Uncategorized
Leave a Comment

صراط مستقیم کیا ہے؟


قارئین کرام ! سورۃ فاتحہ پڑھنے والا  ہر انسان اللہ تعالیٰ  سے دعا مانگتا ہے / مانگتی ہے  کہ اللہ تعالیٰ اس کو صراط مستقیم  یہ چلادے یہ وہ سیدھا راستہ ہے جو انسان کو پانچ وقت کی نماز وں کی تما م رکعتوں کو پڑھنے والا اڑتالیس 48 مرتبہ اور تہجد بھی پڑھنے والا پچاس یا اس سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پہ چلانے کی دعا کرتا  ہے تو آخر یہ صراطِ مستقیم ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا جواب دیا ہے ۔  سورہ انعام آیت نمبر 151 تا 153(اے پیغمبرﷺ) کہہ دیجئے آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ تمھارے رب نے کن باتوں سے روکا ہے (اور کن کا حکم دیا ہے)

: رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔

: اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک  سے فرض پورا کرو۔

: اپنی اولاد کو غربت اور افلاس کی وجہ سے مت مارو ہم ان کو اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں۔

: الفواحش یعنی فحش باتوں سے دور رہو چاہے وہ کھُلی ہو یا چھپی ہوں۔

: اور کسی کو بھی قتل نہ کرو کیونکہ انسانی جان کو اللہ نے   باحرمت قرار دیا ہے ما سوائے حق( اور عدل کا پورا طریقہ کار ) کو پورا کرنے کے بعد( یعنی قانونی طریقہ کار کے ذریعے) یعنی ایک انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کا انفرادی حق حاصل نہیں۔یہ معاشرے یا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری اور حق ہے۔ یہ حق صرف حکومت اور معاشرے کا ہے وہ بھی قانونی طریقہ کار پورا کرنے کے ذریعے

: اور کسی یتیم ( اور کمزور مسکین) کے مال و جائداد  کے قریب مت جاؤ(نہ ہتھیا ؤ)سوائے اس کی بہتری کے لیے حتٰی  کہ وہ بالغ عمر کو پہنچ جائے ۔

: اور ناپ تول کو پورے انصاف سے پورا کرو ہم ( یعنی رب) کسی پہ اتنا ہی بوجھ ڈالتے ہیں جو وہ سہہ سکتا ہے

: اور جب بھی عدل کرو ( یاگواہی دو) تو سچ بولو چاہے وہ تمھارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو

: اور اللہ ( کے نام پہ)  کئے عہد ( اور معائدوں) کو پورا کرو یہی اسکا حکم ہے تاکہ  تم یاد رکھو سکو۔

” اور بے شک یہی صراط مستقیم  ہے اور اس پر چلو اور کسی اور راستے پہ نہ چلو  تمہیں  اپنے رب سے دور لے جائے  گا کیونکہ وہ اور یہی اس کا حکم ہے تاکہ تم متقی بن سکو”

سورہ بنی اسرائیل  کی آیت  نمبر 21 سے لے کر آیت نمبر 39  تک اللہ تعالیٰ  نے اس صراط امستقیم  کا پھر ذکر یوں کیا ہے۔

 ” شرک مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو،اپنے والدین سے حسن سلوک اور فرض پورا کرو، اور اگر وہ بوڑھے ہوں تو بے ادبی کا ایک لفظ بھی مت بولو، اونچا  نہ بولو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے  بات کرو،  اور رحمدلی اور دھیمی مزاج سے کام لو ، رشتہ داروں، مساکین اور مسافروں کو خیال رکھو اور ان کو ان کا حصہ دو، نہ فضول خرچی کرو، نہ کنجوسی سے کام لو، اپنی اولاد کو غربت اور افلاس کے ڈر سے مت مارو ، فحش باتوں اور زنا سے اجتناب کرو ، کسی کی جان مت لو، یتیم کے مال کا خیال رکھو، اپنے عہدپورے کرو ، اور ناپ تول پورا  اور عدل و انصاف کے ساتھ کرو، اور زمین پر اکڑ کر مت چلو، نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہونہ تم پہاڑ کی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہو۔ یہ تمام باتیں تمہارے رب کو ناپسند ہیں اور یہی وہ حکمت ہے جو تمہارے  رب نے نازل کی ہے”

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s