Uncategorized
Leave a Comment

اب بلوچستان


 

تحریر ساحرہ ظفر

پاکستان پانچ صوبوں پر مشتمل  اسلامی سرزمین ہے۔بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہےجو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔

اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی آبادی 1998ءکی مردم شماری کے مطابق 65لاکھ65ہزار885 پر مشتمل تھی ۔اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے ۔قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خيبر پختو خواہ، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ و پنجاب اور مغرب میں ایران واقع ہے ۔اس کا 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔

ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دارالحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے- بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے- افغانستان زابل کے علاقہ میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

8 اگست 2016 کو  بلوچستان میں ڈاکٹرز اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد کو شہید کیا گیا پھر  ستمبر اکتو بر میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات ہوئے جس میں کافی جانی اور مالی نقصان ہوا خاص طور پر عوام کی محافظ پولیس کو نشانہ بنایا گیا جس میں تقریبا 50 کے لگ بھگ جوان پو لیس اہلکار شہید ہوئے تھےاور اب 12 نومبر 2016 کو پھر  شاہ نورانی کے مزار پر حملہ ہوا ہے جس میں اب تک 70 سے زاہد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

یہ ایک خوفناک اور لرزہ خیز واقعہ بلوچستان  میں ہوا۔غریب لوگ اپنی خواہشات ،دُعااور قرآن خوانی  کے لیے عقیدت کے طور پر وہاں جاتے ہیں۔معصوم اور لاچار  لوگوں پر حملہ بربریت،سفاکی ،جاہلیت  اور انسان دشمن کا  بدترین واقعہ ہے جس کو مورخ ہمیشہ بدترین انسان دشمن کے طور مورخہ میں لکھے گا۔

شاہ نورانی مزار میں کبھی  بھی سیکورٹی کی ضرورت پیش نہیں آ ئی  اور نہ ہی کبھی مزار پر کوئی سیکورٹی رکھی گئی نہ صرف پاکستان میں بلکہ دُنیا کے ہر ممالک میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے  ہیں  جن کو مکمل آزادی حاصل  ہے ۔

مذہب ذاتی معاملہ ہے، ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ الفاظ بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی اس تقریر کا متن ہےجو انھوں نے 66 سال قبل 11 اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں کی تھی۔

بلوچستان میں قتل و غارت کا کھیل مسلسل جاری ہے آئے دن انسانیت کا خون بہایا جا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت مکمل طور پر ناکامی کا ثبوت پیش کر رہی ہےجب کہ دوسری طرف انسانیت کے نام پر انسان ہی انسانوں کا قتل کر رہا ہے اور انسان بالکل انسانوں کے قتل پر خاموش ہے۔

 

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s