Uncategorized
Leave a Comment

لمحہ شکریہ یا لمحہ فکریہ


سید حماد رضا

کل شام جب آفس سے گھر کی جانب روانہ ہوا تو راستے میں ایک معصوم سی گڑیا نظر آئی۔اس کی عمر قریب چھ سال تھی، کاندھے پہ بیگ، چھرے پہ ٹیچر کی جانب سے دیا گیا ستارہ اور ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔ اپنے بابا کی انگلی تھامے وہ اچھلتی کودتی اپنے گھر کی جانب روانہ تھی۔ میں رکا، شفقت سے اس کے سر پے ھاتھ پھیرا اوا اپنے جیب میں پڑی واحد ٹافی اس کو پیش کی۔ اجازت بھری نگھا ہوں سے اس نے اپنے والد کی جانب دیکھا، والد کی اجازت کے بعد ہاتھ آگے بڑھایا- میں نے ٹافی اس کے ھاتھ پہ رکھی اور بدلے میں وہ اپنی معصوم سے مسکراھٹ دے کے اپنے والد کے ساتھ آگے روانہ ہو گئ- ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ ایک اور معصوم گڑیا نظر آئی، اس کی عمر بھی تقریبا چھ برس کے آس پاس تھی اور وہ بھی اپنے باپ کا ہاتھ تھامے چل رہی تھی۔ لیکن اس کے کاندھے پہ بیگ نہیں تھا، نہ ہی چہرے پہ کوئی ستارہ اور ہاتھ میں پانی کی بوتل کی جگہ کشکول تھا۔ میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو یاد آیا کہ اس میں پڑی واحد ٹافی تو میں پہلے ہی دے چکا ہوں۔ پر اس کی ضرورت ایک ٹافی سے بہت بڑی تھی جو اس کے چہرے پہ چھائے گہرے سناٹے اور مایوسی سے صاف ظاہر تھی۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بیس روپے کا نوٹ نکال کے اس کے ہاتھ پہ رکھا، دوسری بچی کے برعکس اس نے اپنے باپ کی جانب اجازت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا بلکہ مجھ سے وہ نوٹ لیا اور آگے چل پڑی۔ میں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس قدر نعمتوں سے نوازا ہے مگر ساتھ ساتھ میرے ذہن میں بہت سے سوالات بھی امڈ پڑے تھے۔ میں اس سوچ میں الجھا ہوا تھا کہ جس بچی کے کاندھے پہ کتابوں سے بھرا بستہ اور ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے وہ کشکول لیے کیوں پھر رہی ہے؟ اس کا باپ جو اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس کی بچی کو کبھی ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں وہ خود ہی اس کو کشکول تھمائے کیوں بھیگ منگوا رہا ہے؟ کیا اس معصوم بچی کے کوئی ارمان نہیں اور اگر ہیں تو ان کا قاتل کون ہے؟ آیا وہ معاشرہ ہے یا پھر اس کا اپنا باپ؟ آیا وہ اور اس جیسے کئی بچے انسانیت کے نام پہ بھیگ مانگ رہے ہیں یا بھیگ کہ نام پہ انسانیت؟ اور کیا مجھ جیسے لوگوں کے لیے لمحہ شکریہ ہے یا لمحہ فکریہ؟ یہ وہ تمام سوال میں جن کا جوابوں کا متلاشی ہوں، اگر قارئین میں سے کوئی ان سوالوں کے جواب دے پائے تو۔۔۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s