Uncategorized
Leave a Comment

کوئٹہ میں خون ریزی


تحریر:ساحرہ ظفر

اتنے تو کفار نے بھی نہ مارے ہونگے

جتنے مارے ہیں مسلمان ،مسلمانوں نے

اتوار کی چھٹی کے بعد سوموار کا دن کام کرنے والے خواتین و حضرات کے لیے باقی دنوں سے نہ صرف ذیادہ  آرام دہ ہوتا ہے بلکہ اس دن  ہر ایک نئے جوش جذبے سے کام کا آغاز کرتا ہے۔

ہر خوبصورت صبح کے بعد 8 اگست  کو بھی سوموار کا دن اور ایک نئی  صبح اور نئے ارمان اور آج کا دن گزرے ہوئے دنوں سے کہیں بہتر کی اُمید سے سب  کام کرنے والے والے  لوگ اپنے کام کی طرف رواں دواں ہو گئے ۔

ان سب لوگوں میں سے ایک ایسا نام بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی بھی اپنے کام   کی غرض سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے کہ اچانک پیر کی صبح ہی کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

صدر بلال انور کاسی کی میت کو جب سول ہسپتال میں لایا گیا تو   بڑی تعداد میں وکلاءبرادری نے اپنے ہمنوا  کو آخری کندھا دینے کے لیے ہسپتال کا رُخ کیا لیکن  قوم کے یہ  مستقبل  یہ نہیں جانتے تھے کہ آج ملک کے غداروں نے  ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سوچ لیا ہے۔

 اچانک زور دھماکہ ہوا تو جہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی

اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں سماء ٹی وی کے کیمرہ مین ملک عارف اور کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔

8 اگست دو ہزار سولہ کو وہی جگہ وہی حالات  پھر اس دفعہ 2010 کی تاریخ کو دُہرایا گیا لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ اُس وقت 10 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور آج غداروں نے اُس سے تین گُنا زیادہ  معصوم افراد کو شہید کیا ہے۔

پیر کی صبح شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر  ایک زور دار دھماکہ  ہوا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں 71 ہلاکتوں کے بعد صوبے میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

سول ہسپتال کے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 71گئی ہے اور 110 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ شدید زخمی ہونے والے 28 افراد کو خصوصی جہاز کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔

دھماکے میں اندازاً آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔کوئٹہ میں انسانیت نام پر لگے ہوئے دھبے میں سے کچھ دھبوں نے خون کی ایسی ہولی کھیلی کہ ہر انسانیت رکھنے والے کی روح کانپ اُٹھتی ہے۔لیکن یہاں ایک سوال جو ہر ذی شعور کے لیے لمحہ فکریہ بن گیا ہے کہ آخر وہی تاریخ واپس دُہرائی گئی ہے۔کیا اس میں ملک دشمن عناصر کے ساتھ ساتھ ہمارے حاکم صاحبان کا  ہاتھ  بھی شامل ہے ؟

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s