Uncategorized
Leave a Comment

سکول کا سفر


تحریر: یہ تحریر ایس ایل ایل پی کے شاگرد وقاص خان کی ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیوٹا کمپنی میں  کام کررہے ہیں۔

سکول کس چیز کا نام ہے؟سکول کے نام کا مطلب کیا ہوتا ہے؟سکول کی بنیاد کس مقصد کے بنا پر رکھی جاتی ہے؟سکول میں کیا کیا ہوتا ہے؟اچھے سکول کی کیا پہچان ہوتی ہے؟اچھا سکول مکمل کیسے ہوتا ہے؟سکول بنتا کیسے ہے؟آج کے سکولوں میں اور پرانے سکولوں کیا فرق تھا؟

ہمیشہ ہمارے بڑے یہ کہتے رہتے ہیں  ہمارے سکولوں کی بات ہی کچھ الگ ہوا کرتی تھی لیکن اب کے سکولوں میں  وہ بات نہیں رہی ہے۔لیکن ابو جی میں بس اتنا  جاننا چاہتا ہوں وہ بات کیا تھی جو اب کے سکولوں میں نہیں ہے۔

پہلے زمانے میں جب کبھی کسی سکول یا گاؤں میں یہ پتہ لگ جائے کہ سکول بننے والا ہے تو وہاں کے مقامی لوگوں کی تو جیسے عید ہو جاتی تھی مرد  عورتیں بچے مارے خوشی کے بے حال ہو جاتے تھے۔لیکن آج کے زمانے میں سب کچھ ہونے کے باوجود گلی گلی محلے  میں سکول،سکولوں کے نام خوب پیسہ کما رہے ہیں لیکن نہ ہی بچوں کو پڑھنے کا شوق ہے اور نہ ہی والدین کے اندر وہ شوق اور عزم ہے کہ ہم نے اپنے بچے کو پڑھانا ہے یہ ہیں آج  کے سکولز اور وہ تھا گزرے زمانے کا سکول ۔

ابو کے مطابق سکول اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں تعلیم د ی جائے  یا کچھ سکھایا  جائے ایسی جگہ کو سکول کا نام دیا جاتا ہے۔

سکول کی بنیاد ہم صرف سچ کی بنیاد پر رکھتے ہیں سکول بنانے کا مقصد ہمارے معاشرے ہمارے ملک میں آگاہی ہو ہمیں اپنے حق کا پتہ ہو ہمیں اچھائی اور بُرائی کی پہچان ہو ۔سکول ایک ایسا پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں ہمیں اپنے آپ کو تراشنے اور نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔.

اب رہا سوال اچھے سکول کی پہچان کسی بلڈنگ سے نہیں ہوتی ہے جب ابو جان کے زمانے کے سکول ہوتے تھے تو بڑی بڑی بلڈنگ بنائی جاتی تھی جس میں سیروتفریح کے لیے ایک بڑا میدان ہوتا تھا اور ہر کلاس کا اپنا الگ الگ کلاس روم ہوا کرتا تھا۔اُستاد خوشگوار ماحول میں پڑھاتے تھے کبھی بھی اُستاد یہ سمجھ کر نہیں پڑھاتے تھے کہ سر سے ٖفرض ادا کرنا ہے  اور بس

سکول بنانا گورنمنٹ کا  کام ہوتا لیکن افسوس آج ہماری گورنمنٹ صرف اپنے گھر بنانے میں لگی ہوئی ہے امیر زادے صرف اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے  پرائیویٹ سکول بنا رہے ہیں۔

ان سب حالات اور واقعات کے دیکھنے کے بعد میرے سکول کا سفر کچھ الگ  تھا۔میں نے ایس ایل پی سکول میں جب داخلہ لیا تو مجھے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا تھا میں بات بات پر شرماتا تھا میں پڑھانے والے اساتذہ کا مذاق اُڑاتا تھا میں گلی کا ایک اوارہ اور بگڑا ہوا بچہ تھا جس کو گالی نفرت مذاق کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔لیکن آج میں نہ صرف اپنا نام لکھ سکتا ہوں بلکہ جس سے ملتا ہوں وہ مجھے ایک سلجھا ہوا اور پڑھا لکھا نوجوان  کہتے ہیں آج میری سوچ  گلی والے اُس آوارے لڑکے کی نہیں بلکہ ایک پڑھی لکھی اور سمجھنے سوچنے والی ہے

اچھے سکول کی پہچان کسی اُونچی بلڈنگ سے نہیں ہوتی بلکہ آپ کو کتنا سکھایا اور سکھانے کا عمل کتنا معیاری تھا اس سے ہوتی ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s