Uncategorized
Leave a Comment

تقدیر


 

تحریر:ساحرہ ظفر:

کاش  دروازہ خود ہی بند ہو جائے۔اب  بار بار نہیں اُٹھنے ہوتا ۔میں ٹی کے آگے بیٹھے مسلسل اس  کشمکش میں مبتلا تھی کہ کوئی ہو جو دروازہ بند کر دے۔خیر اسی سوچ  میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی تھی۔

ٹی وی لگا اور کُھلا دروازہ میں سب بھول گئی تھی۔صبح اذان کی آواز سے جب میری آنکھ کھُلی تو  عجیب کمرے کا ماحول تھا۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک دم میرے رونگھنٹے کھڑے ہو گئے۔آؤ دیکھا نہ تاؤ باہر کی طرف بھاگی تو سب سو رہے تھے۔میرا گھر سڑک کے قریب ہونے کی وجہ سے  عموما اماں الارم کی طرح مجھے وقتا فوقتا  یہ بات ضرور یاد دلاتی ہوتی تھی کہ کمرے کا دروازہ اچھی طرح بند کر لیا کرو۔خیر اماں کی بات کو کبھی دل و دماغ میں نہیں بٹھایا ۔

کمرے کے حالات دیکھ کر میں یقین سے کہہ سکتی تھی کہ آج اماں کی بات سچ ہو گئی ہے۔آج کمرے کا چور نے صفایا کر دیا ہے۔لیکن میں اماں کو کیا بتاؤ گی کہ میں دروازہ کُھلا چھوڑ کر سو گئی تھی۔۔

نہیں نہیں  کچھ نہیں بتاتی اماں نے پھر چُپ نہیں ہونا اماں اتنی سخت اور بہادر خاتون ہیں کہ وہ تھپڑ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتی ہیں۔

خیر اماں نماز کے بعد میرے کمرے میں آئی اُن کے آنے سے پہلے میں کمرے کو بہترین طرح ٹھیک کر چُکی تھی۔اماں بیٹا کیسی گزری آپکی رات جی اماں بہت اچھی لیکن نہ جانے کیوں مجھے لگ  رہا تھا کہ  اماں کو فورا پتا چل گیا ہے کہ آج دروازہ کُھلا ہوا تھا۔

اچھا  بیٹا ذرا مجھے پرس دینا جو پچھلے ہفتے میں نے تمھیں دیا تھا اُس میں میرے کچھ پیسے تھے جو میں نے  ساتھ والی باجی کو آج دینے ہیں۔میں اُٹھی اور فورا الماری کھولی  تو میرے ہوش جیسے اُڑ گئے ہوں الماری میں ہر چیز بکھری ہوئی تھی اور اماں کا پرس کیا کہ میری بہت ساری قیمتی  چیزیں غائب تھی۔اب میں اماں کو کیا جواب دوں گی کہ یہ  سب میری سُستی ہے یا پھر  نالائقی۔

اماں جلدی کرو۔ سسکتے   ہاتھوں  اور دبی آواز سے   میں بولی اماں۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اماں اماں لگا رکھی ہے پرس دو

 

لیکن اماں یہاں تو کوئی پرس نہیں ہے ۔

اماں ایک دم اُٹھی اور میرے قریب آ کر بولی کیا مطلب ہے تمھارا کوئی پرس نہیں ہے۔

تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے نا  تم جانتی ہو نا باجی کی امانت تھی۔

اماں دراصل بات یہ ہے کہ  رات کو میرے کمرے کا دروازہ کُھلا رہ گیا تھا ۔مجھے لگتا ہے کہ رات کو ضرور کوئی چور آیا تھا۔

اب اماں  کیا ہو سکتا ہے  شاید تقدیر میں یہی لکھا ہوا تھا۔جو ہو گیا ہے ۔

یعنی تم اس لا پرواہی اور اپنی نااہلی کو تقدیر کا لکھا ہوا کہہ رہی ہو ،

ٹھیک ہے  تقدیر میں لکھا ہو گا اور جو تقدیر میں لکھا ہوتا ہے ہو کر رہتا ہے۔یعی پیسے جو چور لے کر گئے ہیں ہو سکتا  ہے کسی  اچھے کام کے لیے تقدیر میں لکھے ہوں ۔لیکن تقدیر میں یہ نہیں لکھا ہوتا ہے کہ آپ اپنی چیز کو بچانے کے لیے محنت ہی چھوڑ دیں لا پرواہی سے کام لیں۔ دروازہ کُھلا ہی چھوڑ کر سو جائیں ۔تقدیر میں لکھی ہر چیز اُس   تالے کی  مانند ہوتی ہے جو چابی کے بغیر کُھل نہیں سکتا اور چابی گم ہو جائے تو  کمرے کے اندر جانے کے لیے ہمیں تالہ توڑنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر ہم باہر بیٹھ کر یہ سوچیں کہ  تقدیر میں لکھا ہوا تھا کہ چابی گم ہوجائے  گی اور ہم باہر بیٹھ کر انتظار کرتے رہیں گے۔ایسا ہر گز نہیں ہوتا  برا اور اچھا  جو بھی تقدیر میں لکھا ہو زیادہ محنت اور کوشش سے اچھا مزید اچھا ہو جاتا ہے اور بُرا بھی اچھا ہو جاتا ہے صرف محنت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں جو تقدیر میں لکھا ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے ہو کر رہتا ہے۔لیکن   محنت تقدیر میں لکھے کو  برتر سے بہتر   ضرور  بنا دیتی ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s