Uncategorized
Leave a Comment

گیلی لکڑی


ساحرہ ظفر

ایک اُستاد  ایک شہزادے کی تربیت کیا  کرتا تھا ۔ اس کی بہت ہی سخت تربیت کرتا اور دوسرے بچوں کے مُقابلے میں بادشاہ کے بچے کو ہر مُشکل  سے گزارنے کی مکمل کوشش کرتا۔ ایک مرتبہ بیٹے نے نڈھال ہو کر اپنے باپ سے شکایت کی اور اپنے دکھتے جسم  کو اپنے باپ  کے سامنے پیش  کیا اور اپنے باپ کو بتایا کہ اُس کا اُستاد اُس سے بہت محنت مشقت کرواتا ہے۔  اور دُوسرے بچوں کے مقابلے میں اس سے سخت رویہ رکھتا ہے۔

باپ کے دل کو بہت تکلیف ہوئی ۔

اس نے استاد کو بلایا اور کہا !

تم عام رعایا کے بیٹوں سے اس قدر سرزنش اور سخت سلوک روا نہیں رکھتے جس قدر میرے بیٹے سے رکھتے ہو ؛ اس کی کیا وجہ ہے ؟

اس نے کہا

وجہ یہ ہے کہ سنجیدہ بات اور اچھا عمل کرنا سب مخلوق کےلئےعام طور پر اور بادشاہوں کےلئے خاص طور پر ضروری ہے ۔ اسلئےکہ جو قول و فعل ان  بادشاہوں  سے سرزد ہوتا ہے یقینا لوگ اسے اپنا لیتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے قول و فعل کو اس قدر اہمیت حاصل نہیں ہوتی ۔

اگر کوئی غریب آدمی ایک سو ناپسندیدہ باتیں کرے تو اس کے ساتھی سو میں سے ایک بھی نہیں جانتے ۔

اور اگر کوئی بادشاہ ایک مذاق کرے تو اسے ایک خطے سے دوسرے خطے میں پہنچا دیتے ہیں ۔

پس واجب ٹھہرا کہ شہزادے کے استاد کو بادشاہوں کے بیٹوں کی اخلاقی شائستگی کےلئے، کہ خداوند تعالی ان کی نیک تربیت میں پرورش کرے ، عوام کی نسبت زیادہ کوشش کرنی چاہیئے ۔

وہ جس کو اس کے بچپن میں تربیت نہ کریں ، بڑے ہو کر بھلائی اس سے جاتی رہتی ہے ۔

گیلی لکڑی ( چھڑی ) کو جیسے چاہو موڑو ، خشک لکڑی آگ کے سوا کہیں سیدھی نہیں ہوتی

بادشاہ کو عالم کی حسن تدبیر اور جواب کی ادائیگی پسند آئی، اسے نعمت اور خلعت عطا کی اور اس کا رتبہ اور عہدہ بڑھا دیا

شیخ سعدی نے اپنی اس خوبصورت حکایت  میں آج کے انسان کی درست تصویر کھینچی ہے۔آج کے معاشرے کی اگر بات کی جائے تو ہمیشہ ہم کسی بادشاہ ،عالم ،وزیر گو کہ ہر اُس انسان کے بچوں کی تربیت  جو رعایا کے لیے  ایک رول ماڈل کی حثیت رکھتا ہو اُس انداز سے اُستاد  کرتے ہیں  جیسے کے  اُس کے غلام ہوں۔۔

کچھ کہتے ہوئے اکثر اس  لیے ڈرتے ہیں کہیں ہمیں اپنی نوکری سے ہاتھ نہ دھونا پڑے

اس حکایت میں آج کے انسان کی روش کو واضح طور پر پیش کیا ہے۔خصوصا ہمارے معاشرے میں  بڑے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے ۔اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں ہوتی کہ  جب کوئی قانون نافذ  کرنے والا کسی بڑے کو    یہ  کہتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔تو بڑا ہر دفعہ اُس کو یہ کہہ کر چُپ  نہیں کراتا کہ میں معاشرے کا بڑا بندہ یا بندی ہوں۔

بلکہ ذمہ دارار لوگ جن کا انسانی مخلوق سے گہرا تعلق وابستہ ہے۔جن کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے کہ اُن کو اقتدار کے ذریعے یا وراثت کے ذریعے  عوام کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔اُستاد کے ساتھ اُن کو بھی چاہیے کہ وہ  آنے والے رول ماڈل کی خدمت  اس انداز سے کرے کہ نئی نسل کا نیا منتخب ہونے  والا  صاحب اقتدار  بادشاہ کے بیٹے کی طرح ہر مشکل اور ظلم ستم کو برداشت کرنے والا  نہ ہو بلکہ اس کے خلاف آواز اُٹھانے والا ہو۔۔کیونکہ گیلی لکڑی کو جیسا موڑو گے جیسا بناؤ گے بن جائے گی۔۔لیکن سوکھی لکڑی   مڑتی ہیں بلکہ ٹوٹ جاتی ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s