Uncategorized
Leave a Comment

ہم نے کیا دیا؟


 

قلم اُٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں

 اک شخص کی محنت سے ملتیں تشکیل پاتی ہیں۔

اللہ تعالی نے انسان کو سب سے اعلی مخلوق بنا کر  دُنیا میں بھیجا اور  اُسے صاف اور واضح الفاظ میں  کہا   اب جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ ۔تلاش کرو غوروفکر کرو۔ پرانے زمانے میں انسان پتوں کا لباس بنا کر پہنتا تھا ۔ اور  جھونپڑیوں  میں رہتا تھا۔آہستہ آہستہ انسان نے غوروفکر کی اور اپنے رہن سہن کو   وقت کے ساتھ ساتھ بڑھاتا  چلا گیا۔

اور آج انسا ن اچھے اور بڑے گھروں میں رہنا شروع ہو گیا۔اس طرح جس طرح انسان کے رہنے کے لیے چھت ضروری ہے ۔اس طرح کسی بھی شہری کے لیے اُس کا ملک اُس کی چھت ہوتی ہے۔اور جس کے پاس یہ چھت نہیں ہوتی وہ ذہنی ،جسمانی اور جبری طور پر غلام رہتا ہے۔

غلام ہمیشہ چھت والے کا حکم مانتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے ہر حکم پر عمل کرتا ہے۔چاہے اُسے وہ پسند ہو یا نہ ہو۔

بطور پاکستانی میں اور میرے ہم وطن  اس لحاظ سے بہت زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس چھت ہے اور ہم برملا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے آباؤاجداد نے ہمارے لیے بہت ساری قربانیاں دے کر اس  وطن  کو حاصل کیا اور ہمیں بغیر کسی معاوضے کے دیا ۔

لیکن   بنانے والے عظیم لوگ ہمیں چھت دے گئے اور اُس کے بعد ہم نے کیا کیا ؟ہم نے کتنا حصہ اس میں ڈالا ہے؟اس سب باتوں کا ایک ہی جواب مجھے ملا کہ میں اور میری قوم اور  سب سے بڑا اور ذمہ دار ادارہ میڈیا   اس  وقت صبح شام  باقاعدہ یہ اعلان کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ  جو چھت ہمارے بڑوں نے مشکل سے دیا  تو بدلے میں ہم نے اس ملک میں بہت سارے گروپس کو مشہور کیا ہے۔صبح شام ہم واہ واہ کر رہے ہیں اُن کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہم یہ بتا رہے ہیں کہ ہم آپ سے بہت ڈر رہے ہیں۔اغوا کار گروپ جن کا مقصد  بچوں کو اغوا کرنا اور اُنہیں کاٹ کر آگے بیچنا اور معاوضہ  کمانا   چھرا گروپ جن کا مقصد خواتین کو مارنا   کیوں مار رہے ہیں اس کا مقصد شاید اُن کو خود معلوم نہیں ہے۔مولوی گروپ جس کا مقصد پاکستانی خواتین پر فتوٰی لگانا اور تشدد کے  آسان اور مختصر  طریقے  بتانا تاکہ خواتین اپنی حد میں رہیں۔طالبان  گروپ جس کا مقصد دھماکے کرنا اور بے گناہ لوگوں کو  مارنا۔میڈیا کا ایک سپیشل گروپ جس کا مقصد صرف اور صرف گورنمنٹ  کی تعریف کرنا  ۔۔۔

ان 69 برسوں  میں ہم نے اس وطن کو گروپس کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔لیکن اب بھی  ہم اس وطن کو اپنے آباؤاجداد کے سوچے گئے  سپنوں   کے مطابق ڈھال سکتے ہیں ۔اگر  اس طرح کے گروپس کو  ہم ظاہری طور پر  فروغ دینے کی بجائے اندرونی طور پر ہم ایک ایسا سسٹم بنائیں جس سے  ایسے لوگوں کو سزا دی جائے جو چھت کی قدر نہیں کر رہے ہیں۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s