Uncategorized
Leave a Comment

الحمداللہ


تحریر :سائرہ ظفر

کسی  جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرہوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینادنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا اوراس کے مقابلے میں

میں کتنا کالا ہوں۔ کوے نے جب یہی بات ہنس سے کی تو ہنس بولا کہ میں بھی اپنے آپ کو دنیا کا خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندہ سمجھتا تھا لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو مجھے اس پر رشک آیا کہ اس کو دو خوبصورت رنگوں سے نوازا گیا ہے اور میرے خیال میں تو طوطا دنیا کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے۔ کوا یہ سب سن کر طوطے کے پاس پہنچا۔جب اس نے یہی بات طوطے سے کہی تو طوطا بولا کہ میں بھی بڑا خوش باش اور اپنی زندگی اور خوبصورتی سے بْڑا مطمئن تھا ۔لیکن جب سے میں نے مور کو دیکھا ہے میرا سارا سكون اور خوشی غارت ہو گئ ہے۔ مور کو تو قدرت نے بے شمار ْخوب صورت رنگوں سے نوازا ہے۔کوا مور کو ڈھونڈتے ہوئے چڑیا گھر پہنچ گیا جہاں مور ایک پنجرے میں قید تھا اور سینکڑوں لوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ شام کو جب ذرہ لوگوں کی بھیڑ کم ہوئی تو کوا مور کے پاس پہنچا اور بولا پیارے مورتم کس قدر خوبصورت ہو۔ تمہارا ایک ایک رنگ کتنا خوبصورت ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ تمہیں دیکھنے آتے ہیں اور ایک میں ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی شو شو کر کے مجھے بھگا دیتے ہیں۔ تم یقینادنیا کے خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندے ہو۔ تم کتنے خوش ہوگے۔

 مور بولا۔ہاں میں بھی خود کو دنیا کا سب سے حسین پرندہ سمجھتا تھا لیکن ایک دن اسی خوبصورتی کی وجہ سے مجھے پکڑ کر اس پنجرے میں قید کر لیا گیا۔ جب میں اس چڑیا گھر کا جائزہ لیتا ہوں تو ایک کوا ہی ایسا پرندہ ہے جسے پنجرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔

 اب پچھلے کچھ دنوں سے میں سوچتا ہوں کہ کاش میں ایک کوا ہوتا اور آزادی سے جنگلوں میں اڑتا گھومتا پھرتا۔

بالکل اسی طرح آج کل والدین ماں باپ آپ کو ہمیشہ یہ کہتے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں کہ کاش میرا بیٹا یا بیٹی اُس جیسی خوبصورت ہوتی یا ہوتا کاش میں اُس کی طرح  ذہین ہوتی۔یہ نہیں  صرف کہتے ہیں  بلکہ باقائدہ بچوں کو طعنہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں کا بچہ بہت  زیادہ خوبیوں  کا مالک ہے اور تم تو نہ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔

لیکن جب اللہ تعالی کی بنائی ہوئی حقیقتوں کا اندازہ انسان کو آہستہ  آہستہ ہوتا ہے کہ ہر انسان میں اللہ تعالی نے کوئی نہ کوئی خوبی رکھی ہوئی ہے تو  بر ملا الحمداللہ کہتے ہیں۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s