Uncategorized
Leave a Comment

کانگو وائرس


تحریر:ساحرہ ظفر

اس وقت پاکستان میں جہاں کئی خطرات منڈلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وہاں ایک وائرس جو انسانی مخلوق کو لقمہ اجل بنا رہا ہے۔یہ وائرس کیا ہے؟کیسے پاکستان آیا اور اس کی نشانیاں کیا کیا ہے۔اس کے بارے حتی امکان  کوشش کی کی گئی کہ اس سے انسانوں کو بچا جائے لیکن کہتے ہیں نہ کہ قطرہ قطرہ دریا بناتا ہے۔

پاکستان میں سال 2002 ء میں کانگو وائرس کی وجہ سے سات افراد لقمہ اجل بنے تھے جن میں ایک نوجوان لیڈی ڈاکٹر اور4کمسن بچے بھی شامل تھے۔ اس نے عام شہریوں سمیت ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی شدید خوف زدہ کر دیا تھا۔محکمہ صحت کے مطابق پچھلے سال(2015) بلوچستان میں کانگو وائرس کے 56 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 12 خواتین بھی شامل تھیں۔اس خطرناک وائرس سے 13 مریضوں نے دم توڑ دیا

اب 2016 میں متعد افراد اس وائرس کے ذریعے لقمہ اجل بنے ہیں۔اور  اب بھی بڑی تعداد میں عام شہری اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔

کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور

یاکریمین ہیمریجک کانگو بخا  ر ہے ۔یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔

اس وائرس کی چار اقسام ہیں۔-

ڈینگی وائرس

ایبولا وائرس

لیسا وائرس

ریفٹی ویلی وائرس

اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور جنوبی امریکہ ‘مشرقی یورپ‘ایشاء اورمشرقی وسطی میں پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتہ انہی علاقوں سے چلا اسی وجہ سے اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔سب سے پہلے1944کو کریمیا میں سامنے آنے کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

کانگو ایک کیڑا ہے۔

ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکس

مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کانگو میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔ ۔تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

اس وائرس کا پاکستان میں بسیرا  کیے ہوئے تقریبا 4 سال سے زائد بیت گئے ہیں۔لیکن اس کیے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیے گئے ہیں۔جس سے اس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکے ۔اس کے خاتمے کے لیے ہمارے ساتھ ساتھ میڈیا اور ذمہ دار اداروں کو آواز اُٹھانی پڑے گی تاکہ اس وائرس کا جلد خاتمہ کیا جا سکے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s