Uncategorized
Comment 1

ڈریکولانُما حاکم


 

کسی  بحری جہاز پر ایک ڈریکولا انسانی روپ میں سوار تھا۔ رات ہوتے ہی وہ جہاز پر سوارہوتا اور  کسی انسان کا خون پیتا اور یوں اپنی پیاس بجھاتا ایک روز یہ بحری جہاز بیچ سمندر میں کسی چٹان سے ٹکرا گیا۔لوگ فوراً لائف بوٹس کی طرف بھاگےیہ ڈریکولا بھی ایک آدمی کی مدد سے ایک لائف بوٹ پر سوار ہو گیا ۔
قسمت کی خرابی کہ اس کی لائف بوٹ پر صرف ایک ہی شخص تھا اور یہ ہی وہ شخص تھا جس نے اسے بچایا اور کشتی میں آنے میں مدد کی۔
رات ہوئی توڈریکولا کو انسانی خون پینے کی پیاس ہوئی۔ڈریکولا نے  سوچا بےشرمی ہو گی

جو میں اپنے محسن کا خون پیوں ۔ اس نیک بندے نے ہی تو مجھے ڈوبنے سے بچایا ہےمیں کس طرح احسان فراموشی کروں؟
ایک دن ،دو دن ،تین دن وہ اسی دلیل سے خود کو روکتا رہا ۔ بلاآخر ایک دن دلیل پر فطرت غالب آ گئی اس کے نفس نے اسے دلیل دی کہ صرف دو گھونٹ ہی پیوں گا اور وہ بھی اس وقت جب محسن انسان نیند میں ہو گا۔ تاکہ اس کی صحت پر کوئی واضع فرق بھی نہ پڑے اور میری پیاس بھی تنگ نہ کرے۔
یہ سوچ کر روزانہ اس نے دو دو گھونٹ خون پینا شروع کر دیے۔ایک دن اس کا ضمیر پھر جاگا اور اس پر ملامت کرنے لگاتو اس شخص کا خون پی رہا ہے جو تیرا دوست ہے۔ جس نے نہ صرف تجھے بچایا بلکہ جو مچھلی پکڑتا ہے۔ جو اوس کا پانی جمع کرتا ہے اس میں سے تجھے حصہ بھی دیتا ہے۔ یقیناً یہ بے شرمی کی انتہا ہے۔یہ محسن کشی ہےاس بے شرمی کی زندگی سے تو موت اچھی ۔
ڈریکولا نے فیصلہ کیا کہ اب میں کبھی اپنے محسن کا خون نہیں پیوں گا ۔
ایک رات گزری، دوسری رات گزری ، تیسری رات ڈریکولا کا محسن بے چینی سے اٹھا اور بولا تم خون کیوں نہیں پیتے۔ ڈریکولا حیرت سے بولا کہ تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں ڈریکولا ہوں اور تمھارا خون پیتا تھا ۔
محسن بولا کہ جس دن میں نے تمھیں بچایا تھا اس دن تمھارے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کر کے میں سمجھ گیا تھا کہ تم انسان نہیں ہو۔
ڈریکولا ندامت سے بولا دوست میں شرمندہ ہوں جو میں نے کیا لیکن اب میرا وعدہ ہے کہ میں مر جاؤنگا لیکن تمھیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔
محسن بولا کیوں مجھ سے دشمنی کا اظہار کر رہے ہو؟۔ پہلے پہل جب تم خون پیتے تھے تو مجھے تکلیف ہوتی تھی ۔لیکن میں چپ رہتا کہ کہیں تمھیں پتہ نہ چل جائے اور میں مارا جاؤں۔لیکن  اب مجھے خون پلانے کی عادت ہو گئی ہےاور پچھلے تین دن سے عجیب بے چینی ہے  اگر تم نے خون نہ پیا تو میں مر جاؤں گا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ ایسے ڈریکولا ہیں جو مسلسل اُن مُحسنوں کا خون پی رہے ہیں ۔جو اُن کو اپنی ووٹ سے منتخب کرتے ہیں ۔لیکن اُس محسن کی طرح عوام بھی اس قدر عادی ہو گئی ہیں کہ جب ڈریکولا نما حکمران خون نہ چُوسے تو برملا کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ کئی آپ ہمیں مار  نہ دیں خدا راہ ہمیں کچھ نہ کہنا  ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگلے پانچ سال مزید آپ کو اپنا خون چُوسنے کا موقعہ دیں گے۔لیکن میں اور آپ یہ بات شاید بھول گئے ہیں کہ اگر  انسان میں خون کی کمی ہو جائے  تو وہ خود بخود موت کا شکار ہو جاتا ہے۔آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ڈریکولا کو خون پلانا ہے یا پھر ڈریکولا کی نسل کو ناپید بنانا ہے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

  1. Umbreen says

    Well written blog!!! True picture of our hypocritic political system!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s