Uncategorized
Leave a Comment

کوئٹہ میں پھر خون ہی خون


تحریر:ساحرہ ظفر

چھوٹا سا بمشکل ڈھائی مرحلے کی جگہ میں   اوپر نیچے دو کمرے جن کو امی جان ہمیشہ گھر کا نام دیتی تھی۔گھر کی کچھ آرائش و زینت  مکمل طور پر ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔امی جان  مستری چاچا زینو کا  ہاتھ بٹاتی تھی کہ گھر  کا کام جلدی جلدی ہو جائے تاکہ جلد ہی اامی  اس گھر پر اپنے نام کا  بورڈ آویزاں کر سکیں۔

گھر کے اتنے کام ہونے کے باوجود امی نے ایک گملے میں ایک آم  کا بیج بویا تھا۔جو  ہمارے  اب تک کہ کرائے کے تیسرے گھر میں شفٹ ہونے کے باوجود بھی امی پوری نگرانی  اور باحفاظت  طریقے سے اس کو ساتھ ساتھ لے کر جاتی ۔ ااکثر مالک مکان امی کو اگر گملے کی مٹی یا جگہ کی شکایت کرتے تو امی فورا لڑائی کرتی اور جلد ہی اُس کا گھر خالی کرنے کی دھمکی دیتی۔

آج جب برسوں بعد امی اپنا چھوٹا سا گھر بنانے میں کامیاب ہو گئی تو تب بھی امی  نے اس  پودے کو پوری خوشی اور درست حالت میں اپنے گھر کی زینت بنایا

۔

ہر روز امی پودے کو دن میں دو تین بار دیکھتی  پانی دیتی اور بار بار اُس کو اُٹھا کر روشنی کی جگہ پر رکھتی۔امی پڑھی لکھی نہ  ہونے کی وجہ سے پودوں کی حفاظت کے لیے خریدی گئی  کتابچہ مجھے دیتی اور مجھے اونچی آواز میں پڑھنے کا کہتی تاکہ وہ اپنے پودے کی بہتر طریقے سے حفاظت کر سکیں۔

امی  سے میں  جب بھی پوچھتی امی آپ کیوں آخر اس پودے کی حفاظت کرتی ہیں۔آپکو اتنا یقین ہے کہ آپ اس کا پھل کھا سکیں گی امی اور کہتی مجھے پتا ہے میں اس کا پھل نہیں کھا سکوں گی لیکن اتنا ضرور یقین ہے کہ اس کا پھل میرے بچے ضرور کھائیں گے۔

کل 23 اکتوبر 2016 کی شام کو بے رحم اور  بزدل دشمن نے 61 ماؤں کے لخت جگر کو گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کیا۔میری امی نے ایک پودے کو ایک بیج سے لیکر  پودے تک کس کس مشکل سے پالا تھا ایک پودے کی پروش ایسی کی کہ اُن کو یقین تھا کہ میرا ملک اس سے فائدہ اُٹھائے گا۔

لیکن سفاک دشمن جس نے یہ تک نہیں سوچا کہ اُن 61 ماؤں پر کیا گزرے گی جب اُن کو پتا چلے گا کہ آج پاکستان کے مستقبل کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا

مارنے والا بھی انسان مرنے والا بھی انسان انسانیت کی دھجیاں اُڑانے والا بھی انسان

حدیث میں ہے کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن میرے  مسلمان ملک میں شاید میرے  مسلمان حکمرانوں کو اس کا مطلب سمجھ  نہیں آتا ہے یا  پھر اگر نظر  بھی آتا ہے تو صرف پاکستانی عوام کے لیے عام معصوم غریب لوگوں کے لیے

کیونکہ  حکمرانوں کے بچے محفوظ محلوں  اور پرسکون مقامات پر رہ رہے ہیں۔ جہاں دور دور تک عام لوگوں کا گزر تو دور کی بات  نظر تک نہیں پڑتی ۔

وزیر داخلہ بلوچستان نے یہ تو ضرور بتا دیا کہ  کس طرح آپریشن ہوا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کب تک مائیں اپنے بچوں  سے بہنیں اپنے بھائیوں سے بچے اپنے والدین سے  اور وطن اپنے مستقبل سے یوں محروم ہوتا رہے گا؟

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s