Uncategorized
Leave a Comment

آفاق گیرہستیاں


تحریر :سائرہ ظفر

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور دُنیا پر چھا جاتے ہیں۔لیکن چند آفاق گیر ہستیاں اپنا مقام خود بناتی ہیں ۔سوچتی ہوں یہ ہستیاں جب دُنیا سے رُخصت ہوئی ہیں تو اللہ تعالی کی نوری مخلوق نے کتنے ادب اور احترام سے اعلان کیا ہو گا کہ آج اللہ تعالی تیرے اُن بندوں کو لائے ہیں جہنوں نے شاید ہی کوئی حقوق االعباد میں غلطی کی ہو۔عبدالستار ایدھی کے نام شاید کوئی بندہ ایسا ہو جو ناواقف ہو۔آپ کی خدمات ،سادگی،رہن سہن سے ہر کوئی واقف ہے ۔لیکن سیاست وہ واحد پیشہ ہے صرف پاکستان جس میں لوگ  خالی جیب آتے ہیں اور واپس سات نسلوں کا خرچہ لے کر جاتے ہیں ۔

عبدالستار ایدھی کو جنرل ضیاالحق نے بے حد اصرار کرکے انھیں مجلس شوری کی رکنیت دی مگر سادہ زندگی گزارنے والے عبدالستارایدھی اس پوزیشن سے خوش نہ ہو سکے جب وہ مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس میں شرکت کیلیے اپنے خرچ پرراولپنڈی پہنچے توتیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کیا،فٹ پاتھ پربیٹھ کر کھانا کھایا اور بذریعہ بس اسلام آباد پہنچ گئے جب وہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پرپہنچے تو افسران دوڑے چلے آئے اور کہا کہ آپ کہاں تھے ہم نے آپ کے قیام اورطعام کا بندوبست کر رکھا تھا لیکن انھوں نے عاجزی سے کہا کہ میں ساری زندگی عیش و عشرت سے دور رہاہوں اسی مزاج کی وجہ سے وہ بہت کم اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور بتدریج حکومت سے دوری اختیارکرلی۔
معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کو 1986 فلپائن  نے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دیا 1988 لینن پیس پرائز سے نوازا گیا متحدہ عرت امارات میں ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات اور اطالیہ میں خدمت برائے انسانیت امن و بھائی چارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔1992 میں پال ہیرس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن جبکہ 2009 میں انھوں نے یونیسکو کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا اس کے علاوہ انھیں پاکستان میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ اور حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمت گزار برائے برصغیر پاکستان کا نشان امتیاز دیا گیا عبدالستار ایدھی کو محکمہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز بھی دیا گیا۔عبدالستار ایدھی کو پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کا اعزاز خدمت، پاکستان سوک اعزاز، پاکستان انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزاز اور عالمی میمن تنظیم نے بھی انھیں لائف ٹائم ایوارڈ دیا ہے۔

دوسری طرف ———————————

سلطان مراد ترکستان کا بادشاہ اور اسلامی دنیا کا حکمران تھا۔ عیسائیوں کی بڑی بڑی حکومتیں اس کے نام سے لرزہ تھیں۔ یوں تو ہر مسلمان حکمران کو عمارتیں بنوانے کا شوق رہا ،مگر سلطان مراد مسجدوں کی تعمیر میں خاص دلچسپی لیتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے اپنے دل میں مسجد کا ایک نقشہ بنایا۔ مسجد اس کے تخیل کا حسین مرقع تھی۔ اس زمانے میں ایک انجینئر کی بڑی شہرت تھی۔ بادشاہ نے اسے بلایا‘ اپنا نقشہ اسے دکھایا اور مسجد کی تعمیرپرلگا دیا۔آخرکار مسجد تیار ہو گئی جو فی الواقع ایک شاندار مسجدتھی۔ بادشاہ اگلی صبح مسجد دیکھنے کیلئے چلا گیا۔ ہر طرف سے مسجد کو دیکھا مگر بادشاہ کو یہ عمارت مطلق پسند نہ آئی۔ اس نے حکم دیا کہ انجینئر کا ایک ہاتھ استثنا کر دیا جائے۔ حکم کی دیر تھی۔ جلاد نے حکم پایا تو ایک ہاٹھ کاٹ دیا۔ انجینئر کو یہ سزا بلاوجہ ملی تھی۔ وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں جا پہنچا اور دعویٰ دائر کر دیا۔ قاضی نے بادشاہ کوحاضر ہونے کا حکم دیا۔ بادشاہ حاضر ہوا تو انجینئر کو کھڑے پایا۔ اس کے ایک ہاتھ سے خون کے سرخ قطرے گر رہے تھے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر گھبرا گیا۔ قاضی نے بادشاہ کے بیانات لئے اور حکم دیا کہ بادشاہ کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ بادشاہ نے قاضی کا حکم سنا تو اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔ یکدم انجینئر بولا ’’میں نے اپنا انصاف پا لیا‘ میں بادشاہ کو بغیر کسی دبائو کے بخشتا ہوں۔‘‘ یہ سن کر بادشاہ کی جان میں جان آئی اور اس نے انجینئر کو بہت سا مال و زر دیکر رخصت کیا۔

یہ دونوں ہستیاں   قاضی اور عبدالستار میں خوبیاں الگ الگ تھی ۔لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا لوگوں کی خدمت کرنا قاضی نے انصاف دے کر لوگوں کی خدمت کی اورعبدالستار نے لوگوں کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک جو جو ہو سکا جہاں تک ہو سکا اپنا حصہ اُس میں ڈالا۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s