Uncategorized
Leave a Comment

بد خصال


تحریر :ساحرہ ظفر

 

سلطان مراد نے ایک رات بڑی گھٹن اور تکلیف میں گزاری ۔لیکن وہ اس کا سبب نہ جان سکا ۔ اس نے اپنے سیکورٹی انچارج کو بلایا اس کو اپنی بےچینی کی خبر دی ۔ بادشاہ کی عادت تھی ، کہ وہ بھیس بدل کر عوام کی خفیہ خبرگیری کرتا تھا ۔ کہا چلو چلتے ہیں اور کچھ وقت لوگوں میں گزارتے ہیں ۔ شہر کے ایک کنارے پر پہنچے تو دیکھا ایک آدمی گراپڑا ہے ۔ بادشاہ نے اسے ہلا کر دیکھا تو مردہ انسان تھا ۔ لوگ اس کے پاس گزرے جارہے تھے ۔ بادشاہ نے لوگوں کو آواز دی  کہ ادھر آؤ لوگ جمع ہوگئے اور وہ بادشاہ کو پہچان نہ سکے  پوچھا کیا بات ہے بادشاہ نے کہا آدمی مرا ہوا ہے اس کو کسی نے کیوں نہیں اٹھایا کون ہے یہ اور اس کے گھر والے کہاں ہیں لوگوں نے کہا یہ  اسفلشخص ہے بڑا شرابی اور زانی آدمی تھا ۔ بادشاہ نے کہا کیا یہ امت محمدیہ میں سے نہیں ہے چلو اس کو اٹھاؤ اور اس کے گھر لے چلو لوگوں نے میت گھر پہنچا دی اس کی بیوی نے خاوند کی لاش دیکھی تو رونے لگی لوگ چلے گئے بادشاہ اور اس کا سیکورٹی انچارج وہیں کھڑے عورت کا رونا سنتے رہے وہ کہہ رہی تھی  میں گواہی دیتی ہوں بیشک تو اللہ تعالٰی کا ولی ہے اور نیک لوگوں میں سے ہے سلطان مراد بڑا متعجب ہوا یہ کیسے ولی ہو سکتا ہے ؟لوگ تو اس کے متعلق یہ یہ باتیں کررہے تھے اور اس کی میت کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ تھے اس کی بیوی نے کہا مجھے بھی لوگوں پر یہی توقع تھی

 اصل حقیقت یہ ہے کہ میرا خاوند ہر روز شراب خانہ جاتا جتنی ہو سکے شراب خریدتا اور گھر لا کر گڑھے میں بہا دیتا اور کہتا کہ چلو کچھ تو گناہوں کا بوجھ مسلمانوں سے ہلکا ہوا  اسی طرح رات کو ایک طوائف کے پاس جاتا اور اس کو ایک رات کی اجرت دے دیتا اور اس کوکہتاتکہ اپنا دروازہ بند کرلے کوئی تیرے پاس نہ آئے ، گھر آکرکہتا  الحمدللہ آج اس عورت کا اور نوجوان مسلمانوں کے گناہوں کا میں نے کچھ بوجھ ہلکا کردیا ہے ۔ لوگ اس کو شراب خانے اور طوائف کے گھر آتا جاتا دیکھتے تھے ۔میں اسے کہتی تھی یاد رکھ جس دن تو مر گیا لوگوں نے نہ تجھے غسل دینا ہے نہ تیری نماز جنازہ پڑھنی ہے اور نہ تجھے دفنانا ہے ۔ وہ مسکرا دیتا اور مجھے کہتا کہ گھبرا مت تو دیکھے گی کہ میرا جنازہ وقت کا بادشاہ ، علماء اور اولیاء پڑھیں گے ۔بادشاہ رو پڑا اور کہنے لگا میں سلطان مراد ہوں ۔ کل ہم اس کو غسل دیں گے ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور ہم اس کی تدفین کریں گے چنانچہ اس کا جنازہ بادشاہ علماء ، اولیاء اور کثیر عوام نے پڑھا ۔بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں ایسی ہی وبا پھیلی ہوئی ہے کہ ہم بغیر کسی کو جانے ایک نظر میں اسکو  دیکھ کر اُس کے بارے میں اپنی رائے قائم کر دیتے ہیں۔جو نہ صرف بعض دفعہ ہمارے لیے خود  کے لیے باعث شرمندگی بن جاتا ہے۔بلکہ اکثر بیشتر اس کا بہت بڑا خمیازہ  ہمیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔مزید اس نقصان سے بچنے کے لیے ہمیں خود اور اپنی آنے والی نسلوں  کو اس عمل سے بچنے کے لیے ذیادہ سے ذیادہ سوچنے سمجھنے  اور غوروفکر کی مشق کرنی ہو گی۔تاکہ  اس غلیظ فعل سے چھٹکارہ مل سکے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s