Uncategorized
Leave a Comment

بیع نامہ


 

تحریر:ساحرہ ظفر

اللہ تعالٰی نے انسان کو سب سے اعلٰی ہونے کا شرف بخشا ہے۔اس لحاظ سے انسان کے لیے طرح طرح  کی چیزیں پیدا  کی جن کو کھا کر نہ صرف انسان اللہ کا شکر ادا کرتا ہے بلکہ اس  پر غور فکر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

انسان اپنی پیٹ پوجا کے لیے  اور طرح طرح کے کھانوں کے لیے بازار کا رُخ کرتا ہے کہ شاید اُس کی پسند کے مطابق اُسے کچھ مل جائےانسان نے انسانوں کے لیے اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں سے منڈیاں سجائی  ہوتی ہیں ۔لیکن میرے ملک پاکستان میں آنے والے مستقبل کی منڈیاں لگتی ہیں۔ ظالم درندے معصوم پھولوں کو خریدنے کے بعد  باقاعدہ دستاویزات مانگتے ہیں  تاکہ وہ اپنے کاروبار کو مزید وُسعت دینے کے لیے دی گئی دستاویزات کو دکھا کر مزید پیسے کما سکے۔

گزشتہ دو ،تین ماہ کے دوران صرف لاہور میں تین سو سے زائد نابالغ بچوں کے اغوا ء کی اطلاع ہے اور قریباً تین بچوں کی نعشیں مل چکی ہیں جن کو ذیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سپارک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 ء میں روزانہ اوسطاََ دس بچوں کو جنسی حوس کا سامنا کرنا پڑا۔ حاصل کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2015 ء میں 3,768 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ لاہور میں اغوا ء ہونے والے بچوں کی تعداد گزشتہ سال سے بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں جنوری تا جولائی تک 6 ماہ میں 652 بچوں کے اغواء اور لاپتہ ہوئے ،سب سے زیادہ لاہور میں 312 بچے اغواء ہوئے ۔ راولپنڈی 62، فیصل آباد 27، ملتان 25، سرگودھا میں 24 بچے اغواء ہوئے ۔
بچوں کے اغوا ء کا دوسرا مقصد جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہوتی ہیں کو اغوا ء کر کے بیچ دیا جاتا ہے۔ انسانی تجارت کے لیے اغوا ء کیا جاتا ہے ۔اس کاروبار میں بہت ہی طاقت  ور اور کرپٹ مافیا  ملوث ہیں ۔جو بچوں کو خریدتے ہیں وہ اپنے مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ غلامی کے لیے خریدے جاتے ہیں ۔ان سے مشقت لی جاتی ہے ۔جنسی ہوس پوری کی جاتی ہے ۔انہیں تربیت دے کر کسی قوم و ملک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیاجاتا ہے ۔ایسا صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے ۔تاریخ بتاتی ہے ۔ایسے بچوں (لڑکیوں اور لڑکوں) کی باقاعدہ منڈیاں لگتی تھیں جہاں ان کو بیچ دیا جاتا تھا ۔بولی لگائی جاتی تھی ۔آج بھی یہ کام ہو رہا ہے ۔اسی مقصد کے لیے بچوں کو اغوا ء کیا جاتا ہے ۔بچوں کے اغوا کا معاملہ میڈیا اور حکومت کو اُس وقت نظر آیا جب اقتدار میں بیٹھے بڑے بڑے لوگوں کے بچے اغوا ہوئے ہیں۔

کیونکہ عام  غریب والدین کے اغوا کا معاملہ  یہ کہہ کر رفع دفع کیا جاتا تھا کہ والدین نے اپنی مرضی سے بچوں کو بیچا ہے۔اس وقت پاکستان میں معصوم بچوں کی خرید و فروخت  زور شور سے  نہ صرف جاری  ہے بلکہ باقاعدہ  بیع نامہ پیش کیا جاتا ہے۔اس بیع نامہ کا ریکارڈ نہ صرف  حکومت  کو پتہ ہے بلکہ  میڈیا کو اغوا کاروں کا با  خوبی علم ہے۔لیکن بات وہی  کی وہی ہے  ذمہ ادارے مسلسل خاموش ہیں ۔اس خاموشی کا مطلب کیا ہے؟

صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اس گھناؤننے  کھیل کے پیچھے بہت طاقت ور  ہاتھ شامل ہیں۔جن پر ہاتھ ڈالنے کا مطلب  میڈیا میں بیٹھے ہوئے کچھ سفارشی لوگ جن کا مقصد  عوام کے لیے آواز اُٹھانا نہیں ہے بلکہ پیسے کمانا اور درندوں کو بچانا ہے۔اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوٹوں کا  مقصد صرف  اور صرف  درندوں کی نسل  کو پروان چڑھانا ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s