ   غیرت کے نام پر عورت کو قتل
کیا جاتا ہے۔غیرت۔۔۔۔؟غیرت؟

غیرت ہے کیا ؟کیا یہ غیرت صرف عورتوں کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔اور تخلیق کرنے والے وہ مرد جو عورت کو  دیکھتے ہی سب سے پہلا  خیال ذہن میں لاتے ہیں کہ فلاں عورت بستر میں ہمارے ساتھ کیسے لگے گی۔؟سوچنے کی نہیں پوچھنے کی بات یہ ہے کہ اگر عورت غلط ہے یا گندی ہے تو کیا تالی ایک ہاتھ سے بجتی ہے۔سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز سے شہرت پانے والی پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کو ملتان میں قتل کر دیا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے بتایا کہ قندیل کو ان کے بھائی نے ہلاک کیا ہے۔پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے والد نے بتایا کہ قندیل کے بھائی کی اُن سے کوئی ناراضی یا دشمنی نہیں تھیں جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔بتایا  گیا ہے کہ قندیل کی موت دم گھٹنے سے ہوئی اور انھیں گلا دبا کر ہلاک کیا گیا ہے۔اور کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ موت فائرنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم وسیم ڈیرہ غازی خان میں موبائل فونز کی دکان چلاتا ہے اور گذشتہ شب ہی اپنے والدین سے ملاقات کے لیے ملتان آیا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد ڈیرہ غازی خان میں ملزم وسیم کو لوگ طعنے دیتے تھے۔انھوں نے کہا کہ ملزم اس واقعے کے بعد سے مفرور ہے اور اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔کیا بُرائی عورت دیوار سے کرتی ہے؟جی ہاں جس طرح آپ اور میں جانتے ہیں کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ٹھیک اسی طرح عورت کے ساتھ بُرائی میں مرد بھی برابر کا شریک ہوتا ہے۔خدا کی قسم اگر خواتین غیرت کے نام پر مردوں کا قتل شروع کر دیں تو پاکستان میں صرف گنے چنے مرد بچ جائیں  اور پاکستان مردوں کو ووسرے ممالک سے خریدتا پھرے۔قندیل کے بھائی نے قندیل کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا ہے۔لیکن قندیل کے بھائی کو غیرت کے نام پر کب اور کون قتل کرے گا۔یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔بدقسمتی سے اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک پاکستان میں غیرت صرف خواتین  سے شروع ہوتی ہے اور ختم ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطأً﴾․ (نساء: 92)ترجمہ: ”کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے ّیہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔”

جو شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔ اس کی سزا کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اورجو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ (سورة النساء:جب اللہ تعالی نے واضح طور پر اپنی کتاب میں بتا دیا کہ ناحق قتل کرنے والوں کے لیے  سخت سزا  رکھی گئی ہے۔تو اُس کی  کتاب کو ماننے والے یقین رکھنے والے اللہ تعالی نے کبھی بھی کسی جگہ یہ حق نہیں دیا کہ وہ  اللہ تعالی کی دی ہوئی زندگی کو اس طرح ختم کرے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s